ٹرمپ انتظامیہ نے نشے میں ڈرائیونگ کرنے والے پانچ غیر ملکیوں کے امریکی ویزے منسوخ کر دئیے
جن افراد کے ویزے منسوخ کئے گئے ، وہ امریکی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے خطرناک ڈرائیونگ میں ملوث پائے گئے، جس سے شہریوں کی سلامتی خطرے میں پڑی، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (امریکی محکمہ خارجہ) نے نشے کی حالت میں گاڑی چلانے اور دیگر سنگین جرائم میں گرفتار ہونے والے پانچ غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو امریکی قوانین کی خلاف ورزی اور عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ٹومی پگٹ کے مطابق یہ تمام افراد امریکی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے خطرناک ڈرائیونگ میں ملوث پائے گئے، جس سے شہریوں کی سلامتی خطرے میں پڑی۔ انہوں نے کہا کہ جو غیر ملکی اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کریں گے، قانون توڑیں گے یا امریکی عوام کے لیے خطرہ بنیں گے، انہیں امریکہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کے مطابق ایک شخص کو نشے میں ڈرائیونگ، ہنگامہ آرائی، گرفتاری کی مزاحمت اور گھریلو تشدد کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، جبکہ دوسرے شخص کو کم عمر بچے کے ساتھ سفر کے دوران قانونی حد سے تقریباً دوگنی مقدار میں الکحل کے ساتھ گاڑی چلانے پر گرفتار کیا گیا۔
تیسرے غیر ملکی کے خون میں الکوحل کی مقدار قانونی حد سے تین گنا سے زیادہ تھی، اور بعد میں وہ عدالت کے حکم پر ہونے والے نشے میں ڈرائیونگ کے اصلاحی پروگرام میں بھی نشے کی حالت میں پہنچ گیا۔
چوتھے شخص پر نشے میں ڈرائیونگ کے دوران دوسرے فرد کو زخمی کرنے کا الزام ہے، جبکہ پانچویں شخص کو ہیروئن رکھنے اور خون میں قانونی حد سے تین گنا زیادہ الکحل کے ساتھ گاڑی چلانے پر گرفتار کیا گیا۔
ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ امریکی شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اسی مقصد کے تحت ویزا رکھنے والوں کی مسلسل جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی غیر ملکی عوامی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
نوٹ: یہ نیوز بھی پڑھیں : امیگریشن اٹارنی سورج سنگھ کو پونے پانچ لاکھ ڈالرز جرمانہ



