پاکستانکالم و مضامین

صدر ڈونلڈٹرمپ، منتخب مئیر نیویارک ظہران ممدانی ملاقا ت میں شیر و شکر

صدر ٹرمپ، منتخب مئیر ظہران کے لئے اس قدر مثبت اور گرم جوش قسم کا رویہ رکھے ہوئے تھے کہ اگر پروٹوکول مانع نہ ہوتا تو شاید دو تین بار تو اٹھ کر ممدانی سے معانقہ بھی کر چکتے

نیویارک سٹی کے منتخب مئیر زوہران ممدانی کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے الیکشن کے بعد پہلی تاریخی ملاقات پر اشرف العظیم کی خصوصی تحریر

(تحریر: اشرف العظیم، نیو یارک)

زوہران ممدانی
Mayor Elect Zohran Mamdani

نیو یارک شہر کے نو منتخب مئیر 34سالہ ظہران ممدانی نے 22 نومبر کو وہائٹ ہاو¿س میں 79 سالہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔بعد ازاں اوول آفس میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔اس نشست کا جائزہ لینے کے بعد یوں لگا کہ ممدانی صاحب نئے نویلے تو ضرور ہیں مگر خاصےسیانے سیاستدان ہیں۔عوام کی نبض سے بخوبی آگاہ، متعین اہداف کے حصول کے لئے یکسوئی کے ساتھ پرعزم اور زمینی حقائق سے مکمل واقف اورجر?ت مندی کے ساتھ ساتھ افہام و تفہیم والی حکمت عملی کے قائل۔ دوسری جانب یوں لگا بلکہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ صدر ٹرمپ بھی راتوں رات بہت مہمان نواز، بردبار، زیرک اور سلجھی ہوئی شخصیت کے سانچے میں ڈھل چکے ہیں۔جب سے ممدانی نے مئیر کے انتخاب کے لئے اپنی مہم شروع کی تو دونوں کے درمیان زبانی کلامی گولہ باری شروع ہو چکی تھی، دونوں نے کئی مرتبہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، کئی مرتبہ اپنے بیانات میں ناخوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی کیا، ایک سے زائد مرتبہ ممدانی صاحب نے صدر ٹرمپ کو فاشسٹ کے خطاب سے بھی پکارا۔ مگر 22 نومبر کی ٹرمپ ممدانی میٹنگ کے بعد تو یوں محسوس ہوا کہ یہ متحارب نہیں بلکہ ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔موقع پر موجود صحافی حضرات نے اختلافی معاملات کو اچھالنے کی بہت کوشش کی بلکہ سر توڑ کوشش کی کہ سوال و جواب میں یہ ایک دوسرے پر کوئی نیا پرانا الزام دہرا دیں مگر دونوں حضرات نے کسی بھی قسم کی تلخ نوائی سے پرہیز کیے رکھا۔ممدانی نے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کو خوشگوار قرار دیا جبکہ ٹرمپ صاحب نے تو ممدانی کی توصیف کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
اس موقع پر پروٹوکول کے مطابق صدر ٹرمپ اپنی صدارتی میز کرسی پر بیٹھے رہے جبکہ ممدانی نے ان کے دائیں ہاتھ کھڑے ہو کر اس بریفنگ میں شرکت کی۔مئیرممدانی ،صدرٹرمپ کے ساتھ اتنا جڑ کر کھڑے تھے کہ صدر نے بیٹھے بیٹھے متعدد مرتبہ ان کے بازو پر تھپکی دے کر انہیں ایک قسم کی شاباش دی۔ صدر ٹرمپ، منتخب مئیر ممدانی کے لئے اس قدر مثبت اور گرم جوش قسم کا رویہ رکھے ہوئے تھے کہ اگر پروٹوکول مانع نہ ہوتا تو شاید دو تین بار تو اٹھ کر ممدانی سے معانقہ بھی کر چکتے۔ ایک موقع پر صدر ٹرمپ نے پرجوش انداز میں تبصرہ کیا کہ “میں نے وہائٹ ہاو¿س میں دنیا بھر کے بڑے بڑے رہنماو¿ں ملاقاتیں کر رکھی ہیں۔ مگر اس وقت تمام دنیا کی نگاہیں آج کی ملاقات پر لگی ہیں، ڈھیروں نمائندے اوول آفس کی اس بریفنگ میں موجود ہیں جبکہ کہیں بڑی تعداد میں رپورٹرز اس اہم ملاقات کا احوال جاننے کے لئے باہر ہجوم کئے ہوئے ہیں”۔

حالیہ کمپئین کے دوران ممدانی صدر ٹرمپ کے لئے “فاشسٹ” کا لقب بھی استعمال کر چکے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی صدر ٹرمپ کو فاشسٹ کہنا پسند کریں گے؟ اس سے پہلے کہ ممدانی روا روی سے لپٹا جواب دیتے، صدر ٹرمپ نے ممدانی کے بازو پر تھپکی دی اور خود بول اٹھے کہ ہاں کوئی بات نہیں, انہیں اجازت ہے، کہہ دو کہ میں ایسا ہی ہوں۔اخباری نمائندوں کو گویا کہا گیا کہ اس قضئیے کو چھوڑو اور اب اگلا سوال کرو۔انتخابی مہم میں ممدانی نے کہا تھا کہ اگر نتن یاہو ان کی مئیرشپ کے دوران نیو یارک آئے تو وہ اسے گرفتار کرنے سے پرہیز نہیں کریں گے۔ رپورٹر نے ممدانی سے پوچھا، آج کی ملاقات میں نتن یاہو کے نیویارک آنے پر آئی سی سی وارنٹ کی بنیاد پر اس کی گرفتاری سے متعلق کیا طے پایا ہے؟ ٹرمپ صاحب نے ہاں یا نہ کی بجائے فورا” یہ کہہ کر سوال گول کیا کہ اس موضوع پر ہماری کوئی بات نہیں ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے بار بار کہا کہ ملاقات بہت اچھی رہی، نیویارک کے مسائل کے حل کیلئے ممدانی کا ایجنڈا بہت زبردست ہے وہ اس کی حمایت کرتے ہیں، سستے گھر، سستے داموں ضروریات زندگی کی بہم رسانی اور جرائم میں کمی جیسے معاملات پر ممدانی کو ان کا تعاون حاصل رہے گا۔ٹرمپ نے مئیر کے لئے چلائی جانے والی انتخابی مہم کی بہت تعریف کی کہ یہ نوجوان کسی گنتی میں نہ ہونے کے باوجود پرائمریز میں کہیں سے آن ٹپکا ،اور جغادری سیاستدانوں کو شکست سے دو چار کرنے کے بعد نیو یارک کا مئیر بن کر دنیا بھر کو حیران کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا اگر وہ مئیر شپ کے دوران تعمیری کاموں کے ذریعے کوئی نام و مقام بنانا چاہتے ہیں تو یہ عہدہ انہیں بھرپور موقع فراہم کرے گا اور اگر وہ اپنے ایجنڈے کو بھلا کرکسی اورقسم کی مصروفیات میں وقت گذار دیں گے تو تاریخ بھی انہیں جلد بھلا دینے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرے گی۔

وہ لوگ جو امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ ملاقات میں کوئی چھوٹی موٹی بدمزگی سے لیکر کوئی بڑی ہنگامہ آرائی بھی ہو سکتی ہے، شاید یوکرین کے صدر والی ملاقات کی یاد تازہ ہو جائے مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ جو لوگ اس ملاقات سے گرما گرمی کی توقع کر رہے تھے وہ یقیناً” مایوس ہوئے ہیں۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کے اندر سے ٹرمپ ممدانی ملاقات کے خوشگوار ماحول پر تنقید ہونا شروع گئی ہے، نامی گرامی ریپبلیکن ناک بھوں چڑھا رہے ہیں مگر ٹرمپ کسی کے ماننے والے کہاں۔ ممدانی صاحب نے جیسے ہی مئیر کا الیکشن جیتا تو ریپبلکن پارٹی کی ایک خاتون ممبر کانگریس نے ممدانی کو جہادسٹ کے روپ میں ابھارنے کیلئے ایک بھرپور کمپئین شروع کر دی تھی۔ اسی حوالے سے کسی نمائندے نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے آج وائٹ ہاو¿س میں ایک جہادسٹ کے ساتھ ملاقات کی ہے؟ ٹرمپ صاحب نے فورا” جواب دیا “” نہیں، میں تو ایک نہایت معقول شخص سے ملاہوں””۔ نیویارک شہر کے بجٹ میں ایک موٹی امدادی رقم وفاقی بجٹ سے بھی آتی ہے۔انتخابی گرما گرمی کے زمانہ میں ٹرمپ صاحب نے شوشہ چھوڑا تھا کہ اگر ممدانی مئیر بنتا ہے تو وہ نیو یارک کو دی جانے والی مالی معاونت روک سکتے ہیں۔ اب جبکہ منتخب مئیر ٹرمپ کے برابر میں کھڑے تھے تو صدر صاحب سے وضاحت لی گئی کہ کیا آپ وفاقی حکومت کی جانب سے نیویارک کو دی جانے والی امدادی رقم روک دیں گے؟ صدر ٹرمپ نے کہا ہر گز نہیں، میں تو نیو یارک کے مئیر کی پشت پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں نہ کہ انہیں گرانا چاہوں گا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ صاحب نے ایک سوشل ڈیموکریٹ مسلمان لیڈر سے اس قدر رواداری ،گرم جوشی ، محبت اور مثبت روئیے کا مظاہرہ کیونکر کیا؟ تو جواب یہ ہے کہ ٹرمپ صاحب ہمیشہ جیتنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ بنا کر رکھتے ہیں۔انہوں نے اچھی طرح جانچ لیا ہے کہ ممدانی اپنے دبنگ بیانیے کی بدولت نہ صرف نیو یارک بلکہ امریکہ بھرمیں بہت مقبول ہو چکے ہیں اور امریکی کیپٹلزم کے تندی باد مخالف کے تھپیڑوں کی شدت کے باوجود یہ عقاب اونچی پرواز کرے گا۔انہوں نے جانچ لیا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت ممدانی کی کرشماتی شخصیت کی گرویدہ ہو چکی ہے، ممدانی کو نہ صرف ڈیموکریٹ ووٹر بلکہ نیو یارک کے ریپبلکن ووٹرز نے بھی اچھے خاصے ووٹ دیے ہیں، نیویارک کے اچھے خاصے یہودی ووٹرز نے بھی ممدانی کو ووٹ دیے ہیں۔لہذاٰ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ممدانی کیساتھ مخاصمانہ روئیہ اپنا کر وہ امریکی عوام کی ہمدردیاں کھو سکتے ہیں۔شاید اسی واسطے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ممدانی کی حمایت کا واضع تاثر دیکر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کریں۔ممدانی صاحب نے بھی صدر کے روئیے کا مثبت جواب دیا، اخباری نمائندوں کی طرف سے کئے جانے والے کسی قسم کے چبھتے سوال و جواب کے پھندے میں نہیں پھنسے اور اپنی پالیسیز اور نیویارک شہرکے لئے تعمیری ایجنڈے کی بات کرتے رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر صاحب نے انہیں ہر طرح سے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ملا بگویم اور حاجی بگو والے تاثرات کے باوجود ممدانی صاحب نے فلسطین سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر نتن یاہو کی شدید مذمت کی ، ببانگ دہل کہا کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ مزید کہا کہ امن معاہدے کے باوجود آج بھی بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے، یہ خونریزی اب رکنا چاہئے۔ممدانی نے ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر کیا کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں پر لگانے کی بجائے نیویارک کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جانا چاہئے۔کئی دہائیوں میں ایسا نہ ہو سکا تھا کہ کسی مقامی سیاستدان یا حتیٰ کہ غیر ملکی سربراہ مملکت نے بھی وہائٹ ہاو¿س کے اندر، امریکی صدر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اسرائیلی مظالم کی یوں کھلم کھلا مذمت کی ہو۔ مگر ممدانی نے اسرائیل سے متعلق اپنے بیانیے کو اسی طرح دھڑلے سے بیان کیا جیسا وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی ممدانی کے اسرائیل مخالف بیانیے کو خاموشی سے سنا اور کسی بھی موقع پر ان کے گرما گرم مو¿قف کو ٹھنڈا کر کے پیش کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ صدرٹرمپ بھی سمجھ تو گئے ہیں کہ اسرائیل سے متعلق امریکی رائے عامہ بدل چکی ہے اور 34 سالہ ظہران ممدانی امریکی رائے عامہ کی درست ترجمانی کر رہے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے ممدانی کی موجودگی میں اسرائیل کی حمایت میں ایک لفظ بھی نہ کہا بلکہ دو ایک مرتبہ اس بات کو جتلا دیا کہ فلسطین میں جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ان دونوں میں اتفاق رائے ہے۔ ممدانی کے اس جرات مند اظہارئیے نے دنیا بھر میں زور پکڑتی صیہونیت مخالف رائے عامہ کو یقیناً” بہت تقویت دی ہے۔

ایک بات نوٹ کیجئے کہ ممدانی وہ پہلے لیڈر نہیں ہیں جنہوں نے مغرب میں بیٹھ کر اسرائیل کی فلسطین کش پالیسیز پر کڑی تنقید کی ہو۔ اس سے پہلے لندن کے پاکستانی نژاد مئیر صادق خان بھی بڑی جرات سے اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے رہے ہیں مگر اس کے باوجود 2016 سے مسلسل لندن کے مئیر منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔پچھلے سال 2024 میں تیسری مرتبہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر لندن کے مئیر منتخب ہوئے ، وہ 2028 میں اس عہدے سے ریٹائر ہوں گے۔ چلئے صادق خان کا کچھ احوال بھی انشااللہ یہاں کسی اگلے کالم میں پیش کروں گا مگر فی الحال تو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل اینڈ کمپنی بہادر کو ایک عرضداشت پیش خدمت ہے کہ جناب عالی، جی حضوری کرنے کی بجائے لندن کے صادق خان اور نیو یارک کے زہران ممدانی کو ماڈل بنائیے۔ایڑیاں جما کر ٹرمپ صاحب کو سول و فوجی سلیوٹ پیش کرنے کی بجائے صادق خان اور ظہران ممدانی سے بھی کچھ سیکھ لیجئے، اسرائیلی مظالم کی کھل کھلا کر مذمت کیجئے۔جر?ت دکھائیے، ہمت کیجئے، آنکھیں کھولیے ، پچیس کروڑ پاکستانی عوام بلکہ دنیا بھر کے دو ارب سے زائد مسلمان آپکی پشت پر کھڑے ہوئے ہیں۔
اب جبکہ منتخب مئیر ٹرمپ کے برابر میں کھڑے تھے تو صدر صاحب سے وضاحت لی گئی کہ کیا آپ وفاقی حکومت کی جانب سے نیویارک کو دی جانے والی امدادی رقم روک دیں گے؟ صدر ٹرمپ نے کہا ہر گز نہیں، میں تو نیو یارک کے مئیر کی پشت پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں نہ کہ انہیں گرانا چاہوں گا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ صاحب نے ایک سوشل ڈیموکریٹ مسلمان لیڈر سے اس قدر رواداری ،گرم جوشی ، محبت اور مثبت روئیے کا مظاہرہ کیونکر کیا؟ تو جواب یہ ہے کہ ٹرمپ صاحب ہمیشہ جیتنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ بنا کر رکھتے ہیں۔انہوں نے اچھی طرح جانچ لیا ہے کہ ممدانی اپنے دبنگ بیانیے کی بدولت نہ صرف نیو یارک بلکہ امریکہ بھرمیں بہت مقبول ہو چکے ہیں اور امریکی کیپٹلزم کے تندی باد مخالف کے تھپیڑوں کی شدت کے باوجود یہ عقاب اونچی پرواز کرے گا۔انہوں نے جانچ لیا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت ممدانی کی کرشماتی شخصیت کی گرویدہ ہو چکی ہے، ممدانی کو نہ صرف ڈیموکریٹ ووٹر بلکہ نیو یارک کے ریپبلکن ووٹرز نے بھی اچھے خاصے ووٹ دیے ہیں، نیویارک کے اچھے خاصے یہودی ووٹرز نے بھی ممدانی کو ووٹ دیے ہیں۔لہذاٰ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ممدانی کیساتھ مخاصمانہ روئیہ اپنا کر وہ امریکی عوام کی ہمدردیاں کھو سکتے ہیں۔شاید اسی واسطے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ممدانی کی حمایت کا واضع تاثر دیکر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کریں۔ممدانی صاحب نے بھی صدر کے روئیے کا مثبت جواب دیا، اخباری نمائندوں کی طرف سے کئے جانے والے کسی قسم کے چبھتے سوال و جواب کے پھندے میں نہیں پھنسے اور اپنی پالیسیز اور نیویارک شہرکے لئے تعمیری ایجنڈے کی بات کرتے رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر صاحب نے انہیں ہر طرح سے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ملا بگویم اور حاجی بگو والے تاثرات کے باوجود ممدانی صاحب نے فلسطین سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر نتن یاہو کی شدید مذمت کی ، ببانگ دہل کہا کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ مزید کہا کہ امن معاہدے کے باوجود آج بھی بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے، یہ خونریزی اب رکنا چاہئے۔ممدانی نے ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر کیا کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں پر لگانے کی بجائے نیویارک کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جانا چاہئے۔کئی دہائیوں میں ایسا نہ ہو سکا تھا کہ کسی مقامی سیاستدان یا حتیٰ کہ غیر ملکی سربراہ مملکت نے بھی وہائٹ ہاو¿س کے اندر، امریکی صدر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اسرائیلی مظالم کی یوں کھلم کھلا مذمت کی ہو۔ مگر ممدانی نے اسرائیل سے متعلق اپنے بیانیے کو اسی طرح دھڑلے سے بیان کیا جیسا وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی ممدانی کے اسرائیل مخالف بیانیے کو خاموشی سے سنا اور کسی بھی موقع پر ان کے گرما گرم مو¿قف کو ٹھنڈا کر کے پیش کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ صدرٹرمپ بھی سمجھ تو گئے ہیں کہ اسرائیل سے متعلق امریکی رائے عامہ بدل چکی ہے اور 34 سالہ ظہران ممدانی امریکی رائے عامہ کی درست ترجمانی کر رہے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے ممدانی کی موجودگی میں اسرائیل کی حمایت میں ایک لفظ بھی نہ کہا بلکہ دو ایک مرتبہ اس بات کو جتلا دیا کہ فلسطین میں جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ان دونوں میں اتفاق رائے ہے۔ ممدانی کے اس جر?ت مند اظہارئیے نے دنیا بھر میں زور پکڑتی صیہونیت مخالف رائے عامہ کو یقیناً” بہت تقویت دی ہے۔

ایک بات نوٹ کیجئے کہ ممدانی وہ پہلے لیڈر نہیں ہیں جنہوں نے مغرب میں بیٹھ کر اسرائیل کی فلسطین کش پالیسیز پر کڑی تنقید کی ہو۔ اس سے پہلے لندن کے پاکستانی نڑاد مئیر صادق خان بھی بڑی جر?ت سے اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے رہے ہیں مگر اس کے باوجود 2016 سے مسلسل لندن کے مئیر منتخب ہوتےچلے آ رہے ہیں۔پچھلے سال 2024 میں تیسری مرتبہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر لندن کے مئیر منتخب ہوئے ، وہ 2028 میں اس عہدے سے ریٹائر ہوں گے۔ چلئے صادق خان کا کچھ احوال بھی انشااللہ یہاں کسی اگلے کالم میں پیش کروں گا مگر فی الحال تو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل اینڈ کمپنی بہادر کو ایک عرضداشت پیش خدمت ہے کہ جناب عالی، جی حضوری کرنے کی بجائے لندن کے صادق خان اور نیو یارک کے زہران ممدانی کو ماڈل بنائیے۔ایڑیاں جما کر ٹرمپ صاحب کو سول و فوجی سلیوٹ پیش کرنے کی بجائے صادق خان اور ظہران ممدانی سے بھی کچھ سیکھ لیجئے، اسرائیلی مظالم کی کھل کھلا کر مذمت کیجئے۔جر?ت دکھائیے، ہمت کیجئے، آنکھیں کھولیے ، پچیس کروڑ پاکستانی عوام بلکہ دنیا بھر کے دو ارب سے زائد مسلمان آپکی پشت پر کھڑے ہوئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button