تین نومبر کو ہونیوالا الیکشن ، امریکی تاریخ کے اہم ترین الیکشن ہیں ،کانگریس وومین لارا گیلن
لانگ آئی لینڈ، نیویارک سے ڈیموکریٹ کانگریس وومین لارا گیلن کے لئے سید انور واسطی اور مسز عظمی واسطی کا عمران اگرہ کے اشتراک سے فنڈ ریزنگ استقبالیہ ، کمیونٹی کی اہم شخصیات کی شرکت
تین نومبر کو ہونیوالا الیکشن ، امریکی تاریخ کے اہم ترین الیکشن ہیں ، ڈیموکریٹس اِن الیکشن میں کامیاب ہو کر موجودہ ٹرمپ دور میں کھو جانیوالی اعلیٰ امریکی اقدار کو بحال کریں گی،کانگریس وومین لارا گیلن
امیگریشن کے حوالے سے بھی لارا گیلن نے اپنے کانگریسی کردار کا ذکر کیا،نے قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، معیشت اور موجودہ وفاقی انتظامیہ کے حوالے سے بھی اپنے سیاسی موقف کا اظہار کیا
کانگریس کا کردار انتظامیہ کے اختیارات پر آئینی چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنا ہے، کانگریس وومین لارا گیلن نے موجودہ پالیسیوں کے بعض معاشی اور قومی سلامتی کے اثرات پر اپنے تحفظات بیان کیے
استقبالیہ میں شرکت کے لئے لارا گیلن واسطی ہاؤس پہنچیں تو سید انور واسطی اور مسز واسطی نے شریک میز بان عمران اگرہ اور شرکاءکے ساتھ مل کر ان کا پرتپاک استقبال کیااور انہیں خوش آمدید کہا
تقریب کے اختتام پر میزبان فیملی کی جانب سے کانگریس وومین لارا گیلن اور سابق اسمبلی وومین کرسٹین پیلی گرینو کو بطور تحفہ اجرک پیش کی گئیں جس پر انہوں نے شکرئیہ اور خوشی کا اظہا ر کیا
شرکاءنے کانگریس وومین لارا گیلن کو تین نومبر کو ہونیوالے الیکشن میں اپنی حمایت کا یقین دلایا ، کانگریس وومین سے سے مختلف امور پر گفتگو کی اور کمیونٹی سے متعلقہ اہم امور کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا

نیویارک ( اردو نیوز)لانگ آئی لینڈ ، نیویارک کے کانگریشنل ڈسٹرکٹ 4سے ڈیموکریٹ کانگریس وومین لارا گیلن ، کا کہناہے کہ تین نومبر کو ہونیوالا الیکشن ، امریکی تاریخ کے اہم ترین الیکشن ہیں ۔ ڈیموکریٹس اِن الیکشن میں کامیاب ہو کر موجودہ ٹرمپ دور میں کھو جانیوالی اعلیٰ امریکی اقدار کو بحال کریں گی۔ لہٰذا لانگ آئی لینڈ، نیویارک کی امیگرنٹ کمیونٹی انہیں تین نومبر کو ایک بار کانگریس کےلئے منتخب کریں ۔ کانگریس وومین لارا گیلن کا یہ بھی کہنا تھا کہ تین نومبر کودوسری ٹرم کےلئے کانگریس کا الیکشن جیتنے کے بعد موقع ملنے پر وہ پاکستان کاکس کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ بھی کریں گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی امریکن کمیونٹی کی سماجی شخصیت سید انور واسطی اور مسز عظمی واسطی کی جانب سے دئیے گئے استقبالیہ جس کے انعقاد میں عمران اگرہ نے بھی کردار ادا کیا، میں شرکاءسے غیر رسمی بات چیت کے دوران کیا ۔
استقبالیہ میں پاکستانی امریکن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات روحیل ڈار، رانا سعید، ملک جمیل، شان ملک، وحید علی زئی، نوشہ واسطی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی، جبکہ سابق نیویارک سٹیٹ اسمبلی وومین کرسٹین پیلی گرینو اور کانگریس وومین لارا گیلن کے شوہر بھی تقریب میں موجود تھے۔
استقبالیہ میں شرکت کے لئے لارا گیلن واسطی ہاؤس پہنچیں تو سید انور واسطی اور مسز واسطی نے شرکاءکے ساتھ مل کر ان کا پرتپاک استقبال کیااور انہیں خوش آمدید کہا۔میزبانان کی جانب سے فرداً فرداً تمام شرکاءکا کانگریس وومین سے تعارف کروایا گیا ۔
کانگریس وومین لارا گیلن کا کہنا تھا کہ وہ نیویارک کے چوتھے کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کرتی ہیں، جس میں لانگ آئی لینڈ کا ساو¿تھ شور، ویلی اسٹریم اور ایلمونٹ سے لے کر وانٹاگ، سیفورڈ، ساحلی علاقوں اور گارڈن سٹی و ویسٹ بری کے علاقے شامل ہیں۔ وہ 2026 میں دوسری ٹرم کے لیے دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں۔
لارا گیلن نے کہا کہ 3 نومبر کو ہونے والا عام انتخابات ان کے لیے انتہائی اہم ہے اور انہوں نے اپنے حامیوں سے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ نیویارک اسٹیٹ بورڈ آف الیکشنز کے مطابق 2026 کا جنرل الیکشن 3 نومبر کو ہوگا، جبکہ ارلی ووٹنگ 24 اکتوبر سے یکم نومبر تک جاری رہے گی۔
کانگریس وومین گیلن نے اپنے خطاب میں اپنے گزشتہ سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جارج ٹاو¿ن یونیورسٹی سے گورنمنٹ کی تعلیم حاصل کی، کیپیٹل ہل پر کام کیا، بعد ازاں قانون کی تعلیم حاصل کی اور نیویارک میں وکالت کی۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں مقامی سیاست میں آنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انہیں محسوس ہوا کہ سیاسی اختلافات اور مقامی نظام کے مسائل عوام کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس میں ان کی ترجیحات میں اپنے حلقے کے لیے وفاقی فنڈز واپس لانا، پانی کے بنیادی ڈھانچے، فائر ڈیپارٹمنٹس، لائبریریوں اور مذہبی عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لیے فنڈز حاصل کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق ان کے دفتر نے مختلف مذہبی اداروں کو وفاقی سکیورٹی گرانٹس کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے معلوماتی پروگرام بھی منعقد کیے۔
لارا گیلن نے ٹیکس، ہاؤسنگ، یوٹیلیٹی اخراجات اور مہنگائی کے حوالے سے بھی اپنے خیالات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک جیسے مہنگے علاقوں میں رہنے والے خاندانوں پر اخراجات کا دباؤ زیادہ ہے اور ٹیکس پالیسی میں رہائشی اخراجات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
ہیلتھ کیئر کے حوالے سے انہوں نے موجودہ پالیسی تبدیلیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ہیلتھ انشورنس اور میڈیکیڈ سے متعلق بعض تبدیلیوں کے اثرات کم آمدنی والے خاندانوں اور خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد پر پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں وہ ہیلتھ کیئر کے اخراجات کم کرنے اور افورڈیبل کئیر ایکٹ (اے سی اے) سے متعلق ٹیکس کریڈٹس کی بحالی کے لیے کام جاری رکھیں گی۔
امیگریشن کے حوالے سے بھی لارا گیلن نے اپنے کانگریسی کردار کا ذکر کیا۔لارا گیلن نے قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، معیشت اور موجودہ وفاقی انتظامیہ کے حوالے سے بھی اپنے سیاسی مو¿قف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا کردار انتظامیہ کے اختیارات پر آئینی چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنا ہے اور انہوں نے موجودہ پالیسیوں کے بعض معاشی اور قومی سلامتی کے اثرات پر اپنے تحفظات بیان کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ دوسری مدت کے لیے کانگریس میں منتخب ہونے کی صورت میں لانگ آئی لینڈ کے عوام کے مسائل واشنگٹن میں اٹھاتی رہیں گی۔ انہوں نے پاکستانی امریکن کمیونٹی سے اپنے تعلق اور کمیونٹی کے ساتھ رابطے کو بھی اہم قرار دیا۔
لارا گیلن اس وقت امریکی ایوان نمائندگان میں نیویارک کے چوتھے کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کر رہی ہیں اور ان کی موجودہ کمیٹی اسائنمنٹس میں ٹرانسپورٹیشن اینڈ انفراسٹرکچر اور سائنس، اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹیاں شامل ہیں۔
تقریب کے اختتام پر میزبان فیملی کی جانب سے کانگریس وومین لارا گیلن اور سابق اسمبلی وومین کرسٹین پیلی گرینو کو بطور تحفہ اجرک پیش کی گئیں جس پر انہوں نے شکرئیہ اور خوشی کا اظہا ر کیا۔ شرکاءنے کانگریس وومین لارا گیلن کو تین نومبر کو ہونیوالے الیکشن میں اپنی حمایت کا یقین دلایا ۔ شرکاءنے کانگریس وومین سے سے مختلف امور پر گفتگو کی اور لانگ آئی لینڈ کی کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
Congresswoman Laura Gillen: November 3 Election Among the Most Important in U.S. History
Wasti Family Hosts Fundraising Reception Honoring Pakistan Caucus Member Laura Gillen



