پاکستاناوورسیز پاکستانیز

نیویارک پوسٹ کی رپورٹ پر APPAC کا دوٹوک ردعمل، تمام الزامات اور تاثر مسترد

APPAC Responds to New York Post Article

ڈاکٹر اعجاز احمد نے کبھی بھی کسی فرد کو مبینہ میڈیکیڈ فراڈ یا اس سے متعلق کسی سرگرمی کے بارے میں مشورہ نہیں دیا، اے پی پیک نے اپنا تفصیلی موقف جاری کر دیا
اے پی پیک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز احمد نے کبھی بھی کسی فرد کو مبینہ میڈیکیڈ فراڈ یا اس سے متعلق کسی سرگرمی کے بارے میں مشورہ نہیں دیا، نیویارک پوسٹ کی رپورٹ میں جن افراد کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک شخص کا APPAC سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی ڈاکٹر اعجاز احمد کی اس سے کبھی ملاقات یا کسی قسم کی وابستگی رہی ہے، دوسرے فرد نے ماضی میں کچھ عرصے کے لیے APPAC کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خدمات انجام دی تھیں، تاہم وہ اب تنظیم سے وابستہ نہیں ہیں

نیویارک(پ ر ) امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی (APPAC) نے نیویارک پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ سے تنظیم اور اس کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس پر انہیں شدید افسوس ہے۔
اے پی پیک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”APPAC“ ایک غیرجانبدار سوک آرگنائزیشن ہے جو کئی برسوں سے پبلک سروس، امیگرنٹ کمیونٹی کے امریکہ کے قومی و سیاسی نظام میں شمولیت، صحت، تعلیم، کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور پاکستانی امریکن کو جمہوری عمل میں متحرک کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ تنظیم نے اپنی تاریخ میں دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر تعلیمی پروگرام، کمیونٹی تقریبات، ووٹر آگاہی مہمات اور فلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کیا ہے، جن سے ہزاروں افراد مستفید ہوئے ہیں۔
اے پی پیک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہامزیدکہا گیا کہ مذکورہ رپورٹ میں ڈاکٹر اعجاز احمد، APPAC اور بعض ایسے افراد کا ذکر کیا گیا ہے جن پر ”ایم ایل ٹی سی“( MLTC) سروسز کک بیک اسکیم سے متعلق مجرمانہ الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم APPAC ان تمام اشاروں اور تاثر کو یکسر مسترد کرتی ہے کہ ڈاکٹر اعجاز احمد یا تنظیم کا ان مبینہ جرائم سے کسی بھی قسم کا تعلق، علم یا شمولیت رہی ہے۔
اے پی پیک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز احمد نے کبھی بھی کسی فرد کو مبینہ میڈیکیڈ فراڈ یا اس سے متعلق کسی سرگرمی کے بارے میں مشورہ نہیں دیا۔ مزید یہ کہ رپورٹ میں جن افراد کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک شخص کا APPAC سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی ڈاکٹر اعجاز احمد کی اس سے کبھی ملاقات یا کسی قسم کی وابستگی رہی ہے۔
بیان کے مطابق دوسرے فرد نے ماضی میں کچھ عرصے کے لیے APPAC کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خدمات انجام دی تھیں، تاہم وہ اب تنظیم سے وابستہ نہیں ہیں۔
اے پی پیک کا کہنا ہے کہ اس خبر نے تنظیم کے بارے میں ایک غیر منصفانہ اور غلط تاثر پیدا کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر اعجاز احمد اور APPAC کی ساکھ برسوں کی عوامی خدمت، سرکاری نمائندوں کے ساتھ تعاون، صحت اور شہری حقوق کے فروغ، نوجوانوں کی قیادت، تعلیمی منصوبوں اور انسان دوست سرگرمیوں کے ذریعے قائم ہوئی ہے، اور یہی خدمات ان کی اصل پہچان ہیں۔
تنظیم نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دیانت داری، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کے مطابق اپنی کمیونٹی کی خدمت جاری رکھے گی اور کسی بھی منفی تاثر یا غیر متعلقہ معاملے کو اپنی فلاحی اور عوامی خدمات میں رکاوٹ نہیں بننے دے گی۔
اے پی پیک کی جانب سے میڈیا سے رابطے کے لیے تنظیم کے کمیونیکیشن آفس اور ترجمان مسٹرمیٹ جانسن کا نام بھی جاری کیا گیا۔

APPAC Responds to New York Post Article

The American Pakistani Public Affairs Committee (APPAC) is deeply disappointed by any inaccurate implications that may be drawn from a recent New York Post article that references APPAC, its Founder and Chairman, Dr. Ijaz Ahmad, and individuals accused of MLTC Services kickback schemes.

For years, APPAC has been a respected, nonpartisan civic organization dedicated to public service, civic engagement, healthcare advocacy, education, community development, and encouraging Pakistani Americans to participate in the democratic process. Throughout its history, APPAC has worked with elected officials from both major political parties and has proudly organized educational forums, community events, voter engagement initiatives, and charitable programs that have benefited thousands of people.

The article discusses Dr. Ijaz Ahmad, APPAC, and individuals facing criminal allegations. We categorically reject any suggestion that Dr. Ahmad or APPAC had any involvement in, knowledge of, or connection to the alleged criminal conduct described in the article.

To clarify the facts:

• Dr. Ijaz Ahmad has never served as an advisor to any individual regarding the alleged Medicaid fraud or any related activities.

• One individual referenced in the article has never been affiliated with APPAC in any capacity, and Dr. Ijaz Ahmad has never met or had any relationship with that individual.

• The other individual previously served as a member of APPAC’s Board of Directors for a period of time but is no longer associated with APPAC.

APPAC believes the article creates an inaccurate and unfair impression of the organization.  The integrity of APPAC and Dr. Ijaz Ahmad has been built through years of service to the community, collaboration with public officials, advocacy for healthcare and civil rights, youth leadership programs, educational initiatives, and humanitarian efforts. Those accomplishments speak for themselves.

APPAC remains fully committed to its mission of serving the community with integrity, transparency, and respect for the rule of law. We will continue our work on behalf of the communities we serve without distraction.

Media Contact: APPAC Communications Office

Matt Johnson , matt.johnson1@omc.com

Press Release

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button