زوہران ممدانی کی نیویارک سٹی مئیر کے پرائمری الیکشن میں تاریخ ساز فتح
Zohran Mamdani Secures Historic Victory in New York City Mayoral Primary
زوہران ممدانی نے 43سے زائد فیصد ووٹ لے کامیابی حاصل کرکے نیویارک سمیت امریکہ بھر کے سیاسی حلقوں کو بڑا سرپرائز دیا
اینڈریو کومو نے منگل کی رات اپنی شکست قبول کرتے ہوئے کہا کہ آج کی رات ممدانی کی رات تھی ۔انہوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ 33سالہ زوہران ممدانی اب نومبر میں ہونیوالے جنرل الیکشن میں مئیر نیویارک سٹی کا الیکشن لڑیں گے
نیویارک ( اردونیوز ) نیویارک سٹی کے مئیر کے لئے منگل 24جون کو ہونیوالے پرائمر ی الیکشن میں 33سالہ اسمبلی مین زوہران ممدانی نے تاریخ ساز فتح اپنے نام کر لی ہے ۔انہوں نے اپنے مدمقابل سابق گورنر نیویارک اینڈریو کومو سمیت دیگر امیدواروں کے مقابلے میں 43فیصد سے زائد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ۔ نتائج کے مطابق زوہران ممدانی نے 43سے زائد فیصد ووٹ لے کر جو کہ ان کے حریف اینڈریو کومو کو ملنے والے ووٹوں سے سات سے زائد فیصد زائد تھے ، کامیابی حاصل کرکے نیویارک سمیت امریکہ بھر کے سیاسی حلقوں کو بڑا سرپرائز دیا۔
اینڈریو کومو نے منگل کی رات پر وقار انداز میں اپنی شکست قبول کرتے ہوئے کہا کہ آج کی رات ممدانی کی رات تھی ۔انہوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔انہوں نے ممدانی کو فون کال کرکے کامیابی پر مبارکباد بھی دی ہے ۔ 33سالہ زوہران ممدانی اب نومبر میں ہونیوالے جنرل الیکشن میں مئیر نیویارک سٹی کا الیکشن لڑیں گے ۔ ان کے مدمقابل موجودہ مئیر ایرک ایڈمزکے علاوہ دیگر امیدواران اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلوا بھی میدان میں ہونگے۔دیکھنا یہ ہو گا کہ پرائمری الیکشن میں کامیاب نہ ہونے والے اینڈریو کو ، اب نومبر کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے مئیر کی دوڑ میں ایک بار پھر شامل ہونگے ۔ اگر مسٹر کومو جیسا کہ انہوں نے اعلان کیا تھا ، دوڑ میں شامل ہوتے ہیں تو کل پانچ امیدواروں میں مقابلہ ہوگا اور اگر اینڈریو کو دوڑ سے نکل جاتے ہیں تو چار امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
زوہران ممدانی جو کہ مسلمان ہیں ، کی والدہ انڈین پنجاب اور والد کے آباو¿ اجداد کا تعلق گجرات انڈیا سے رہا ہے ۔ زوہران ممدانی ، یوگنڈہ میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ امریکہ مائیگریٹ کر گئے ۔وہ گذشتہ تین ٹرم سے نیویارک سٹیٹ اسمبلی ممبر منتخب ہوتے آرہے ہیں ۔
زوہران ممدانی کے الیکشن میں نیویارک کی پاکستانی ، بنگلہ دیشی ، عرب اور انڈین مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ یوتھ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور پولنگ میں ان کمیونٹیز کا پہلے سے بہتر ٹرن آو¿ٹ بھی دیکھنے میں آیا۔ زوہران ممدانی کی کامیابی اور فتح پر مسلم امریکن کمیونٹی نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا ۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے زوہران ممدانی کی سوشلسٹ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر بھی بعض حلقے انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ تاہم پرائمری الیکشن جیتنے کے بعد اب زوہران ممدانی رینک چوائس کی بنیاد پر ووٹنگ کا تقاضہ پورا ہونے کے بعد ڈیموکریٹ امیدوار برائے مئیر کے طور پر نومبر کے الیکشن میں بیلٹ پیپر پر ہونگے ۔ نومبر میں ہونیوالے الیکشن رینک چوائس کی بنیاد پر نہیں ہونگے۔جو سب سے زیادہ ووٹ لے گا ، وہی اگلا مئیر ہوگا۔زوہران ممدانی اگر کامیاب ہوتے ہیں تو وہ نیویارک کے پہلے مسلم مئیر ہونگے ۔
دریں اثناءنیویارک سٹی کے مئیر ایرک ایڈمز نے بھی سٹی ہال کی سیڑھیوں پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران اعلان کر دیا ہے کہ وہ نومبر کے الیکشن کے لئے مئیر کی دوسری ٹرم کے لئے اپنی انتخابی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں ۔



