امیگریشن نیوزپاکستان

نیویارک سٹی کا نئی ”پبلک چارج“ پالیسی کے خلاف وفاقی حکومت پر مقدمہ، مئیر ممدانی ، اٹارنی جنرل لٹیشا جیمز کا اعلان

نیویارک سٹی نے شکاگو، سان فرانسسکو، سیاٹل، سانتا کلارا کاؤنٹی اور کنگ کاو¿نٹی سمیت دیگر مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے نئے پبلک چارج ضابطے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، مئیر ممدانی

نیویارک سٹی کا نئی ”پبلک چارج“ پالیسی کے خلاف وفاقی حکومت پر مقدمہ
نیویارک سٹی نے شکاگو، سان فرانسسکو، سیاٹل، سانتا کلارا کاؤنٹی اور کنگ کاو¿نٹی سمیت دیگر مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے نئے پبلک چارج ضابطے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، مئیر ممدانی

نیویارک ( محسن ظہیر سے ) نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک سٹی نے شکاگو، سان فرانسسکو، سیاٹل، سانتا کلارا کاؤنٹی اور کنگ کاو¿نٹی سمیت دیگر مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے نئے پبلک چارج ضابطے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمہ نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ نیا ضابطہ 18 ستمبر 2026 سے نافذ ہونے کے لیے مقرر ہے۔ نیویارک سٹی اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اس ضابطے کے تحت بعض تارکین وطن کے گرین کارڈ یا ویزا کے معاملات میں سرکاری فوائد کے استعمال کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے، جس سے امیگریشن افسران کو زیادہ صوابدید حاصل ہوگی۔
میئر ممدانی نے کہا کہ اس پالیسی سے تارکین وطن خاندانوں میں خوف اور غیر یقینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور بعض خاندان صحت، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات حاصل کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک سٹی اس ضابطے کو عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرے گا۔
نیویارک کے کارپوریشن کونسل اسٹیون بینکس نے کہا کہ نیویارک سٹی نے 2019 میں بھی پبلک چارج کے ایک سابق وفاقی ضابطے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ مقدمے میں عدالت سے نئے ضابطے پر مستقل پابندی عائد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے بھی الگ مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کے دفتر کے مطابق اس مقدمے میں 21 دیگر ریاستیں اور واشنگٹن ڈی سی شامل ہیں۔ ریاستی اتحاد کا مو¿قف ہے کہ نیا ضابطہ وفاقی حکومت کے اختیار سے تجاوز کرتا ہے اور امیگریشن افسران کو سرکاری فوائد کے استعمال کی بنیاد پر گرین کارڈ کے فیصلوں میں وسیع اختیار دیتا ہے۔
میئر ممدانی نے نیویارک کے ان تارکین وطن سے بھی کہا ہے جو سنیپ، میڈی کیڈ، وک، ٹی اے این ایف(SNAP، Medicaid، WIC یا TANF )جیسی سہولیات استعمال کرتے ہیں کہ صرف اس ضابطے کے خوف کی وجہ سے فوائد ختم نہ کریں اور کسی بھی فیصلے سے پہلے قابل اعتماد قانونی ماہر سے مشورہ کریں۔
نیویارک سٹی کے میئرز آفس آف امیگرنٹ افیئرز نے قانونی مدد کے لیے ہاٹ لائن
1-800-354-0365.
بھی فراہم کی ہے۔یہ مقدمات اب عدالتوں میں زیرِ سماعت ہوں گے اور آئندہ عدالتی فیصلے طے کریں گے کہ نیا پبلک چارج ضابطہ مقررہ تاریخ پر نافذ ہوتا ہے یا اس پر عدالت کی جانب سے روک لگائی جاتی ہے۔

NYC Leads Lawsuit Challenging Federal Public Charge Rule

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے