کالم و مضامینخبریں

واشنگٹن میں پاکستان کاکس کے زیر اہتمام” پاک امریکہ تعلقات“ سمپوزیم

پاکستان کو ایک طرف خارجی محاذ پر اہم چیلنجوں کا سامنا ہے دوسری طرف عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کا عالمی کردار اہم سفارتی حیثیت کا حامل بن گیا ہے

خصوصی مضمون ۔۔۔ محمد مہدی ( لاہور)

واشنگٹن ڈی سی میں یو ایس کانگریس مین ٹام سوازی ( ڈیموکریٹ ۔ نیویارک ) جو کہ کانگریس میں پاکستا ن کاکس کے شریک چئیرمین بھی ہیں ، پاکستان ، امریکہ کے بہتر تعلقات کے لئے سرگرم عمل ہے۔گذشتہ ہفتے رابطہ کیا گیا کہ میں ان کی جانب سے منعقدہ پاکستان اور امریکی تعلقات ماضی حال مستقبل پر میں شرکت کروں۔ اس میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈاکٹر پال، کانگریس مین جیکب ، لیزا کرٹس سنٹر فار نیو امیریکن سیکورٹی ، مائیکل کوگل مین، اٹلانٹک کونسل ، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر ، الیزبتھ سٹمسن سنٹر ، سفیر رضوان سعیدشیخ ، شان حمید ،ڈاکٹر حسن عباس وغیرہ نے شرکت کی۔ ان سے شناسا ہیں۔ اس میں شریک تو نہ ہو سکا لیکن اس کے نتائج میں گہری دلچسپی موجود رہی۔ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم مستقل بنیادوں پر دہشت گردی سے نبرد آزما ہیں اور اب تو اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ آپریشن غضب للحق کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ، یہ صرف کالعدم ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہے بلکہ بی ایل اے کا بھی معاملہ ساتھ ساتھ ہے۔
خوش گوار بات یہ ہے کہ جب کانگریس مین ٹام سوازی نے پریس سے بات کی تو ان حالات کے دوران اس نے پاکستان کو در پیش دہشت گردی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل اے کا ذکر کیا۔ کالعدم ٹی ٹی پی کا ذکر تو پھر بھی سمجھ آتا ہے کہ امریکی ابھی بھی اس پر حساس ہیں مگر بی ایل اے کا ذکر یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ میں کانگریس کی سطح پر ایسے لوگ متحرک ہیں کہ جو پاکستان کو در پیش خطرات کو صرف اپنی عینک سے ہی نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس وقت پاکستان عین امریکی جنگ کے دوران بھی توازن کی خارجہ پالیسی اختیار کر چکا ہے اور اس دوران امریکی کانگریس سے بھی پاکستان کے حق میں آواز کا بلند ہونا اس کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے لئے قبولیت صرف ٹرمپ کے اقتدار میں رہنے سے مشروط نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان حالات کو بہتر کرنے میں گامزن ہے اور یہ پاکستان جنگ کے آغاز سے قبل ہی کر رہا تھا، جب پاکستان نے ایک اعلی یورپی سفارت کار کی سہولت کاری کی تھی کہ وہ ایرانی سفارت خانے میں ملاقات کر سکے اور اس وقت بھی پاکستان اس حوالے سے مکمل طور پر جتا ہوا ہے۔ اس میں دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ایران کی موجودہ مشکلات کو رفع کرنے کی غرض سے تین ماہ کیلئے اپنی سرحد سے ایران کو وسطی ایشیا تک تجارت کرنے میں مراعات دے دی ہے۔
پاکستان کے لئے بھی وسطی ایشیا ءکی حیثیت مسلمہ ہے۔ ترکمانستان جو گیس کا بہت بڑا مہیا کرنے والا ملک ہے اس سے پاکستان تو تاپی گیس پائپ لائن اور بجلی تک کے حصول کیلئے کوشاں ہے ، معاہدے کر رکھے ہیں مگر افغانستان کے حالات کے سبب سے بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی ہے تو اس تین ماہ کی مراعات سے ہمارے لئے ایک اور راستہ سے وسطی ایشیا میں مواقع کھل جاتے ہیں۔ میری ترکمانستان کے سفیر سے ملاقات ہوئی ، وہ پاکستان میں گزشتہ سولہ برس سے متعین ہے جو کہ ان کو پاکستان میں سب سے سینئر سفارت کار کا بنا دیتا ہے۔ صرف ترکمانستان ہی نہیں بلکہ پورے وسطی ایشیا پر ان کی گہری نظر ہے۔ ایسی شخصیت کی موجودگی سے پاکستان نا صرف کہ ترکمانستان بلکہ پورے وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کو حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت وسطی ایشیا پر گہری توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے کیوں کہ حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ توانائی کے لئے جتنے بھی راستے تلاش کئے جا سکتے ہیں وہ تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے۔
بلا شبہ ہمارے اس بحران میں بھی عرب ممالک سے بہت اچھے تعلقات قائم ہیں اور ہماری توانائی کی ضروریات ادھر ہی سے پوری بھی ہوتی ہے مگر پھر بھی ہر موقع کو مہیا رکھنا چاہئے۔ عرب ممالک کا ذکر آیا تو ابھی جس قسم کے الفاظ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے لئے استعمال کئے ہیں۔ اب پر صرف جذباتی ہونے کی بجائے اس کا تعین کرنا چاہئے کہ سعودی عرب امریکہ کی ایسی کون سی بات نہیں مان رہا ہے یا کس بات سے عملی طور پر کنی کترا رہا ہے کہ جو امریکی صدر کو اس حد تک نا گوار گزری ہے۔
جمال خاشقجی کے قتل پر امریکی رویئہ ہو یا تیل کی قیمت بڑھانے گھٹانے پر اختلافات ، یا چین کی ثالثی میں ایران سے سعودی عرب کے 2023 میں تعلقات کی بحالی ، سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ میں پہلے بھی انہی کالموں میں عرض کر چکا ہوں کہ سعودی عرب اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اگر اسرائیل کے عرب دنیا سے لے کر عجم تک برتر حیثیت قائم ہو گئی تو اس کے سعودی عرب پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ بھی اس ہی حوالے سے سعودی عرب کی حکمت عملی ہے اور ہم۔ دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب پر پاک سعودی معاہدہ کے بعد یمن کی جانب سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا ہے کیوں کہ پاکستان نے اس حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ہے اور ویسے بھی یمنی اس بات کے شکر گزار ہیں کہ پاکستان نے سخت دباو¿ کے باوجود ان کے خلاف فوج نہیں بھیجی تھی اور نواز شریف نے انکار کردیا تھا۔ دباو¿ کو برداشت کرکے قومی مفاد میں کئے گئے فیصلوں کی فصل قوم نسلوں تک کھاتی ہے اور اب یہ ہی ہو رہا ہے۔

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button