بین الاقوامیپاکستان

پاکستان کے مسائل کا حل سیاسی استحکام اور قومی اتحاد میں ہے، عارف مبین جٹ

فریقین کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ، تحریک انصاف کو اس کا جائز سیاسی حق اور سیاسی اسپیس دی جانی چاہیے ،عارف مبین جٹ

اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو سیاسی استحکام ناگزیر ہے،فریقین کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ، تحریک انصاف کو اس کا جائز سیاسی حق اور سیاسی اسپیس دی جانی چاہیے
پاکستان کے رکن قومی اسمبلی کے چوہدری عارف مبین جٹ کی شوکت بھٹہ کی رہائشگاہ پر دئیے گئے استقبالیہ کے موقع پر میڈیا سے پاکستان کی مجموعی اور عالمی صورتحال پر بات چیت
پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان فرق مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جہاں غریب مزدور اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم اور علاج بھی فراہم نہیں کر سکتا جبکہ اشرافیہ شاہانہ طرزِ زندگی گزار رہی ہے

نیویارک (اردو نیوز) پاکستان کے رکنِ قومی اسمبلی چوہدری عارف مبین جٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی اتحاد، سیاسی استحکام اور تمام طبقات کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ وہ شوکت بھٹہ کی رہائشگاہ پر اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔شوکت بھٹہ کی جانب سے مبین عارف جٹ کے اعزاز میں اپنی رہائشگاہ پر پرتکلف ظہرانے اور استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا جس میں چوہدری اصغر بھٹہ، میاں بشارت اور چوہدری ذوالفقار ورک سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔استقبالیہ میں شرکت کے لئے مبین عارف جٹ جب پہنچے تو شوکت بھٹہ نے میاں بشارت اور اپنے بڑے بھائی چوہدری اصغر بھٹہ کے ہمراہ انہیں خوش آمدید کہا اور پھول پیش کئے ۔ مبین جٹ نے عزت افزائی اور پذیرائی پر شکرئیہ ادا کیا۔

چوہدری عارف مبین جٹ نے ظہرانے میں غیر رسمی بات چیت اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس کا نصف سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کے نام پر قائم ہوا اور اس قوم کے لیے مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا کسی ایک فرد یا جماعت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم، سیاسی جماعتوں، تاجروں، کسانوں، اساتذہ اور دانشوروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے موجودہ پی ڈی ایم حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سے چار برسوں میں حکومت معاشی میدان میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ملک شدید “برین ڈرین” کا شکار ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، انجینئرز اور ڈاکٹرز روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔انہوں نے بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار ماضی کی حکومتوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں اور ڈالر میں کی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ آج بھی عوام برداشت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود تحریک انصاف مایوس نہیں اور انہیں یقین ہے کہ ایک وقت آئے گا جب عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا۔

خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ مذاکرات اور امن کی حامی رہی ہے۔ افغانستان اور ایران سے متعلق معاملات میں بھی تحریک انصاف نے ہمیشہ بات چیت اور سفارتی حل کو ترجیح دی کیونکہ جنگ اور خونریزی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

پاکستان میں جاری سیاسی تعطل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق تمام فریقین کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا جبکہ تحریک انصاف کو بھی اس کا جائز سیاسی حق اور سیاسی اسپیس دی جانی چاہیے۔
انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام پر پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکمران طبقہ اربوں روپے سرکاری تشہیری مہمات، پرتعیش طیاروں اور بیرونِ ملک دوروں پر خرچ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان فرق مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جہاں غریب مزدور اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم اور علاج بھی فراہم نہیں کر سکتا جبکہ اشرافیہ شاہانہ طرزِ زندگی گزار رہی ہے۔

 

New York: May 24, 2026 – At a reception hosted by Shaukat Bhatta at his residence, Pakistan’s Member of the National Assembly Chaudhry Arif Mubeen Jatt spoke to the media about Pakistan’s political, economic, and global situation. Prominent community members including Chaudhry Asghar Bhatta, Mian Basharat, and Chaudhry Zulfiqar Warraich were also present at the gathering. Speaking on Pakistan’s future, Chaudhry Arif Mubeen Jatt said the country’s population has crossed nearly 250 million, with more than half consisting of youth. He emphasized that there is no room for hopelessness, adding that Pakistan was created in the name of Almighty Allah and has survived many difficult periods in the past. He stated that putting Pakistan on the path of progress is the collective responsibility of political parties, businessmen, farmers, intellectuals, teachers, and every segment of society. Criticizing the current PDM government, he said the administration had failed economically during the last three to four years. According to him, foreign investment has declined while Pakistan is facing severe brain drain, with educated professionals, engineers, and doctors leaving the country in search of better opportunities abroad. He added that inflation and unemployment have made life increasingly difficult for ordinary citizens. The PTI lawmaker also blamed past energy agreements signed during the PML-N government for the rising electricity prices and the burden of Independent Power Producers (IPPs). He alleged that Pakistan continues to suffer from costly capacity payments tied to dollar-based contracts. Despite the challenges, he expressed confidence that democratic forces would eventually prevail and the people’s mandate would be respected. Discussing foreign policy, he said his party believes in peace and dialogue rather than conflict. Referring to regional tensions, he maintained that disputes involving Afghanistan and Iran should be resolved through negotiations instead of war, emphasizing that political and diplomatic dialogue is always preferable to bloodshed. On Pakistan’s political deadlock, he stressed that political stability is essential for the country’s progress. He said all stakeholders should take steps toward reconciliation and that PTI must be given legitimate political space for the sake of national stability. He further criticized the government’s economic policies, saying the burden of taxes and petroleum levies has fallen heavily on the common man while the ruling elite continue to spend billions on luxury planes, foreign trips, and publicity campaigns. Highlighting the growing divide between rich and poor, he said ordinary laborers struggle to provide food, education, and healthcare for their families, while the privileged class continues to enjoy lavish lifestyles.

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button