امریکی ٹیکس دہندگان خاندانوں کو سال2026کے اوائل میں ایک سے 2ہزار ڈالرز فی خاندان ملیں گے !
حکومت تقریباً 100 سے 150 ارب ڈالر کے ریفنڈ جاری کرے گی، جس سے فی گھرانہ 1,000 سے 2,000 ڈالر تک کی واپسی متوقع ہے
واشنگٹن( محسن ظہیر سے ) امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال کے اوائل میں محنت کش امریکیوں کو ایک ہزار سے دو ہزار ڈالر تک کے بڑے ٹیکس ریفنڈ ملیں گے۔ ان کے مطابق یہ رقم 2026 کی پہلی سہ ماہی میں چیک کی صورت میں بھیجی جائے گی، جو صدر ٹرمپ کے بجٹ پر مبنی جامع قانون “ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ” کے تحت منظور کی گئی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ حکومت تقریباً 100 سے 150 ارب ڈالر کے ریفنڈ جاری کرے گی، جس سے فی گھرانہ 1,000 سے 2,000 ڈالر تک کی واپسی متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون میں شامل مختلف شقیں—جیسے آٹو ڈیڈکٹیبلٹی اور ٹِپس پر ٹیکس کی مکمل چھوٹ—ریفنڈ میں اضافے کا باعث بنیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے امریکی ملازمین نے ابھی اپنی ٹیکس وِدھ ہولڈنگ میں تبدیلی نہیں کی، جس کی وجہ سے زیادہ تر افراد کو اگلے سال بڑے ریفنڈ ملیں گے۔ ریفنڈ ملنے کے بعد توقع ہے کہ امریکی کم وِدھ ہولڈنگ منتخب کریں گے، جس سے ہر تنخواہ میں ٹیکس کم کٹے گا اور یوں انہیں اجرت میں “حقیقی اضافہ” محسوس ہوگا۔
دوسری جانب، وائٹ ہاو¿س کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ نے پیر کے روز کہا کہ امریکیوں کو آئندہ سال تقریباً 1,600 سے 2,000 ڈالر اضافی مل سکتے ہیں، جن میں زیادہ حصہ ٹیکس ریفنڈ کا ہوگا۔
یہ بل جولائی میں منظور ہوا تھا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے امیر طبقے کو زیادہ فائدہ پہنچے گا جبکہ میڈیکَیڈ اور فوڈ اسٹیمپس جیسے اہم سماجی پروگراموں میں کٹوتیوں کا خدشہ ہے۔
U.S. Workers to Receive $1,000–$2,000 Tax Refunds in Early 2026 Under New Trump Tax Law



