پاکستانصحت و سائنس

نیویارک میں فوڈ اسستنٹس اور میڈیکیڈ کے نئے وفاقی قواعد، 9 لاکھ شہریوں کی ہیلتھ کوریج متاثر ہونے کا خدشہ؛ مئیرممدانی انتظامیہ نے آگاہی اور مدد کے لیے نئی ویب سائٹ لانچ کر دی

نئی ویب سائٹ کے ذریعے نیویارکرز وفاقی شرائط، استثنیٰ کے امکانات اور ضروری دستاویزات سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گے

نیویارک میں فوڈ اسستنٹس اور میڈیکیڈ کے نئے وفاقی قواعد، 9 لاکھ شہریوں کی ہیلتھ کوریج متاثر ہونے کا خدشہ؛ مئیرممدانی انتظامیہ نے آگاہی اور مدد کے لیے نئی ویب سائٹ لانچ کر دی
نئی ویب سائٹ کے ذریعے نیویارکرز وفاقی شرائط، استثنیٰ کے امکانات اور ضروری دستاویزات سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گے؛ 2027 میں میڈیکیڈ کے نئے قواعد سے تقریباً 9 لاکھ شہریوں کی صحت کی کوریج متاثر ہونے کا خدشہ

نیویارک (اردو نیوز) نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے شہریوں کو فوڈ اسسٹنس پروگرام ایس این اے پی (SNAP) اور میڈیکیڈ (Medicaid) کے فوائد برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے ایک نئی آن لائن ویب سائٹ متعارف کرا دی ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد شہریوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کردہ نئی شرائط سمجھنے، ممکنہ استثنیٰ معلوم کرنے اور خوراک و صحت کی سہولتوں تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
میئر آفس کے مطابق نئی ویب سائٹ ”NYC.gov/workrules “پر دستیاب ہے۔ اس کے ذریعے شہری اپنی عمر، ملازمت کی صورت حال، تعلیم اور دیگر حالات سے متعلق سوالات کے جواب دے کر معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا وہ نئے وفاقی تقاضوں کے تابع ہیں، انہیں کسی شرط سے استثنیٰ مل سکتا ہے یا فوائد برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
ویب سائٹ پر ایس این اے پی اور میڈیکیڈ کے معلوماتی ہیلپ لائن نمبرز، فوڈ بینکس، ملازمتوں کے مواقع، منظور شدہ رضاکارانہ سرگرمیوں اور دیگر امدادی خدمات کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ جن شہریوں کے فوائد ختم ہو چکے ہیں یا جو ان پروگراموں کے اہل نہیں ہیں، وہ کم خرچ یا مفت طبی سہولتوں کے لیے نیویارک سٹی ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز کے این وائی سی کیئر (NYC Care) پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانچوں بوروز میں خوراک کی امداد فراہم کرنے والے مراکز تک رسائی کے ذرائع بھی بتائے گئے ہیں۔
میئر زہران ممدانی نے کہا کہ صحت کی سہولتیں اور غذائیت سے بھرپور خوراک بنیادی ضروریات ہیں، جنہیں ہر شخص کے لیے قابل رسائی اور استطاعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، وفاقی حکومت کی جانب سے شہریوں کے لیے خوراک اور صحت کی سہولتوں کے حصول کو مشکل بنانے کے باوجود ان کی انتظامیہ شہریوں کو ان فوائد سے محروم ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
صحت اور انسانی خدمات کی ڈپٹی میئر ڈاکٹر ہیلن آرٹیگا نے کہا کہ نیویارک سٹی کے لاکھوں رہائشی غذائیت سے بھرپور خوراک اور قابل برداشت طبی سہولتوں کے لیے ایس این اے پی اور میڈیکیڈ جیسے سرکاری پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، انتظامیہ کی کوشش ہے کہ شہریوں کو ضروری خدمات سے صرف اس لیے محروم نہ ہونا پڑے کہ امدادی نظام کو سمجھنا یا اس کے تقاضے پورے کرنا مشکل ہے۔
نیویارک سٹی کے ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر الیسٹر ایف مارٹن اور سوشل سروسز کمشنر ایرن ڈالٹن نے بھی اس اقدام کو وفاقی قواعد سے متاثر ہونے والے شہریوں کی مدد کے لیے اہم قرار دیا۔ کمشنر ڈالٹن کے مطابق، شہر کے مختلف اداروں نے مل کر 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد نیویارکرز کو ایس این اے پی فوائد سے محروم ہونے سے بچانے میں مدد دی ہے۔
وفاقی شرائط سے ہزاروں شہری متاثر ہونے کا خدشہ
میئر آفس کے مطابق، یکم مارچ 2026 سے ایس این اے پی پروگرام کے تحت ایسے بالغ افراد کے لیے وفاقی کام سے متعلق شرائط میں توسیع نافذ ہوئی ہے جو جسمانی طور پر کام کرنے کے قابل ہیں اور جن کے زیر کفالت افراد نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض افراد، جنہیں پہلے استثنیٰ حاصل تھا، اب فوائد برقرار رکھنے کے لیے نئی شرائط پوری کرنے کے پابند ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح یکم جنوری 2027 سے میڈیکیڈ کے لیے نئی وفاقی شرائط اور اضافی دستاویزی تقاضے نافذ ہونے کا امکان ہے، جس سے تقریباً 9 لاکھ نیویارکرز کی صحت کی کوریج متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شہر کی انتظامیہ کے مطابق، نئی ویب سائٹ شہریوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ آیا وہ استثنیٰ کے اہل ہیں، انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہوں گی اور اگر وہ کام سے متعلق شرائط کے تابع ہیں تو انہیں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ملازمتوں، منظور شدہ رضاکارانہ خدمات اور امدادی مراکز سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
مئیرظہران ممدانی کی انتظامیہ نے جنوری 2026 سے ان وفاقی تبدیلیوں کے بارے میں شہریوں کو آگاہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ میئر کے پبلک انگیجمنٹ یونٹ نے فوائد سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار شہریوں تک پہنچنے کے لیے 10 ہزار گھروں کے دروازوں پر دستک دی اور تقریباً 40 ہزار براہ راست فون کالز کیں۔
شہر نے 100 سے زائد کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے تاکہ شہریوں کے لیے رضاکارانہ خدمات، پیشہ ورانہ تربیت اور کام سے متعلق شرائط پوری کرنے کے دیگر مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ آگاہی پمفلٹس، سوشل میڈیا، بس شیلٹرز، لنک این وائی سی کیوسکس اور دیگر ذرائع سے بھی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق، 6,500 سے زائد شراکت داروں کے لیے آن لائن آگاہی نشستیں منعقد کی گئیں، تقریباً 50 تربیتی سیشنز اور 40 سے زائد کمیونٹی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔
اسی ہفتے میئر نے ہیلتھ اینڈ افورڈیبلٹی ریسورس ٹیم (HART) بھی قائم کی، جو وفاقی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کو میڈیکیڈ اور ایس این اے پی کے فوائد اور دیگر ضروری خدمات تک رسائی میں مدد دے گی۔
میئر آفس کے مطابق، انتظامیہ کے اقدامات کے نتیجے میں 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد نیویارکرز کو ایس این اے پی فوائد سے محروم ہونے سے بچانے میں مدد ملی ہے، جس سے امداد سے محروم ہونے کے خدشے سے متعلق ابتدائی تخمینے میں 65 فیصد کمی آئی۔ مزید یہ کہ اہل ایس این اے پی مستفیدین میں سے 98 فیصد سے زائد افراد خوراک کی امداد تک اپنی رسائی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
انتظامیہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ نئی ویب سائٹ کے ذریعے اپنی اہلیت اور ممکنہ استثنیٰ کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور اگر ان کے فوائد ختم ہو چکے ہیں تو دوبارہ درخواست دینے کے امکانات کا جائزہ لیں۔
مزید معلومات کے لیے: https://NYC.gov/workrules

نوٹ : اہم اور تازہ خبروں کے لئے وزٹ کرتے رہیں ۔۔۔ اردو نیوز یو ایس اے

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے