نیویارک سمیت امریکہ کے مختلف شہروں میں امیگریشن اور جنگی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے
مظاہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگرنٹس کی گرفتاریوں کے لئے بڑے پیمانے پر چھاپوں اورجنگوں کے حوالے سے پالیسیوں کی مخالفت کی جا رہی ہے
مظاہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگرنٹس کی گرفتاریوں کے لئے بڑے پیمانے پر چھاپوں اورجنگوں کے حوالے سے پالیسیوں کی مخالفت کی جا رہی ہے
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ سمیت امریکہ کے قومی و سلامتی کے مفادات کے حق میں اٹھائے جانے والے اپنے اقدام جاری رکھیں گے
نیویارک ( اردونیوز) نیویارک سمیت امریکہ کے مختلف شہروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگرنٹ کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور چھاپوں ، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف ممالک سے جنگ کی پالیسیوں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اختیارات کے استعمال کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ نیویارک میں ہونیوالے احتجاجی مظاہرے کا عنوان ” نو کنگ ، نو آئس ، نو وار “ رکھا گیا ۔
احتجاجی مظاہروں میں ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے منتخب قائدین کے علاوہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے قائدین ، ارکان اور سرگرم ارکان حصہ لے رہے ہیں ۔ مظاہرین کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کو بے رحمانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان پالیسیوں کا اطلاق فوری بند کیا جائے، ٹرمہ انتظامیہ ، خود مختار ممالک میں مداخلت سے گریز کرے اور صدر ٹرمپ ایسے اقدام نہ کریں کہ جس سے وہ امریکی کانگریس کے اختیارات اور دائرہ کار کو بائی پاس کر دیں ۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ سمیت امریکہ کے قومی و سلامتی کے مفادات کے حق میں اٹھائے جانے والے اپنے اقدام جاری رکھیں گے ۔



