نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے رمضان المبارک کا پہلا جمعہ الخوئی فاؤنڈیشن میں ادا کیا
میئر ظہران ممدانی نے عام نمازیوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو کر نماز جمعہ ادا کی،جمعہ کی نماز معمول کے مطابق سادگی اور نظم و ضبط کے ساتھ ادا کی گئی
میئر ظہران ممدانی نے عام نمازیوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو کر نماز جمعہ ادا کی،جمعہ کی نماز معمولکے مطابق سادگی اور نظم و ضبط کے ساتھ ادا کی گئی
الخوئی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام الایمان اسکول کے طلبہ نے میئر کو ان کی تصاویر اور آرٹ ورک پیش کیے
نیویارک (اردو نیوز ) نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے ماہِ رمضان المبارک کا پہلا جمعہ کوئنز میں قائممعروف اسلامی ادارے الخوئی فاؤنڈیشن میں ادا کیا، جہاں انہوں نے عام نمازیوں کے ساتھ صف میںکھڑے ہو کر نماز جمعہ ادا کی۔
جمعہ کی نماز معمول کے مطابق سادگی اور نظم و ضبط کے ساتھ ادا کی گئی۔ نمازیوں نے دروازے پرجوتے ترتیب سے رکھے، صفیں بنائیں اور خاموشی کے ساتھ خطبہ اور نماز کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر میئرظہران ممدانی بغیر کسی خصوصی انتظام یا نمایاں پروٹوکول کے دیگر نمازیوں کے ساتھ صف میں شاملہوئے۔ وہ نہ اگلی صف میں نمایاں طور پر کھڑے ہوئے اور نہ ہی الگ جگہ اختیار کی، بلکہ عام شہریوں کیطرح شانہ بشانہ نماز ادا کی۔
نماز کے دوران میئر نے مکمل خشوع و خضوع کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، سجدہ کیااور نماز کے اختتام پر دائیں اور بائیں سلام پھیرا۔ اس موقع پر کسی قسم کی سیاسی سرگرمی یا تشہیری اندازاختیار نہیں کیا گیا۔
نماز کے بعد کمیونٹی رہنماؤں نے میئر کا خیر مقدم کیا اور انہیں مختصر خطاب کی دعوت دی۔ اپنے خطابمیں ظہران ممدانی نے کہا کہ الخوئی فاؤنڈیشن آ کر انہیں گھر واپس آنے جیسا احساس ہوا۔ انہوں نے کہاکہ یہ مرکز صرف ایک اسلامی سینٹر نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی ورثہ ہے، جو برسوں سے کمیونٹی کیرہنمائی کر رہا ہے۔
میئر نے حالیہ انٹر فیتھ تقاریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں پیش آنے والےواقعات، خصوصاً پاکستان میں حملوں کے متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے اس عزمکا اظہار کیا کہ بطور میئر ان کی ذمہ داری نیویارک سٹی کے تمام شہریوں کی خدمت کرنا ہے، چاہے ان کامذہب، نسل یا پس منظر کچھ بھی ہو۔
اس موقع پر الخوئی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام الایمان اسکول کے طلبہ نے میئر کو ان کی تصاویر اور آرٹورک پیش کیے۔ طلبہ نے اپنی تخلیقات کے ذریعے خوشی اور فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ خود کو شہر کیقیادت میں نمائندگی ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
کمیونٹی کے افراد کے مطابق میئر کا یہ دورہ ایک اہم پیغام تھا کہ مذہبی شناخت اور عوامی خدمت ایک ساتھچل سکتی ہیں۔ رمضان المبارک کے پہلے جمعہ پر ان کی شرکت کو کمیونٹی نے مثبت اور حوصلہ افزا قدمقرار دیا، جس سے نیویارک سٹی کی متنوع آبادی میں شمولیت اور ہم آہنگی کا پیغام مضبوط ہوا۔



