کالم و مضامین

دہشت گردی شیطانی مذہب ہے

دہشت گردی خود ایک شیطانی مذہب ہے اور یہ دنیا کے تمام مذاہب کے مقابلے واحد وہ شیطانی مذہب ہے کہ جس کے پیروکار اپنی زندگی کے خاتمے کے ساتھ دوسرے معصوم انسانوں کی زندگی ختم کرنے کو ہی اپنی عبادت کہتے ہیں

 خصوصی مضمون ۔۔۔(ظاہر سید ، نیویارک)

ویسے تو پوری دنیا کا حال اپنے حال پر نوحہ کناں نظر اتا ہے ۔مگر اس وقت میں ملک پاکستان کی بات کر رہا ہوں کہ جہاں پر مفلوق الحال مخلوق خدا اپنے حال پر اور اپنی انے والی نسلوں کے حال کے بارے میں سوچ کر بے اختیار چیخ اٹھتی ہے ۔ خدارا انسان کے حال پر رحم کیا جائے۔
پاکستان کے دارالحکومت کے میں6 فروری بروز جمعہ ایک شیعہ مسجد کے اندر دوران نماز جمعہ شیعہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا گیا ۔پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 36 شیعہ مسلمانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں مگر وہاں کے مقامی ذرائع کے مطابق شہداءکی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے اور 150 کے قریب شیعہ مسلمان شدید زخمی حالت میں مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ذرائع کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ شہادتوں کی تعداد مزید بڑھنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔
آخر ان لوگوں کا جرم کیا تھا ؟ کیا یہی ان کا جرم تھا کہ وہ اپنے خالق کے حضور سجدہ کرنے ائے ہوئے تھے ؟
میں چند سوالات اپ قارین کی خدمت میں رکھتا ہوں سمیت میرے اپ بھی ان سوالوں پر غور فرمائیے۔
سوال نمبر 1کیا دنیا میں کوئی ایسا مذہب ہے جو کسی کو بغیر جرم کے سزا دینے کا حکم دیتا ہو ؟ یاد رہے کہ میں نےابھی صرف سزا کی بات کی ہے مگر قتل سزا کی آخری حد ہے۔
سوال نمبر 2 کیا دہشت گردی کا کوئی مذہب ہے ؟
سوال نمبر 3 کیا دنیا میں ایسا کوئی مذہب ہے جو انتہا پسندی دہشت گردی ایکسٹریمزم کے لیے کوئی رعایت پیدا کرتا ہو ؟
دنیا کے ہر مذہب میں دو چیزیں بالکل عام اور ایک جیسی ہیں یا یوں کہا جائے کہ دنیا کے ہر مذہب کے دو حصے ہیں اور یہ دونوں حصے ہر مذہب کی اساس کہلاتے ہیں
نمبر 1 خالق کے حقوق
نمبر 2 مخلوق کے حقوق
اگر میں ان دونوں کو اس سے بھی آسان الفاظ میں بیان کروں تو وہ یہ ہوگا کہ خالق کے حقوق کا مطلب عبادات اور مخلوق کے حقوق کا مطلب اخلاقیات
دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے اپنے خالق کو منانے کی خاطر اپنے اپنے انداز میں عبادات کرتے ہیں کوئی نماز پڑھتا ہے کوئی پوجا کرتا ہے کوئی موم بتی جلاتا ہے کوئی انکھیں بند کر کے ہاتھ جوڑ کے بیٹھا ہوتا ہے ان تمام لوگوں کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنے خالق کو خوش رکھنا ،ابھی میں ان لوگوں کی بات کرنے لگا ہوں جو بے گناہ انسانوں کو قتل کر دیتے ہیں۔
کیا اج تک کسی نے اس پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ کام ان لوگوں کے لیے عبادت ہے ؟ کیا ان کا مالک ان سے ایسی عبادت کروا کے خوش ہوتا ہے ؟
اس سوال کے بارے میں اپ بھی غور و فکر کریں اور میں بھی غور و فکر کر رہا ہوں ۔ایک سوال اور کیا اس دنیا میں کوئی ایسی طاقت ہے جو انسان کے ہاتھوں انسان کا خاتمہ چاہتی ہو ؟ اس سوال کے جواب کے لیے اگر آپ آدم و ابلیس کا قران میں بیان کردہ قصہ پڑھیں تو یقینا سب کچھ کلیئر ہو جاتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق یعنی ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ۔
یاد رکھیں دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔دہشت گردی خود ایک نام نہاد شیطانی مذہب ہے اور یہ دنیا کے تمام مذاہب کے مقابلے واحد وہ شیطانی مذہب ہے کہ جس کے پیروکار اپنی زندگی کے خاتمے کے ساتھ دوسرے معصوم و بے گناہ انسانوں کی زندگی ختم کرنے کو ہی اپنی عبادت کہتے ہیں
اب کچھ بات ہم اس خطے کے حوالے سے بھی کر لیں کہ جس خطے میں شیعہ سنی فسادات کی بھیانک اور سیاہ تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے ۔برصغیر پاک و ہند میں شروع سے ہی شیعہ مکتب فکر کے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنتے ائے ہیں مگر جب پاکستان معرض وجود میں ایا تو مختلف ادوار میں شیعہ مکتبہ فکر کے لوگوں کو مذہب و مسلک کی اڑ میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے مگر جب پاکستان پر فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کی حکومت آئی تو اس فوجی ڈکٹیٹر کی سرپرستی میں خاص طور پر ایک مکمل پلان کے ساتھ شیعہ مکتبہ فکر کے لوگوں کا قتل عام شروع کیا گیا ۔ اس دن سے لے کر اج تک ہر حکومت کے دور میں شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی جاری رہی اور اگے بھی ایسے ہی ہوتا رہے گا
میں یہ مستقبل کے حوالے سے اس لیے بات کر رہا ہوں کہ اس کی چند وجوہات ہیں جو میں اپ کے سامنے رکھتا ہوں آپ بھی پڑھیں۔
نمبر 1 ہر حکومت کے دور میں شیعت کے نظریات کو ایک غلط شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔
نمبر 2 ہر حکومت کے دور میں ملکی پالیسی ساز طبقہ شیعہ مکتبہ فکر کے نظریات و عقائد کو پڑھنے اور سمجھنے کے بغیر شیعت کو اپنے اقتدار کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی رہی ہے اور اب بھی یہی ہو رہا ہے۔
نمبر3ہر دور حکومت میں اعلی عہدوں پر براجمان لوگ اینٹی شیعہ عناصر کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔اس کے در پردہ مقاصد کیا ہیں؟ اس کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ ہاں ان تمام تر وجوہات کو جاننے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے، میرے نزدیک وہ یہ ہے کہ اس مکتبہ فکر کے لوگوں کی کربلا سے ایک خاص قسم کی جذباتی وابستگی ہے جس کی بنا پر شیعہ مکتبہ فکر کے لوگ ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ حقیقت میں کربلا کا پیغام ہے بھی یہی ۔
واقعہ کربلا کے بعد تاریخ میں زندہ ہر بڑے انسان کی حالات زندگی کا مطالعہ کیا جائے ۔چاہے وہ کسی بھی مذہب کسی بھی مسلک کے ساتھ تعلق رکھتا ہو لازمی طور پر اس کی زندگی پر کربلا کا اثر آپ کو ضرور نظر آئے گا
آخری بات دنیا میں تھوڑا سا شعور رکھنے والا انسان بھی کبھی کسی انسان کے قتل کو صحیح عمل نہیں کہے گا ۔ ریاست اور ریاستی اداروں سے اپیل ہے کہ بے گناہ معصوم شہداءکے خون کا حساب لازمی لیا جائے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button