پاکستان

کون بنے گا مئیر نیویارک ؟آج نیویارکرز فیصلہ کریں گے

الیکشن میں اگر34سالہ زوہران ممدانی کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم ، ساؤتھ ایشین امریکن اور امیگرنٹ مئیر ہوں گے

نیویارک سٹی میں شہری اپنے 111ویں مئیر کا اانتخاب کریں گے ۔ ان الیکشن میں اگر34سالہ زوہران ممدانی کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم ، ساؤتھ ایشین امریکن اور امیگرنٹ مئیر ہوں گے
مئیر نیویارک سٹی کی دوڑ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے نامزد امیدوار زوہران ممدانی ، ریپبلکن امیدوار کرٹس سلائیوا اور آزادامیدوار اینڈریو کومو شامل ہیں ۔ نیویارک سٹی کے موجودہ مئیر ایرک ایڈمز دوسری ٹرم کے لئے مئیر بننے میں ناکام ہوئے ہیں

نیویارک ( محسن ظہیر سے ) نیویارک سٹی کو آئندہ چار سال کے لئے مئیر کون ہوگا؟ اس بات کا فیصلہ آج منگل ، 4نومبر کو نیویارکرز کریں گے ۔ نیویارک سٹی میں مئیر سمیت دیگر لوکل گورنمنٹ عہدوں کے لئے پولنگ صبح چھ بجے شروع ہو گئی ہے جو کہ رات نو بجے تک جاری رہے گی ۔
مئیر نیویارک سٹی کی دوڑ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے نامزد امیدوار زوہران ممدانی ، ریپبلکن امیدوار کرٹس سلائیوا اور آزادامیدوار اینڈریو کومو شامل ہیں ۔ نیویارک سٹی کے موجودہ مئیر ایرک ایڈمز دوسری ٹرم کے لئے مئیر بننے میں ناکام ہوئے ہیں اور الیکشن سے دو ہفتے قبل دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے ۔
نیویارک سٹی میں شہری اپنے 111ویں مئیر کا اانتخاب کریں گے ۔ نیویارک سٹی کے مئیر کے الیکشن متعدد لحاظ سے تاریخی ہیں ۔ ان الیکشن میں اگر34سالہ زوہران ممدانی کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم ، ساو¿تھ ایشین امریکن اور امیگرنٹ مئیر ہوں گے ۔34سالہ ممدانی ، یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں والدین کے ہمراہ امریکہ مائیگریٹ ہوئے ۔
زوہران ممدانی کے67سالہ اینڈریو کومو ، نیویارک سٹیٹ کے سابق گورنر رہ چکے ہیں اور ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے ۔ وہ رواں سال کے وسط میں ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری الیکشن میں اپنے حریف زوہران ممدانی سے شکست کھا چکے ہیں اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑررہے ہیں ۔ اینڈریو کومو جن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے ، کو مئیر کے الیکشن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپورٹ کردیا ہے ۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے الیکشن سے ایک دن قبل اپنی ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کرٹس سلائیوا کی بجائے ،اینڈریو کومو کی اس لئے تائید کی گئی کہ کسی بھی صورت میں زوہران ممدانی کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔
ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے 71سالہ کرٹس سلائیوا تمام تر دباو¿ کے باجود مئیر کے الیکشن کی دوڑ سے دستبردار نہیں ہوئے اور الیکشن لڑررہے ہیں ۔
نیویارک سٹی جس کی آبادی تقریباً85لاکھ ہے ، میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 47لاکھ ہے ۔نیویارک سٹی میں سال 2021میں ہونیوالے گذشتہ مئیر الیکشن میں موجودہ مئیر ایرک ایڈمز 66فیصد ووٹ لے کر ریپبلکن امیدوار کرٹس سلائیوا کے مقابلے میں جیتے تھے اور کرٹس سلائیوا کو 27فیصد سے زائد ووٹ ملے تھے ۔
زوہران ممدانی جنہیں پولز میں برتری حاصل ہے ، کو ہرانے کے لئے جہاں صدر ٹرمپ سمیت ریپبلکن ان کی مخالفت کررہے ہیں ، وہاں پر ڈیموکریٹ پارٹی کے بعض اہم قائدین کی جانب سے بھی زوہران ممدانی جنہیں ڈیموکریٹ سوشلسٹ قرار دیا جاتا ہے ، تائید نہیں کی گئی ہے ۔
دریں اثناءنیویارک سٹی جہاں پر امریکہ کے 123ارب پتی رہتے ہیں ، کی اکثریت کی جانب سے بھی زوہران ممدانی کا گریسی مینشن جو کہ مئیر نیویارک کی سرکاری رہائشگاہ ہے، تک پہنچنے کا راستہ پیسے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔
سیاسی پنڈت ، نیویارک سٹی کے الیکشن ، امریکہ میں صدر ٹرمپ جن کی وائٹ ہاو¿س میں دوسری ٹرم کا پہلا سال مکمل ہونے جا رہا ہے ، پرریفرنڈم قرار دیا جارہا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ الیکشن ، امریکہ میں روٹی ، کپڑا ، مکان کے نعروں پر لڑا جا رہا ہے اور زوہران ممدانی کا کہنا ہے کہ وہ اگر مئیر منتخب ہو گئے تو نیویارک سٹی میں بسیں فری ہوں گے ، وہ لاکھوں ایسے اپارٹمنٹ جو کہ رینٹ کنٹرول کے زمرے میں آتے ہیں، کے کرائیوں میں اضافے کو روک دیں گے اور یونیورسل چائلڈ کئیر کو یقینی بنائیں گے جبکہ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ صرف سیاسی نعرے ہیں ، عملی طور پر وہ کر نہیں پائیں گے ۔
مئیر کے امیدواروں کے انتخابی نعروں میں کس کے حق میں نیویاکرز اپنا فیصلہ دیں گے ، اس کا اعلان چار نومبر کی رات نیویارک میں کر دیا جائیگا۔
نیویارک سٹی کے علاوہ امریکہ کی دو اہم ریاستوں نیوجرسی اور ورجینیا میں بھی گورنر کے الیکشن ہورہے ہیں جہاں پر ڈیموکریٹ اور ریپبلکن میں کانٹے دار مقابلہ ہے اور دونوں جماعتیں ان الیکشن میں کامیابی کے لئے سر توڑ کوششیں کررہی ہیں ۔
نیویارک سٹی ، نیوجرسی اور ورجینیا سٹیٹ میں الیکشن کے بعد امریکہ میں آئندہ سال مڈ ٹرم کانگریشنل الیکشن ہونے جا رہے ہیں ۔ ریپبلک جن کے پاس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت ہے ، سے یہ اکثریت واپس چھینے کا ڈیموکریٹس ہدف بنائے ہوئے ہیں ۔

Related Articles

Back to top button