نیویارک سٹی لوکل گورنمنٹ الیکشن ، صدارتی الیکشن والے سال میں کروانے سمیت سٹی چارٹر میں اہم ترامیم تجویز کر دی گئیں
NYC Voters to Decide on Major Charter Reforms, Including Shifting Local Elections to Even Years
نیویارک سٹی میں 4 نومبر 2025 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ووٹرز کو نہ صرف مئیر سمیت لوکل گورنمنٹ نمائندوں کےلئے ووٹ دیں گے بلکہ سٹی چارٹر میں ترامیم پر رائے بھی دینگے
سٹی چارٹر میں ترامیم کا تعلق بنیادی طور پر رہائشی بحران، انتخابی اصلاحات، زمین کے استعمال، اور شہری ترقیاتی پالیسیوں اور لوکل گورنمنٹ الیکشن سے ہے ، چارٹر کمیشن کے چیئرمین رچرڈ بیوری اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلک شائیرن بیک کا ایتھنک اینڈ کمیونٹی میڈیا سے خطاب
نیویارک (محسن ظہیر سے) نیویارک سٹی میں 4 نومبر 2025 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات اس سال ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان انتخابات میں ووٹرز کو نہ صرف مقامی نمائندوں کے انتخاب کے لیے بیلٹ پر ووٹ دینا ہوگا بلکہ انہیں بیلٹ پیپر کے پچھلے رخ پر موجود پانچ اہم تجاویز پر بھی اپنی رائے دینی ہوگی۔ یہ تجاویز نیویارک سٹی چارٹر میں اصلاحات سے متعلق ہیں جن کا مقصد شہری حکومت کے مختلف شعبہ جات کو زیادہ موثر، شفاف اور عوام دوست بنانا ہے۔

یہ ترامیم نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز کی جانب سے قائم کردہ سٹی چارٹر ریویو کمیشن نے تیار کی ہیں۔ کمیشن کے چیئرمین رچرڈ بیوری اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلک شائیرن بیک نے حال ہی میں نیویارک کے کمیونٹی اور ایتھنک میڈیا کے نمائندوں سے ایک آن لائن میڈیا راونڈ ٹیبل میں ان ترامیم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے دسمبر 2024 میں اپنے قیام کے بعد پانچوں بوروز میں عوامی سماعتیں کیں اور شہریوں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تجاویز ترتیب دی گئیں۔ ان تجاویز کا تعلق بنیادی طور پر رہائشی بحران، انتخابی اصلاحات، زمین کے استعمال، اور شہری ترقیاتی پالیسیوں سے ہے۔
پہلی تجویز سستی رہائش کی فراہمی کے منصوبوں کو تیز تر بنانے سے متعلق ہے۔ اس کے تحت ایسی ہاو¿سنگ اسکیمز جو عوامی مالی امداد سے مکمل کی جائیں گی، ان کے لیے منظوری کے موجودہ پیچیدہ اور طویل عمل کو مختصر کیا جائے گا تاکہ کم آمدنی والے افراد کے لیے رہائش کا بحران کم ہو سکے۔ اس عمل میں کمیونٹی بورڈز کا جائزہ تو برقرار رہے گا، لیکن حتمی منظوری کا مرحلہ مختصر کر دیا جائے گا۔
دوسری مجوزہ ترمیم کا مقصد درمیانے درجے کے رہائشی یا بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو آسان بنانا ہے تاکہ اسکول، سڑکیں اور اوسط آمدنی والے گھر تیزی سے بن سکیں۔ موجودہ قوانین کے تحت ایسے منصوبے بھی مکمل سٹی کونسل کے طویل جائزے کے تابع ہوتے ہیں، جس سے وقت اور وسائل کا زیاں ہوتا ہے۔ نئی ترمیم کے تحت جائزہ کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
تیسری تجویز کے مطابق نیویارک سٹی میں ایک نیا اپیل بورڈ قائم کیا جائے گا، جس میں سٹی کونسل کا اسپیکر، مقامی بوروز کے صدور اور میئر شامل ہوں گے۔ اس اپیل بورڈ کا کام ان درخواستوں پر نظرثانی کرنا ہوگا جو سستی رہائش سے متعلق مسترد یا ترمیم شدہ کی گئی ہوں۔ اس سے ایک شفاف اور متوازن فیصلہ سازی کے عمل کو فروغ ملے گا اور مختلف نمائندہ اداروں کی آواز سنی جائے گی۔
چوتھی تجویز میں نیویارک سٹی کے زوننگ نظام کو جدید بنانے کی بات کی گئی ہے۔ فی الحال، شہر میں پانچ مختلف کاغذی نقشے استعمال کیے جا رہے ہیں جو علاقائی ترقی اور منصوبہ بندی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ نئی ترمیم کے مطابق ایک جامع اور جدید ڈیجیٹل زوننگ میپ تشکیل دیا جائے گا، جو کہ نہ صرف انتظامیہ بلکہ شہریوں کے لیے بھی کارآمد اور مو¿ثر ثابت ہوگا۔
پانچویں اور شاید سب سے زیادہ عوامی توجہ حاصل کرنے والی تجویز، نیویارک سٹی کے بلدیاتی انتخابات کو وفاقی صدارتی یا ریاستی انتخابات کے سال میں منتقل کرنے سے متعلق ہے۔ موجودہ نظام کے مطابق یہ انتخابات طاق سالوں میں منعقد ہوتے ہیں، جب کہ صدارتی یا گورنری انتخابات جفت سال میں ہوتے ہیں۔ اس تبدیلی کے ذریعے ووٹر ٹرن آو¿ٹ میں اضافہ متوقع ہے، اور اس کے نتیجے میں نیویارک سٹی کو تقریباً 42 ملین ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔ تاہم اس ترمیم پر عملدرآمد اس وقت ممکن ہوگا جب نیویارک اسٹیٹ کی سطح پر بھی اس کی منظوری دی جائے گی۔
چیئرمین رچرڈ بیوری کا کہنا تھا کہ سٹی چارٹر میں مجوزہ تبدیلیاں محض قانونی نکات نہیں بلکہ نیویارکرز کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والی تجاویز ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ان ترامیم پر سنجیدگی سے غور کریں اور الیکشن کے روز ووٹ ضرور ڈالیں۔ ان کے مطابق شہریوں کی آرائ کو بنیاد بنا کر سٹی چارٹر میں وہ تبدیلیاں کی جائیں گی جو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا حل فراہم کریں گی بلکہ مستقبل کے لیے بھی راہیں ہموار کریں گی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلک شائیرن بیک نے کہا کہ نیویارک سٹی اس وقت شدید ہاو¿سنگ بحران سے دوچار ہے۔ شہریوں کو اپنی آمدن کا بڑا حصہ کرایوں میں دینا پڑتا ہے اور وہ روزانہ اس مسئلے کو محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر شہری چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کو پالیسی کی سطح پر سنا جائے تو ان کا بیلٹ پیپر پر ”ہاں“یا ”ناں“ کہنا انتہائی اہم ہے۔
رچرڈ بیوری اور ایلک شائیرن بیک دونوں نے نیویارک کے ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ 4 نومبر کو انتخابات میں بھرپور شرکت کریں، اور نہ صرف میئر اور مقامی نمائندوں کے انتخاب میں حصہ لیں بلکہ بیلٹ پر درج ان تاریخی نوعیت کی تجاویز پر بھی اپنی رائے ضرور دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ووٹر کی رائے سٹی کے مستقبل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
NYC Voters to Decide on Major Charter Reforms, Including Shifting Local Elections to Even Years
NYC voters to weigh in on five charter proposals alongside mayoral and local elections on Nov 4, 2025
Reforms aim to address housing crisis, election turnout, land use, and streamlined governance
Charter Commission leaders urge New Yorkers to vote on key structural changes in city governance
Moving local elections to presidential years could boost turnout and save NYC $42 million
Richard Buery and Alec Schierenbeck: Public feedback shaped these historic proposed amendments



