پاکستانخبریں

”نیویارک میں جسم فروشی کو قانونی بنانے کی کبھی حمایت نہیں کی“، زوہران ممدانی

نیویارک کو سب کے لیے محفوظ، منصفانہ اور افورڈیبل شہر بنائیں گے ، مئی سیاست متعارف کروائیں گے ، ڈونلڈ ٹرمپ مجھے ڈی نیچرلائز کرنا چاہتا ہے ،زوہران ممدانی

”نیویارک میں جسم فروشی کو قانونی بنانے کی کبھی حمایت نہیں کی“ ، مئیر نیویارک کامیابی کا یقین ہے ، زوہران ممدانی
ڈونلڈ ٹرمپ اور اینڈریو کومو ایک ہی ایجنڈے کے دو چہرے ہیں،چار نومبر کے الیکشن میں نیویارکرز تاریخ میں پہلی بار ایک امیگرنٹ کو اپنا مئیر منتخب کریں گے جو کہ سب نیویارکرز کی آواز بنے گا
نیویارک کو سب کے لیے محفوظ، منصفانہ اور افورڈیبل شہر بنائیں گے ، مئی سیاست متعارف کروائیں گے ، ڈونلڈ ٹرمپ مجھے ڈی نیچرلائز کرنا چاہتا ہے ، مثبت سیاست سے خدمت کرنا ہوگی ، زوہران ممدانی

نیویارک ( محسن ظہیر سے ) نیویارک سٹی کے ڈیموکریٹ پارٹی کے نامزد امیدوار برائے مئیر زوہران ممدانی نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں اور نہ ہی حال میں کبھی بھی نیویارک سٹی میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت ( یا غیر مجرمانی فعل قرار ) دینے کی بات کی ہے ۔ اپنے انتخابی مہم کے ہیڈ کوارٹر میں اردو نیوز کے محسن ظہیر کے سوال کے جواب میں زوہران ممدانی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:”میں نے کبھی بھی جسم فروشی کو قانونی بنانے کی حمایت نہیں کی، نہ کی ہے اور نہ کروں گا۔ میرا مو¿قف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہمیں جنسی اسمگلنگ (سیکس ٹریفکنگ) کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں اور خواتین کے خلاف تشدد کے کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔“انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی پالیسی جس میں پہلے گرفتار کیا جاتا ہے اور بعد میں مدد فراہم کی جاتی ہے، درست نہیں۔ ”خدمات اور روزگار کے مواقع پہلے دن سے فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ خواتین کو کسی بھی خطرناک صورتحال سے نکلنے کا موقع ملے۔“
زوہران ممدانی نے کہا کہ بہت سے شہری سیاست سے مایوس ہو چکے ہیں کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی آواز کبھی نہیں سنی جائے گی۔”ہم اس نظام کو بدلنے آئے ہیں۔ یہ صرف ماضی کی سیاست نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہی سیاست ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماو¿ں کو سامنے لائی۔ ہمیں ایک نئی سیاست درکار ہے جو ہر نیویارکر کے خوابوں اور ضرورتوں کو سمجھے۔“
انہوں نے بتایا کہ ان کی مہم کے دوران صرف ایک ماہ میں 50 ہزار سے زائد نئے ووٹرز کو رجسٹر کیا گیا۔ ”یہ صرف انتخاب نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک ہے جو سب کو شامل کرنا چاہتی ہے۔“
زوہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک ایک ایسا شہر بن چکا ہے جہاں عام شہری کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔”ہم کرایہ، ٹرانسپورٹ، اور چائلڈ کیئر کے اخراجات میں کمی کے لیے عملی منصوبہ رکھتے ہیں۔چھوٹے کاروباری مالکان پر جرمانے اور فیسوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہے۔ ہم ان فیسوں اور جرمانوں میں پچاس فیصد کمی کریں گے تاکہ کاروبار چلتے رہیں۔“
انہوں نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق گورنر اینڈریو کومو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔”ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی نیویارک کے انفراسٹرکچر فنڈز کو روکنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ اینڈریو کومو ان ہی ارب پتیوں سے فنڈنگ لے رہے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کو وائٹ ہاو¿س پہنچایا۔ اگر ٹرمپ وائٹ ہاو¿س میں ہوں اور کومو سٹی ہال میں، تو ایک ہی ایجنڈا دو جگہ سے نافذ ہوگا۔“
زوہران ممدانی نے کہا کہ وہ نیویارک کے مفاد کو ہر سطح پر مقدم رکھیں گے اور کسی بھی وفاقی دباو¿ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
زوہران ممدانی نے اپنی کامیابی میں بنگلہ دیشی، پاکستانی، بھارتی اور نیپالی کمیونٹی کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔”جب ہم نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ووٹرز کو پہلی بار بڑی تعداد میں پولنگ بوتھ تک لائیں گے تو ہمیں مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن ہم نے 40 فیصد سے زائد ووٹر ٹرن آو¿ٹ میں اضافہ کر کے تاریخ رقم کی۔“
انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ نیویارک کے ہر شہری ۔چاہے وہ جیکسن ہائیٹس میں ہو یا ہل سائیڈ ایونیو پر — خود کو برابر کا نیویارکر سمجھے۔زوہران ممدانی نے کہا کہ ان کی مہم صرف ایک شخص یا ایک پارٹی کے خلاف نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف ہے جو عام شہریوں کو پسِ منظر میں دھکیل دیتا ہے۔”یہ شہر خوابوں کا مرکز ہے۔ میرا مشن ہے کہ وہ خواب ہر نیویارکر کے لیے قابلِ حصول بن سکیں۔“

Related Articles

Back to top button