پاکستان

نیویارک میں یومِ استحصال کی تقریب، مقررین کا جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ

نیویارک( محسن ظہیر سے)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل کے دفتر کے اشتراک سے چانسلری بلڈنگ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں یومِ استحصال کی ساتویں برسی منائی گئی۔تقریب میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے اراکین، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے عالمی مطالبے کو دہرایا، جن میں جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔
پاکستان کے قونصل جنرل نیویارک، عامر احمد اتوزئی نے تقریب کے افتتاحی کلمات ادا کیے۔ دیگر مقررین میں کشمیر آگاہی فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی، ماہرِ تعلیم اور تحقیقی تجزیہ کار شاہل کھوسو، کشمیری رہنما و کارکن تاج خان اور بزرگ کشمیری رہنما سردار سوار خان شامل تھے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کلیدی خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے اور بھارتی غیر قانونی اقدامات اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتا رہے گا۔انہوں نے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے دہائیوں پر محیط قبضے اور جبر کو مزید گہرا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کی قانونی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت آج بھی برقرار ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے مسلسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا ہے اور کشمیری عوام کی مشکلات کے بارے میں عالمی آگاہی بڑھانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، دیگر کثیرالجہتی فورمز اور مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے پاکستان نے عالمی برادری کی توجہ کشمیری عوام کی صورتحال پر مرکوز رکھنے اور ان کی آواز کو نظر انداز نہ ہونے دینے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامیاب آزادی کی تحریکوں کے لیے حکمتِ عملی پر مبنی صبر، بین الاقوامی قانونی جواز، تسلسل اور مستقل حمایت ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کا مشن جموں و کشمیر کے تنازعے کو عالمی ایجنڈے پر برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مبنی پاکستان کے مو¿قف نے جموں و کشمیر کے تنازعے کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے اور اسے عالمی سطح پر زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا 8 اگست 2019 کا بیان اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کا مو¿قف اقوام متحدہ کے چارٹر اور قابلِ اطلاق سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکریٹری جنرل نے فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو جموں و کشمیر کی حیثیت کو متاثر کریں۔ انہوں نے 5 اگست کو سیکریٹری جنرل کے ترجمان کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل اہمیت کا اعادہ کیا گیا تھا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان مشن کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مشن نے جموں و کشمیر کے تنازعے کو عالمی سطح پر نمایاں رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، رکن ممالک، عالمی میڈیا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے مشن نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کیا، تنازعے کی قانونی بنیاد کو اجاگر کیا اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کی وکالت کی۔انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں پاکستان کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ کشمیری عوام کی آواز عالمی برادری میں مسلسل گونجتی رہے۔
قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے اپنے افتتاحی کلمات میں پاکستان کے اصولی مو¿قف کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور دیرپا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، آبادیاتی تبدیلیوں اور سیاسی جبر کی مذمت کی۔ انہوں نے پاکستانی اور کشمیری تارکینِ وطن کی جانب سے کشمیر کاز کے لیے مسلسل جدوجہد کو سراہا۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی، سیکریٹری جنرل کشمیر آگاہی فورم، نے اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی قانونی بنیاد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں، زمینوں سے متعلق پالیسیوں اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کشمیر کاز کے لیے ان کی زندگی بھر کی جدوجہد اور پاکستان سے وابستگی کو یاد کیا۔
ڈاکٹر فائی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے متعلق بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی سفارشات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان سفارشات کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے اور یہ احتساب کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غیر کشمیریوں کو تقریباً 47 لاکھ ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجرا اور وسیع پیمانے پر زمینوں کے حصول کی مہم اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔انہوں نے مرحوم سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے معروف قول “الحاق پاکستان میری ایمان کا حصہ ہے” کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ کشمیری عوام اور پاکستان کے ساتھ ان کے غیر متزلزل عزم اور زندگی بھر کی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرِ تعلیم اور محقق شاہل کھوسو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اپنی بین الاقوامی اہمیت کے باوجود عالمی علمی اور پالیسی مباحث میں خاطر خواہ نمائندگی حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کشمیر اسٹڈیز، تحقیقی وظائف اور علمی روابط میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا تاکہ شواہد پر مبنی آگاہی کو فروغ دیا جا سکے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی علمی حلقوں میں وہ توجہ مل سکے جس کا یہ مستحق ہے۔
کشمیری رہنماو¿ں تاج خان اور سردار سوار خان نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی مسلسل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کشمیریوں اور پاکستانیوں میں مزید اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد انصاف کے حصول تک جاری رہے گی۔تقریب کے دوران سیکنڈ سیکریٹری علینہ مجید، سیکنڈ سیکریٹری محمد راشد اور فرسٹ سیکریٹری سرفراز گوہر نے بالترتیب صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور نائب وزیراعظم،وزیر خارجہ پاکستان کے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ پیغامات پڑھ کر سنائے۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ تقریب کی کارروائی کونسلر صائمہ سلیم نے انجام دی۔

 

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے