فراڈ پکڑیں، 30 ہزار ڈالر تک انعام پائیں! ٹرمپ انتظامیہ کا نیا پروگرام متعارف
سرکاری رقوم میں فراڈ کی اطلاع دینے والوں کے لیے خصوصی انعام، بعض شعبوں میں فراڈ کی نشاندہی پر فوری ادائیگی کا اعلان
واشنگٹن (اردو نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سرکاری رقوم اور وفاقی امدادی پروگراموں میں فراڈ کی نشاندہی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک نیا انعامی پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔ یو ایس جسٹس ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل فراڈ انفورسمنٹ ڈویژن کے مطابق، اس پروگرام کے تحت ایسی قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے والے اہل افراد کو 10 ہزار سے 30 ہزار ڈالر تک انعام دیا جا سکتا ہے، جن کی بنیاد پر مجرمانہ الزامات عائد کیے جائیں۔ جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے 20 اکتوبر 2026 کو فراڈ وِسل بلور انسینٹو پروگرام (WHIP) کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق، اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ انعام کے لیے مجرمانہ الزامات عائد ہونے کے مرحلے پر غور کیا جا سکتا ہے، یعنی اطلاع دینے والے کو مقدمے کے مکمل اختتام، سزا یا اپیلوں کے تمام مراحل تک انتظار کرنا ضروری نہیں ہوگا۔محکمہ خزانہ نے اس پروگرام کے نفاذ اور کامیابی کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس وسیع کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد وفاقی امدادی پروگراموں میں فراڈ، سرکاری وسائل کے ضیاع اور غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچ نے کہا کہ عوام کو فراڈ کی نشاندہی کرنے، اسے بے نقاب کرنے اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عمل میں شریک کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق، نیا پروگرام شہریوں کو فراڈ کے خلاف کارروائی میں مدد دینے کے ساتھ ان کی کوششوں کا مالی انعام دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
نیشنل فراڈ انفورسمنٹ ڈویڑن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کولن ایم میکڈونلڈ نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے عوام کو فراڈ کے خلاف کوششوں کا حصہ بنایا جائے گا اور مفید معلومات فراہم کرنے والوں کو نسبتاً جلد انعام دینے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ پروگرام وفاقی صحت کی سہولتوں اور دیگر سرکاری امدادی پروگراموں سے متعلق بعض جرائم کا احاطہ کرتا ہے۔ ان میں محکمہ زراعت، محکمہ محنت، محکمہ صحت و انسانی خدمات، محکمہ ہاو¿سنگ و شہری ترقی، محکمہ تعلیم، محکمہ سابق فوجیوں کے امور، محکمہ جنگ اور سمال بزنس ایڈمنسٹریشن کے زیرِ انتظام پروگراموں اور فوائد میں فراڈ شامل ہے۔صحت کے شعبے میں ہاسپس سروسز، گھروں پر فراہم کی جانے والی طبی دیکھ بھال، ڈے کیئر اور خصوصی خدمات سے متعلق فراڈ کی اطلاعات کو ترجیح دی جائے گی۔
حکام کے مطابق، انعام حاصل کرنے کے لیے فراہم کردہ معلومات اصل، درست، قابلِ تصدیق اور ایسی ہونی چاہئیں جو متعلقہ مجرمانہ کارروائی تک پہنچنے میں مدد دیں۔ انعام دینا جسٹس ڈیپارٹمنٹکے اختیار میں ہوگا اور اس کی ادائیگی کی ضمانت نہیں ہے۔ اہل افراد کو ہر الگ اور قابلِ قبول اطلاع پر 10 ہزار سے 30 ہزار ڈالر تک انعام مل سکتا ہے۔
کیا ایک ارب ڈالر کے فراڈ پر ایک کروڑ ڈالر ملیں گے؟
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص ایک ارب ڈالر کے فراڈ کی نشاندہی کرے تو اسے ایک فیصد، یعنی ایک کروڑ ڈالر کمیشن دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، جسٹس ڈیپارٹمنٹکی جانب سے جاری کردہ WHIP پروگرام کی شرائط کے مطابق، اس پروگرام کے تحت ابتدائی انعام کی متوقع رقم 10 ہزار سے 30 ہزار ڈالر ہے۔ اس لیے ایک فیصد کمیشن کو ہر اطلاع پر لاگو ہونے والی مقررہ ادائیگی نہیں سمجھنا چاہیے۔
اگر کسی اطلاع کے نتیجے میں بعد ازاں بڑی مالی پابندیاں، جرمانے یا ضبطی کی کارروائی ہوتی ہے تو اطلاع دینے والا دیگر متعلقہ سرکاری انعامی پروگراموں کے تحت اضافی انعام کا اہل بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ پروگرام کی شرائط پوری ہوں۔



