کالم و مضامیناوورسیز پاکستانیز

وہ دن جب میاں شہباز شریف پاکستان لوٹے، مگر وطن میں ٹھہر نہ سکے

میری سیاسی یادداشتوں سے ۔۔۔۔ 2004۔۔۔۔تحریر: سید انور واسطی

آج جب میں اپنے پرانے اخبارات، تصاویر، خطوط اور دوسری دستاویزات کو ترتیب دے رہا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف میری ذاتی یادیں نہیں، بلکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی سیاسی سرگرمیوں کی تاریخ کا بھی ایک حصہ ہیں۔11 مئی 2004ءکو میاں شہباز شریف وطن واپس پہنچے، لیکن انہیں وطن میں ٹھہرنے نہیں دیا گیا۔ اس کے چند دن بعد نیویارک میں ہونے والی ہماری پریس کانفرنس اس واقعے پر بیرونِ ملک پاکستانی سیاسی کارکنوں کے ردِعمل کا ایک دستاویزی ریکارڈ بن گئی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض اخبارات کی سرخیاں نہیں رہتے بلکہ ان لوگوں کی زندگی اور یادداشتوں کا حصہ بن جاتے ہیں جو ان واقعات کے کسی نہ کسی مرحلے کے عینی شاہد یا عملی کردار رہے ہوں۔ میرے لیے مئی 2004ءکا زمانہ بھی ایسی ہی ایک یاد ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں شریف خاندان جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ اسی دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ 11 مئی 2004ءکو وہ لندن سے براستہ ابوظہبی لاہور پہنچے، لیکن انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ مل سکی اور چند گھنٹوں بعد انہیں دوبارہ سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔
اس وقت ہم پاکستان مسلم لیگ (ن) یو ایس اے کے پلیٹ فارم سے پارٹی اور اس کی قیادت کے ساتھ کھڑے تھے۔ روحیل ڈار صاحب پی ایم ایل (ن) یو ایس اے کے صدر، رانا محمد سعید جنرل سیکرٹری، جبکہ میں، سید انور واسطی، ایڈوائزر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا۔
میاں شہباز شریف کی وطن واپسی اور پھر لاہور ایئرپورٹ سے انہیں واپس بھیجے جانے کے بعد ہم نے نیویارک میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں اس وقت کی صورتحال پر اپنا مو¿قف پاکستانی کمیونٹی اور میڈیا کے سامنے رکھا۔
اس جدوجہد اور سرگرمیوں میں ہمارے ساتھ ملک جمیل، ناصر بھٹ، خالد اعوان اور امتیاز وڑائچ سمیت دیگر ساتھی بھی موجود اور سرگرم تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مشکل وقت میں اپنے اپنے انداز میں پارٹی کے لیے کام کیا اور بیرونِ ملک پارٹی کی آواز بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
اس پریس کانفرنس کو نیویارک سے شائع ہونے والے ہفت روزہ صدائے پاکستان انٹرنیشنل نے نمایاں کوریج دی۔ اس کا 27 مئی تا 2 جون 2004ءکا شمارہ آج بھی میرے ذاتی آرکائیو میں محفوظ ہے۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد جب میں اس اخبار کی یہ تراشہ دیکھتا ہوں تو اس دور کی بہت سی یادیں ایک مرتبہ پھر تازہ ہوجاتی ہیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب آج کی طرح سوشل میڈیا موجود نہیں تھا۔ اپنی بات دنیا تک پہنچانے کے لیے پریس کانفرنسیں، اخبارات، ٹیلی فون اور ذاتی رابطے ہی ہمارے اہم ذرائع تھے۔
امریکہ میں بھی ہم نے اپنی ذمہ داریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ میں اور عمران اگرا امریکی سینیٹ اور کانگریس کے حلقوں تک اپنا مو¿قف پہنچانے کی کوشش کرتے تھے، جبکہ عمران اگرا امریکی اخبارات اور میڈیا کے ساتھ رابطوں میں بھی کردار ادا کرتے تھے۔ رانا محمد سعید نیویارک سے لندن گئے اور وہاں پارٹی رابطوں اور معاملات میں اپنا کردار ادا کیا۔
میرے لیے اس دور کی ایک ذاتی یاد یہ بھی ہے کہ میاں شہباز شریف مجھے محبت سے “شاہ صاحب” کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ ان دنوں سے وابستہ کئی یادگار چیزیں اور دستاویزات آج بھی میرے ذاتی آرکائیو میں محفوظ ہیں، جن میں ان کا دیا ہوا ایک امریکی ہیلتھ کیئر کارڈ بھی شامل ہے، جو انہوں نے مجھے سنبھال کر رکھنے کے لیے دیا تھا۔
آج جب میں اپنے پرانے اخبارات، تصاویر، خطوط اور دوسری دستاویزات کو ترتیب دے رہا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف میری ذاتی یادیں نہیں، بلکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی سیاسی سرگرمیوں کی تاریخ کا بھی ایک حصہ ہیں۔11 مئی 2004ءکو میاں شہباز شریف وطن واپس پہنچے، لیکن انہیں وطن میں ٹھہرنے نہیں دیا گیا۔ اس کے چند دن بعد نیویارک میں ہونے والی ہماری پریس کانفرنس اس واقعے پر بیرونِ ملک پاکستانی سیاسی کارکنوں کے ردِعمل کا ایک دستاویزی ریکارڈ بن گئی۔
آج بھی میرے سامنے صدائے پاکستان کا وہ پرانا شمارہ موجود ہے۔ کاغذ پر وقت کے نشان ضرور آگئے ہیں، مگر اس سے وابستہ یادیں آج بھی تازہ ہیں۔
یہ تاریخ میں نے صرف پڑھی نہیں، بلکہ اس کے ایک حصے کو قریب سے دیکھا اور جیا ہے۔

(نوٹ: سید انور واسطی،ذاتی سیاسی آرکائیو سے ۔ نیویارک، 2004ئ)

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے