مئیر نیویارک ایرک ایڈمز نے جاتے جاتے سابق صدر جو بائیڈن پر غصہ نکال دیا
مئیر ایڈمز نے اپنے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ سابق صدر بائیڈن کے دور میں جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا
نیویارک (اردو نیوز)نیویارک سٹی کے سبکدوش ہونیوالے مئیر ایرک ایڈمز نے عہدہ چھوڑنے سے پہلے اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق صدر جو بائیڈن پر اپنا غصہ نکال دیا اور اپنے مئیر شپ کے دور میں ہونیوالی تحقیقات سے دیگر معاملات کا ذمہ دار صدر بائیڈن کو ٹہرادیا ۔ مئیر ایڈمز نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ سابق صدر بائیڈن کے دور میں جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ۔ مئیر ایڈمز کے بقول اس کا نشانہ نہ صرف وہ خود بنے بلکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مختلف مقدمات کی صورت میں اس روئیے کا شکار ہوئے۔
مئیر ایڈمز کا مزید کہنا تھا کہ امریکی عوام کو دوبارہ ایسے دور سے نہیں گزرنا چاہیے جیسا بائیڈن انتظامیہ کے جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے تحت دیکھنے میں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کو، جو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھا رہے تھے، نگرانی کی فہرستوں میں شامل کیا گیا، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر پر چھاپے جیسے اقدامات کیے گئے، حالانکہ ان معاملات پر سیاسی اور قانونی مباحث ہونے چاہئیں تھے۔
ایرک ایڈمز نے کہا کہ ان کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ تجربات نے انہیں یہ سب کچھ قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ ایک پولیس آفیسر، سٹیٹ سینیٹر اور برو صدر کے طور پر بھی نظامِ انصاف میں ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق میئر کے طور پر اپنے دور میں جو کچھ انہوں نے دیکھا، وہ انتہائی افسوسناک تھا، اور یہی تجربہ ان کے لیے اس جدوجہد کو مزید ذاتی بنا گیا۔



