واشنگٹن ڈی سی میں قتل کے ملزمان کےلئے سزائے موت ہونی چاہئیے، ٹرمپ
انتظامیہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے تمام قتل کے مقدمات میں سزائے موت دینے کی کوشش کرے گی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روز اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے تمام قتل کے مقدمات میں سزائے موت دینے کی کوشش کرے گی۔ یہ اعلان انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں کیا اور کہا کہ سزائے موت کا خوف ایک “بہت مضبوط روک تھام” ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجرم اس لیے جرائم کرتے ہیں کیونکہ وہ نتائج سے نہیں ڈرتے۔ ان کے بقول، “ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔” تاہم ماہرین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ اپنے اس اعلان پر کیسے عملدرآمد کرائیں گے، کیونکہ واشنگٹن ڈی سی میں مقامی قانون کے تحت سزائے موت موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے 1972 میں ڈی سی میں سزائے موت کو کالعدم قرار دیا تھا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ٹرمپ ممکنہ طور پر کانگریس سے مطالبہ کرسکتے ہیں کہ وہ مقامی قوانین میں سزائے موت کو دوبارہ شامل کرے اور اسے لازمی قرار دے، تاہم سپریم کورٹ نے کئی دہائیوں پہلے لازمی سزائے موت کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا تھاڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر روبن مائر نے کہا کہ اس اقدام سے واشنگٹن میں قتل کے مقدمات کی کارروائی کے طریقہ کار میں ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے اور یہ ٹیکس دہندگان پر بھاری بوجھ ڈالے گا، کیونکہ سزائے موت کے مقدمات عام مقدمات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مہنگے اور طویل ہوتے ہیں۔یاد رہے کہ واشنگٹن میں آخری بار 1957 میں ایک مجرم کو برقی کرسی کے ذریعے پھانسی دی گئی تھی جبکہ 1992 کے ریفرنڈم میں شہریوں نے بڑی تعداد میں سزائے موت کو مسترد کر دیا تھا۔ماہرین کے مطابق اگر ٹرمپ ہر قتل کے مقدمے میں سزائے موت دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے عدالتی نظام بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔
Trump: Administration Will Seek Death Penalty in All Murder Cases in Washington, D.C.



