نیویارک سٹی میں فوج یا فیڈرل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیموں کی تعیناتی غیر ضروری، غیر مطلوب اور نقصان دہ ہوگی، مئیر ایڈمز، سپیکر ، میجارٹی لیڈر سمیت سٹی قائدین
نیویارک (محسن ظہیر سے ) نیویارک سٹی ہال میں سٹی کونسل کے ارکان، مذہبی رہنماو¿ں اور سماجی کارکنوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح پیغام دیا کہ نیویارک سٹی میں فوج یا فیڈرل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیموں کی تعیناتی غیر ضروری، غیر مطلوب اور نقصان دہ ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات شہر کی عوامی سلامتی، مقامی معیشت اور شہریوں کے اعتماد کو متاثر کریں گے۔
گزشتہ چند ماہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے کئی ڈیموکریٹک ریاستوں میں نیشنل گارڈ اور فیڈرل ایجنٹس کو تعینات کیا ہے، جس سے مقامی کاروبار اور روزگار متاثر ہوئے ہیں۔ قانون سازوں نے خبردار کیا کہ اگر نیویارک میں بھی ایسا ہوا تو شہر کی سیاحت اور معیشت مزید نقصان اٹھائے گی۔
سٹی کونسل اسپیکر ایڈرین ایڈمز نے کہا کہ نیویارک سٹی کو کسی فوجی یا فیڈرل قبضے کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پبلک سیفٹی کے نام پر دراصل ہماری کمیونٹیز اور معیشت کو کمزور کیا ہے۔ گزشتہ دنوں آئی سی ای (ICE) نے چائنا ٹاو¿ن میں چھاپے مار کر ہنگامہ برپا کیا، درجنوں دکاندار گرفتار کیے، جس سے عوام میں خوف پھیل گیا۔ عوامی تحفظ کا مطلب کمیونٹی میں سرمایہ کاری ہے، نہ کہ تعلیم، صحت اور انصاف کے فنڈز میں کٹوتیاں کرنا۔
مجاریٹی لیڈر امانڈا فاریاس نے کہا کہ فوجی تعیناتی عوامی تحفظ نہیں بلکہ خوف پھیلانے کی کوشش ہے۔ نیویارک کے محلوں میں فوجی طاقت لانا ترقی اور استحکام کے بجائے نفسیاتی دباو¿ اور انتشار پیدا کرے گا۔ ہم ہمدردی، شواہد اور اخلاقی قیادت پر یقین رکھتے ہیں، نہ کہ خوف اور اشتعال پر۔
مجاریٹی وِپ سلویِنا بروکس پاورز نے کہا کہ فیڈرل حکومت کو ہمارے محلوں کو فوجی زونز میں تبدیل کرنے کا کوئی حق نہیں۔ رنگین برادریوں نے پہلے ہی سخت گیر پالیسیوں کا بوجھ برداشت کیا ہے۔ نیویارک متحد، مضبوط اور متنوع شہر ہے — ہم اپنے اداروں اور آزادیوں کا دفاع کریں گے۔
کونسل ممبر ساندرا ا±نگ نے کہا کہ نیویارک کے پاس دنیا کی بہترین پولیس فورس ہے، اس لیے کسی فیڈرل مداخلت کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات مقامی اعتماد کو توڑتے ہیں، خاص طور پر مہاجر برادریوں میں خوف پھیلتا ہے۔
کونسل ممبر کارمن ڈی لا روزا نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں خواتین اور محنت کش طبقے کے لیے خطرناک ہیں۔ ہمیں فوج یا گنز نہیں، بلکہ اسکولوں، اسپتالوں، بچوں کی دیکھ بھال اور رہائش کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے۔
کونسل ممبر ایرک ڈینووٹز نے کہا کہ نیشنل گارڈ بھیجنے کی دھمکی ایک خطرناک سیاسی چال ہے۔ نیویارک کسی قسم کی فیڈرل بدمعاشی قبول نہیں کرے گا۔ ہم ڈرنے والے نہیں۔کونسل ممبر جینیفر گٹیرز نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب فیڈرل فورسز شہروں میں داخل ہوتی ہیں تو صرف خوف، تشدد اور بدامنی بڑھتی ہے۔ نیویارک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے خود مختار ہے۔
کونسل ممبر ریٹا جوزف نے کہا کہ فوجی تعیناتی نے دوسرے شہروں میں عدم استحکام پیدا کیا۔ ہمارا شہر تعاون اور اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے، نہ کہ ٹکراو¿ سے۔
کونسل ممبر شیکھر کرشنن نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے نیویارک کی متنوع اور مہاجر دوست شناخت پر حملہ ہیں۔ ہم نے قوانین بنا کر اس نفرت کے خلاف دیوار کھڑی کی ہے۔کونسل ممبر فراح این لوئس نے کہا کہ نیویارک تارکینِ وطن کا شہر ہے۔ ہمیں خوف یا انتشار نہیں بلکہ انصاف اور احترام کی ضرورت ہے۔ ہم ہر صورت اپنے مہاجر پڑوسیوں کا ساتھ دیں گے۔کونسل ممبر کیون سی رائلی نے کہا کہ فیڈرل فورسز کے استعمال سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہم اپنے شہر کو سیاسی جنگ کا میدان نہیں بننے دیں گے۔ نیویارک کے لوگ جانتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے — اتحاد، استحکام اور باہمی اعتماد۔
پریس کانفرنس میں مقررین نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ نیویارک سٹی میں فوج یا فیڈرل ایجنٹس تعینات کرنے کے بجائے مقامی حکومتوں کے ساتھ تعاون کریں، عوامی فنڈز بحال کریں، اور سیاسی مقاصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا استعمال بند کریں۔ نیویارک کے رہنماو¿ں کا متفقہ پیغام تھا کہ ہمارا شہر خود اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے — ہمیں فیڈرل قبضے کی نہیں، انصاف اور اعتماد کی ضرورت ہے۔
NYC Council & Faith Leaders to Trump: No Military or Federal Agents in New York City



