کالم و مضامیناوورسیز پاکستانیز

انور بھلی صاحب کی یاد میں ۔۔۔ میری زندگی کے سفر کے چند محسن

اللہ تعالیٰ مختلف اوقات میں ایسے لوگوں کو وسیلہ بناتا ہے جو ہمارا ہاتھ تھامتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہماری زندگی کا رخ ہی بدل دیتے ہیں

انور بھلی صاحب کی یاد میں — میری زندگی کے سفر کے چند محسن
زندگی کا سفر صرف انسان کی اپنی محنت کا نام نہیں۔ اس سفر میں اللہ تعالیٰ مختلف اوقات میں ایسے لوگوں کو وسیلہ بناتا ہے جو ہمارا ہاتھ تھامتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہماری زندگی کا رخ ہی بدل دیتے ہیں

خصوصی تحریر۔۔۔سید انور واسطی ، نیویارک

سید انور واسطی
Syed Anwar Wasti New York

زندگی کا سفر صرف انسان کی اپنی محنت کا نام نہیں۔ اس سفر میں اللہ تعالیٰ مختلف اوقات میں ایسے لوگوں کو وسیلہ بناتا ہے جو ہمارا ہاتھ تھامتے ہیں، ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہماری زندگی کا رخ ہی بدل دیتے ہیں۔ آج جب میں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے سفر کو یاد کرتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو بھی یاد کروں جن کا میری زندگی کے مختلف مراحل میں اہم کردار رہا، اور دل کی گہرائیوں سے انہیں سلام پیش کروں۔
انہی شخصیات میں ایک بہت اہم اور یادگار نام انور بھلی صاحب کا ہے۔ میرے کالج کے زمانے میں ہم دوست اکثر ان کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ ان کی محفل، ان کی شفقت اور ان کی شخصیت ہمارے لیے بڑی کشش رکھتی تھی۔ وہ میرے لیے صرف ایک جاننے والے نہیں بلکہ ایک رول ماڈل، رہنما اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ تھے۔
میری زندگی کے سفر میں ایک بہت اہم موڑ بھی انور بھلی صاحب کے توسط سے آیا۔ انہی کے حوالے سے میری ملاقات رانا مجید صاحب سے ہوئی، اور پھر رانا مجید صاحب کے ساتھ مجھے سعودی عرب جانے کا موقع ملا۔ یوں گھر سے باہر نکل کر ایک نئے ملک میں زندگی کا سفر شروع ہوا۔
سعودی عرب میں کچھ عرصہ قیام کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری زندگی میں ایک اور محسن، ملک غیاث صاحب ، کو وسیلہ بنایا۔ ان کی شفقت، تعاون اور مہربانی کی بدولت میرے لیے امریکہ آنے کا راستہ بنا۔ اللہ تعالیٰ ملک غیاث صاحب کو صحت، تندرستی، خوشیاں اور دراز عمر عطا فرمائے۔ ان کی مہربانی اور تعاون کو میں اپنی زندگی میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
بعد میں جب انور بھلی صاحب امریکہ تشریف لائے تو ہمیں ان کی میزبانی کا موقع بھی ملا۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے وہ لمحات آج بھی میری زندگی کی بہت خوبصورت اور قیمتی یادوں میں شامل ہیں۔
آج انور بھلی صاحب کو یاد کرتے ہوئے دراصل میں اپنی زندگی کے پورے سفر کو دیکھ رہا ہوں — سیالکوٹ سے سعودی عرب، اور پھر سعودی عرب سے امریکہ تک۔ اس طویل سفر کے مختلف موڑوں پر مختلف لوگوں کا کردار رہا۔ کسی نے تعارف کروایا، کسی نے راستہ دکھایا، کسی نے ساتھ دیا اور کسی نے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔
انور بھلی صاحب، رانا مجید صاحب اور ملک غیاث صاحب — آپ سب کا میری زندگی کی کہانی میں ایک خاص مقام ہے۔ میں آپ کی محبت، شفقت اور تعاون کو دل سے یاد کرتا ہوں اور آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔
انور بھلی صاحب آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان سے وابستہ یادیں ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہیں گی۔ ہم انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انور بھلی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
زندگی میں اپنی منزل کو یاد رکھنا اہم ہے، مگر ان لوگوں کو یاد رکھنا اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے جو اس منزل تک پہنچنے کے سفر میں ہمارے لیے وسیلہ بنے۔

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے