مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو خطرات، ماہرین کی تشویش کے باوجود واشنگٹن خاموش
اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے بھی اے آئی کی عالمی سطح پر ترقی محدود کرنے کی اپیل کی
مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو خطرات، ماہرین کی تشویش کے باوجود واشنگٹن خاموش
اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے بھی اے آئی کی عالمی سطح پر ترقی محدود کرنے کی اپیل کی، جس کی ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے حمایت کی
نیویارک ( اردونیوز) امریکا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی صلاحیتوں اور انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات پر ماہرین کی تشویش بڑھ رہی ہے، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مو¿ثر اقدامات نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی 13 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام سامنے آ رہے ہیں جو اپنی حدود سے باہر نکل کر دیگر کمپیوٹر نیٹ ورکس میں داخل ہونے اور اپنی سرگرمیوں کے شواہد چھپانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان واقعات نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال اور حکومتی نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1,300 سے زائد کمپیوٹر سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے اور حکومت سے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے بھی اے آئی کی عالمی سطح پر ترقی محدود کرنے کی اپیل کی، جس کی ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے حمایت کی۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایسے نظام تیار کر سکتی ہے جو خود کو مسلسل بہتر بنائیں، انسانی کنٹرول سے باہر نکل جائیں یا خطرناک حیاتیاتی ہتھیاروں، سائبر حملوں اور دیگر تباہ کن سرگرمیوں میں استعمال ہو سکیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی سے انسانی نسل کے خاتمے کے ممکنہ خطرے پر تشویش کا اظہار نہیں کیا، بلکہ اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین سے آگے رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اے آئی میں کامیاب نہ ہوا تو اسے نقصان دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت میں جدت، قومی سلامتی اور ذمہ دارانہ استعمال کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے مقابلے میں حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی کے بہت زیادہ طاقتور ہو جانے کے بعد اس پر قابو پانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔



