امریکہ میں 10 ملین ڈالر میڈیکیئر فراڈ اسکیم: دو پاکستانی نژاد افراد پر فردِ جرم عائد
امریکہ میں 10 ملین ڈالر میڈیکیئر فراڈ اسکیم: دو پاکستانی نژاد افراد پر فردِ جرم عائد
امریکہ میں 10 ملین ڈالر میڈیکیئر فراڈ اسکیم: دو پاکستانی نژاد افراد پر فردِ جرم عائد
نیویارک ( اردو نیوز ) یو ایس جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق فیڈرل عدالتشکاگو میں ایک فردِ جرم عائد کی گئی ہے جس میں دو غیر ملکی شہریوں پر تقریباً 10 ملین ڈالر کی ہیلتھ کیئر فراڈاسکیم میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر میڈیکیئر اور نجی انشورنس کمپنیوں کوایسی طبی سہولیات کے بل بھیجے جو درحقیقت فراہم ہی نہیں کی گئیں۔
فردِ جرم کے مطابق 2023 اور 2024 کے دوران برہان مرزا اور کاشف اقبال نے اپنے دیگر ساتھیوںکے ساتھ مل کر نامزد (نومنی) مالکان کے نام پر قائم لیبارٹریز اور ڈُوریبل میڈیکل ایکوئپمنٹ فراہم کرنےوالی کمپنیوں کے ذریعے جعلی کلیمز جمع کرائے۔ ان کلیمز میں ایسے طبی آلات اور خدمات شامل تھیں جو کبھیمریضوں کو فراہم نہیں کی گئیں۔
استغاثہ کے مطابق 31 سالہ برہان مرزا، جو پاکستان کا رہائشی ہے، نے افراد، ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز اورانشورنس کمپنیوں کی شناختی معلومات ان کی لاعلمی میں حاصل کیں اور انہیں جعلی دعوؤں کی حمایت میںاستعمال کیا۔ جبکہ 48 سالہ کاشف اقبال، جو لیوون، ٹیکساس میں مقیم تھا، مبینہ طور پر متعدد میڈیکلایکوئپمنٹ کمپنیوں سے وابستہ رہا اور فراڈ سے حاصل شدہ رقوم کو منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان منتقلکرنے میں کردار ادا کیا۔
امریکہ کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ محکمہ انصاف کے لیے فراڈ کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان نے میڈیکیئر جیسے پروگرام سے لاکھوں ڈالر نکال کر بیرون ملک منتقل کیے، جو کہامریکی بزرگوں اور معذور افراد کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
شمالی ضلع الی نوائے کے امریکی اٹارنی اینڈریو ایس باؤٹروس نے کہا کہ ہر جعلی کلیم دراصل کسی بزرگ یامعذور فرد کے حق پر ڈاکہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شکاگو میں قائم ہیلتھ کیئر فراڈ سیکشن ایسے عناصر کےخلاف کارروائی جاری رکھے گا جو سرکاری اور نجی طبی پروگراموں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ایف بی آئی شکاگو فیلڈ آفس کے اسپیشل ایجنٹ انچارج ڈگلس ایس ڈی پوڈیسٹا نے کہا کہ ملزمان کے ہر فراڈکلیم نے مستحق مریضوں کو ضروری طبی وسائل سے محروم کیا اور ٹیکس دہندگان کو مالی نقصان پہنچایا۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوام کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے آفس آف انسپکٹر جنرل کے اسپیشل ایجنٹ انچارج ماریوپنٹونے کہا کہ یہ اسکیم جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی تھی جس کے ذریعے لاکھوں ڈالر بیرون ملک منتقل کیےگئے، جس سے وفاقی ہیلتھ کیئر پروگرامز کی ساکھ متاثر ہوئی۔
فردِ جرم کے مطابق برہان مرزا پر ہیلتھ کیئر فراڈ کے 12 اور منی لانڈرنگ کے 5 الزامات عائد کیے گئے ہیں،جبکہ کاشف اقبال پر ہیلتھ کیئر فراڈ کے 12، منی لانڈرنگ کے 6 اور امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروںکو جھوٹا بیان دینے کا ایک الزام شامل ہے۔ دونوں ملزمان کی شکاگو کی وفاقی عدالت میں پیشی کی تاریخ تاحالمقرر نہیں کی گئی۔
اس کیس میں تین دیگر مبینہ ساتھیوں پر پہلے ہی فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور وہ صحت کی دیکھ بھال سےمتعلق وفاقی فراڈ کے الزامات میں جرم قبول کر چکے ہیں۔ ان میں میر اکبر خان (ویسٹ شکاگو)، فصیوررحمان سید (بھارت کے شہری) اور نوید رشید (پلانو، ٹیکساس) شامل ہیں، جو اس وقت سزا کے منتظر ہیں۔
استغاثہ کی جانب سے اس مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی برائن ہیز کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ فردِ جرم محض الزامات پر مشتمل ہوتی ہے اور تمام ملزمان کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تکبے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔



