امیگریشن نیوزبین الاقوامی

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سے پناہ کی جعلی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کے لیے نئے قانون کی تجویز

طویل عرصے سے جعلی پناہ کی درخواست امریکہ میں کام کرنے کا آسان ذریعہ بن چکی ہے، جس کے باعث بے بنیاد درخواستوں کا انبار لگ گیا ہے اور امیگریشن نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، ہوم لینڈ سیکورٹی

طویل عرصے سے جعلی پناہ کی درخواست امریکہ میں کام کرنے کا آسان ذریعہ بن چکی ہے، جس کے باعثبے بنیاد درخواستوں کا انبار لگ گیا ہے اور امیگریشن نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، ہوم لینڈ سیکورٹی

واشنگٹن ( اردو نیوز) یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی نے ایک نئے قانون کی تجویز پیش کی ہےجس کا مقصد پناہ کی جعلی درخواستیں دے کر ورک پرمٹ حاصل کرنے کے رجحان کو کم کرنا ہے۔ حکامکے مطابق اس اقدام سے امیگریشن نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ڈی ایچ ایس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ طویل عرصے سے جعلی پناہ کی درخواست امریکہ میں کامکرنے کا آسان ذریعہ بن چکی ہے، جس کے باعث بے بنیاد درخواستوں کا انبار لگ گیا ہے اور امیگریشننظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ پناہ کے نظام میں اصلاحات لا کر قوانین پرسختی سے عمل درآمد اور سابقہ دور سے ملنے والے بیک لاگ کو کم کرنا چاہتی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پناہ کے درخواست گزاروں کو اس دوران کام کرنے کا خودکار حق حاصل نہیں ہوگاجب تک ان کی درخواستوں پر کارروائی مکمل نہ ہو جائے۔

امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے مطابق زیر التوا پناہ درخواستوں کی بنیاد پر ورک پرمٹ کی درخواستوںکی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے ادارے کے وسائل پر شدید دباؤ پڑا ہے۔ حکامکا کہنا ہے کہ اس وقت چودہ لاکھ سے زائد پناہ کی درخواستیں زیر التوا ہیں، جو ریاست نیو ہمپشائر کی کلآبادی کے برابر ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینے اور اہلیت کے معیار میں تبدیلی کی جائے گیتاکہ بے بنیاد، جعلی یا غیر سنجیدہ پناہ درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ادارہ اپنے محدود وسائل کو زیرالتوا مقدمات، بیک لاگ کیسز اور دیگر درخواستوں پر زیادہ توجہ دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہحقیقی خطرات سے بچنے کے خواہش مند افراد کو ترجیح دی جا سکے۔

یہ مجوزہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر چودہ ہزار ایک سو انسٹھپروٹیکٹنگ دی امریکن پیپلاگینسٹ انویژنکی حمایت میں پیش کیا گیا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے مجوزہ قانون کا مسودہ فیڈرل رجسٹر میں شائع کیا جائے گا، جس کے بعد ساٹھ روزہعوامی رائے شماری کی مدت کا آغاز ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button