بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جن سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانی ترقی نے خود انسان کو انسان کے حال سے غافل کر کے رکھ دیا ہے
تحریر ۔۔۔ ظاہر سید ، نیویارک
بے شمار تہذیبوں زبانوں سوچوں کی مجموعی شکل و صورت کو ہی یقینا دنیا کہا جا سکتا ہے یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے ہر کسی کو اختلاف کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔ میرے اس مضمون کی پہلی قسط پڑھنے کے بعد میرا ہر قاری یہ ضرور سوچے گا کہ ہاں واقعی ہم اپنے حال سے بے خبر ہیں ۔
دنیا کو موضوع بحث بنا کر لکھنے والوں میں سے زیادہ تر لوگوں نے دنیا کے ماضی اور مستقبل پر لکھا ہے بہت کم لکھنے والے ایسے ہیں کہ جنہوں نے دنیا کے حال کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔ اس وقت ہم دنیا میں کہیں بھی کسی بھی معاشرے میں چلے جائیں ،اس معاشرے میں خوف اور مایوسی کی لہر ہمیں نمایاں نظر آئے گی، آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟
میرے نظرئیے کے مطابق جہاں پر ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کی فکر ہی موضوع بحث رہی ہو تو وہاں پر انسانی سوچ نے اپنے حال پر کب دھیان دیا ہوگا کہ انسان کا حال بھی اس سے کچھ تقاضے کر رہا ہوتا ہے جب جب انسانی ذہن نے ترقی کی تب تب انسان اپنے حال سے دور ہوتا چلا گیا۔ مثال کے طور پر انسان نے پرانی تہذیبوں کو دریافت کرنا شروع کیا تو اپنی موجودہ تہذیب سے دور ہوتا چلا گیا۔
مستقبل کے خطرات سے بچنے کے لیے موجودہ خطرات کو نظر انداز کر بیٹھا۔ مثلا انسان نے کیمیکل کی دنیا میں کئی کیمیکلز ایسے بنائے کہ جن کا تعلق آنے والے وقت کے لیے کئی چیزوں کو محفوظ بنانا تھا مگر وہی کیمیکلز موجودہ وقت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔
بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جن سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانی ترقی نے خود انسان کو انسان کے حال سے غافل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس وقت میری تحریر پڑھنے والا شخص اب تک یقینا یہی سوچ رہا ہوگا کہ یہ تحریر لکھنے والا شخص دنیا میں سائنسی ترقی کے خلاف ہے ؛نہیں نہیں ہرگز نہیں میں سائنسی ترقی کے خلاف نہیں ہوں میں تو سائنسی ترقی کو انسان کے حال کو بہتر بنانے کے حق میں ہوں کیونکہ میں مسلمان ہوں۔
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اسلام دنیا کا واحد وہ مذہب ہے کہ جس نے تینوں زمانوں کے لیے تعلیمات فراہم کی ہیں ۔اسلام نے یہ بتایا کہ ماضی سے سبق حاصل کر کے اپنے حال پر غور و فکر کرو اور اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کرو ۔
اس وقت دنیا ایک جنون کی کیفیت میں ہے وہ کیسے ؟وہ ایسے کہ دنیا میں انسان ہیں تو دنیا آباد ہے اور اگر کوئی انسان اپنے حال سے بے خبر ہو جائے تو اس کو دوسرے لوگ پاگل اور مجنون کہتے ہیں سوچنے اور ڈسکس کرنے کی بات یہ ہے کہ انسان اس وقت کس حال میں ہے ؟اس وقت انسان ماضی کے پچھتاو¿ں اور مستقبل کی فکر کو لے کر اپنے حال کو مایوسی اور خوف کے اندھیروں میں لے کر بیٹھا ہوا ہے مگر اس کا ذمہ دار بھی انسان ہی ہے ۔یہ بات میں اپنے پڑھنے والوں پر چھوڑ رہا ہوں کہ وہ غور و فکر کریں کہ انسان کیسے اس کا ذمہ دار ہے۔ ماضی انسان کی عبرت ہے حال انسان کی فطرت ہے اور مستقبل انسان کی اجرت ہے
عبرت فطرت اور اجرت یہ انسانی زندگی کے تین اصول ہیں ۔مگر اس وقت کا انسان یعنی ہم سمیت میرے ان تینوں اصولوں کے خلاف چل رہا ہے
مثلا ماضی سے ہم عبرت کے بجائے اجرت کی امید لگا کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ قران کہتا ہے تمہارے سے پہلے بہت ساری قومیں اپنی نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے نشان عبرت بنا دی گئی .( القران )
اس دنیا کو اللہ نے عدل و انصاف کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ اس کو امتحان کے اصول پر بنایا گیا ہے اور امتحان کا اصول یہ ہے کہ جو طالب علم دوران کلاس اپنے حال سے اگاہ رہتا ہے اور پڑھائے جانے والے مضمون کے لیکچر کو اچھی طرح سمجھ لیتا ہے ،وہی طالب علم امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیاب بھی ہوجاتاہے



