عبادت کا مہینہ، آزمائش کی دنیا — کیا انسانیت جاگے گی؟
کیا ہم اس عید پر یہ عہد کر سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسی دنیا بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر انسان کو سکون، عزت اور اپنے عقائد کے مطابق جینے کا حق حاصل ہو؟
رمضان المبارک کی روحانی فضا میں جب دنیا بھر کے مسلمان صبر، عبادت اور اپنے رب سے قربت حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں، اسی وقت عالمِ اسلام کے مختلف خطے بے چینی، جنگ اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس مہینے میں رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کی بشارت دی جاتی ہے، اسی مہینے میں کئی گھروں کے چراغ گل ہو رہے ہیں اور کئی خاندان خوف اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اگر ہم دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو یہ کشیدگی کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔ ایشیا میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں، مشرقِ وسطیٰ میں فلسطین، یمن، شام اور ایران سے جڑے حالیہ تنازعات، افریقہ میں سوڈان اور دیگر ممالک میں بدامنی، یورپ میں جنگ کے اثرات، شمالی اور جنوبی امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی و معاشی کشیدگی، اور حتیٰ کہ آسٹریلیا جیسے خطے بھی عالمی اثرات سے الگ نہیں رہے۔ یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں امن کمزور اور تنازعات مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
خاص طور پر حالیہ دنوں میں ایران سے جڑا تنازع ایک نئی شدت اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران پر حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے تنصیبات شامل ہیں، جس سے نہ صرف خطے میں خوف و ہراس پھیلا بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ۔ ان حملوں اور جوابی کارروائیوں نے پورے خلیجی خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جہاں ہر نیا دن کسی بڑے تصادم کا اندیشہ لیے آتا ہے۔
رمضان کا مہینہ ہمیں بھوک اور پیاس کے ذریعے دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کا درس دیتا ہے، مگر افسوس کہ دنیا کے کئی حصوں میں لوگ صرف عبادت کے لیے نہیں بلکہ مجبوری میں بھوکے ہیں۔ جنگوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے، بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے، اور خاندانوں کو بکھیر دیا ہے۔
ان تنازعات کے اثرات عالمی معیشت پر بھی واضح ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہو گئی ہیں ۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور دیہاڑی دار طبقے پر پڑ رہا ہے۔ نیویارک سے لے کر کراچی، قاہرہ، استنبول، نیروبی اور ساؤ پاؤلو تک، عام آدمی ایک جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے: مہنگائی، بے یقینی، اور محدود وسائل میں زندگی گزارنے کی جدوجہد۔
اسلام کا بنیادی پیغام امن، رواداری اور انسانیت ہے۔ یہی پیغام ہمیں اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا میں بسنے والا ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی مذہب، فرقے یا ثقافت سے تعلق رکھتا ہو، اسے اپنی زندگی اپنے عقائد، مذہبی روایات اور مقامی رسم و رواج کے مطابق گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ایک پرامن معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف کو برداشت کیا جائے، نہ کہ اسے تصادم کا سبب بنایا جائے۔
ہم اس دنیا میں بہت مختصر وقت کے لیے آئے ہیں، اور شاید ہماری پیدائش کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں—خاص طور پر اُن لوگوں کی جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔
عید الفطر، جو رمضان کے اختتام پر منائی جاتی ہے، ہمیں صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ سوچنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کو خوشی دینے میں ہے، نہ کہ صرف خود خوش رہنے میں۔ یہ اتحاد، ہمدردی اور ایک نئی شروعات کا پیغام ہے۔
امن کے قیام کے لیے ہمیں اجتماعی اور انفرادی سطح پر سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں، سفارتکاری کو مضبوط کریں، اور انسانی جانوں کو اولین ترجیح دیں۔ مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں، نہ کہ تقسیم کا۔ اور ہم سب کو اپنی روزمرہ زندگی میں برداشت، احترام اور محبت کو فروغ دینا ہوگا۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ایک پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ہم دوسروں کے جینے کے حق کو تسلیم کریں چاہے وہ کسی بھی مذہب، قوم یا ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں۔ دنیا تب ہی خوبصورت بن سکتی ہے جب ہر انسان کو اپنے عقائد کے مطابق جینے، عبادت کرنے اور اپنی روایات کو برقرار رکھنے کی آزادی حاصل ہو۔
آج جب عید کی خوشیاں قریب ہیں، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہماری خوشی مکمل ہے جب دنیا کے کئی حصوں میں لوگ تکلیف میں ہیں؟ کیا ہم اس عید کو ایک نئے عہد کے ساتھ منا سکتے ہیں ایک ایسا عہد جو نفرت کے بجائے محبت، اور جنگ کے بجائے امن کو فروغ دے؟
آخر میں، میں تمام مسلمانوں اور دنیا کے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک اور عید کریم پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ یہ عید ہم سب کے لیے امن، خوشحالی اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آئے۔
کیا ہم اس عید پر یہ عہد کر سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسی دنیا بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر انسان کو سکون، عزت اور اپنے عقائد کے مطابق جینے کا حق حاصل ہو؟



