اوورسیز پاکستانیزپاکستان

نیویارک میں امیگرنٹ کمیونٹیز کے حقوق محفوظ ہیں، مئیر نیویارک ایرک ایڈمز

Mayor Adams Affirms: New York Is Committed to Protecting Immigrant Communities

نیویارک میں امیگرنٹ کمیونٹیز کے حقوق محفوظ ہیں، نیویارک میں امیگریشن (ICE) کو سکولوں ، ہسپتالوں ، مساجد اور عبادتگاہوں میں جانے کے واقعات نہیں دیکھے جا رہے ، نیویارک سٹی کا ”سینچوری سٹی “ سٹیٹس برقرار ہے

نیویارک (محسن ظہیر سے ) نیویارک سٹی کے مئیر ایرک ایڈمز نیویارک سٹی ایک ”سنچوری سٹی “ ہے اور سٹی کا یہ سٹیٹس برقرار ہے تاہم ”سنچوری سٹی “ قانون نہیں ہے ، اس سٹیٹس کے تحت شہر میں بسنے والے افراد جو کام کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، کو قطع نظر ان کے سٹیٹس کے شہر میں تعلیم ، صحت ، تحفظ جیسے حقوق کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ اردو نیوز کے ایڈیٹر محسن ظہیر سے بذریعہ زوم ایک خصوصی انٹرویو میں مئیر ایڈمز کا مزید کہنا تھا کہ نیویارک سٹی میں بسنے والی امیگرنٹ کمیونٹیز کے حقوق محفوظ ہیں اور نیویارک میں تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں او عبادتگاہوں جیسے عوامی مقامات کے اندر امیگریشن (ICE) کی کاروائیاں نظر نہیں آرہیں ۔
میئر ایرک ایڈمز نے اردو نیوز کے خصوصی انٹرویو میں پاکستانی امریکن اور امیگرنٹ کمیونٹیز کے حوالے سے اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں، کامیابیوں، اور چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔ میئر ایڈمز نے واضح کیا کہ وہ نیویارک سٹی کو ایک ایسا شہر بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر فرد کو تحفظ، تعلیم، روزگار، اور رہائش کے مساوی مواقع حاصل ہوں ، چاہے وہ دستاویزی حیثیت رکھتا ہو یا نہیں۔
میئر ایڈمز نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے مختلف کمیونٹیز کی انفرادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اذان کی اجازت، عبادت گاہوں کا تحفظ، اسکولوں میں حلال کھانے کی فراہمی اور مسلم خواتین کے حجاب کے حق کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم نے یقینی بنایا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے افراد کو سٹی میں ملازمتیں ملیں اور وہ یہاں خوش آمدید محسوس کریں،
پاکستانی نژاد خاتون پر حالیہ سب وے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے میئر نے کہا، “میں ایسے واقعات کو ذاتی طور پر لیتا ہوں۔ ہم نے ملزم کو گرفتار کیا اور ہم پراسیکیوشن کے نظام کو بھی جوابدہ بنانا چاہتے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں 17 فیصد کمی آئی ہے، جو ان کی انتظامیہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مئیر ایڈمز نے بتایا کہ سٹی انتظامیہ نوجوانوں کو تعلیم، صحت، اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کر رہی ہے۔ “ہم نے یقینی بنایا ہے کہ ICE اسکولوں، مساجد یا دیگر عبادت گاہوں میں داخل نہ ہو۔ ہر فرد کو بلا خوف طبی سہولتیں اور پولیس سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے،” میئر ایڈمز نے کہا کہ نیویارک کی پناہ گاہ حیثیت (سنچوری سٹی) برقرار رہے گیانہوں نے زور دیا کہ نیویارک سٹی ایک پناہ گاہ ہے جہاں ہر شخص، چاہے وہ قانونی طور پر مقیم ہو یا غیر دستاویزی ، سٹی کی تمام خدمات حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئی قانون اس حیثیت کو ختم نہیں کر رہا۔
میئر ایڈمز نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے حالیہ برسوں میں نیویارک سٹی کی تاریخ میں سب سے زیادہ رہائش گاہیں تعمیر کی ہیں۔ “ہم نے 2400 یونٹس کا 100فیصد افورڈایبل ہاو¿سنگ پروجیکٹ شروع کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ چھوٹے جائیداد مالکان کے مسائل کو بھی سمجھتے ہیں اور کرایوں میں توازن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
میئر ایڈمز نے بتایا کہ ایک خصوصی ٹیم کو کھلے عام منشیات کے استعمال، غیر قانونی ڈمپنگ، بلند آواز موسیقی، اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے لیے متحرک کیا گیا ہے تاکہ نیویارک کے شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
انہوں نے کہا کہ سٹی نے چھوٹے کاروباروں پر غیر ضروری جرمانے اور خلاف ورزی نوٹسز کا خاتمہ کیا ہے اور انہیں ترقی کے لیے مالی امداد اور رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔
میئر ایڈمز نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی انتظامیہ میں مسلم افسران کو اعلیٰ عہدوں پر شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو پولیس، نرسنگ، اور دیگر شعبوں میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنی کمیونٹی کی بہتر خدمت کر سکیں۔
میئر نے پاکستانی تقریبات میں اپنی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “یہ تقریبات صرف ایونٹ نہیں، بلکہ ایک طرزِ زندگی کی عکاسی ہیں۔ ہم ان کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔”
انہوں نے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل، جو پناہ گزینوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا، اب بند کیا جا رہا ہے۔ “یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے 2 لاکھ 30 ہزار پناہ گزینوں کو کامیابی سے سنبھالا،” میئر نے بتایا۔
انٹرویو کے آخر میں جب مئیر سے پسندیدہ پاکستانی کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو مسکراتے ہوئے جواب دیا، “دال آپ کی بہترین ڈش ہوتی ہے جو مجھے ہمیشہ بہت پسند رہی ہے۔ میں پاکستانی کھانوں سے لطف اندوز ہوتا رہوں گا۔”

Mayor Adams Affirms: New York Is Committed to Protecting Immigrant Communities

Related Articles

Back to top button