کرکٹ: آئی سی سی کے نئے قوانین، وقت ضائع کرنے والے بلے بازوں پر جرمانہ اور پنک بال کا ٹرائل شروع
نئے کرکٹ قوانین میں خاص طور پر وقت ضائع کرنے والے بلے بازوں کے خلاف کارروائی، خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں گیند کے سائز اور وزن کے معیار کو مزید واضح کرنا
کرکٹ: آئی سی سی کے نئے قوانین، وقت ضائع کرنے والے بلے بازوں پر جرمانہ اور پنک بال کا ٹرائل شروع
نئے کرکٹ قوانین میں خاص طور پر وقت ضائع کرنے والے بلے بازوں کے خلاف کارروائی، خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں گیند کے سائز اور وزن کے معیار کو مزید واضح کرنا
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کے مختلف فارمیٹس کے لیے پلیئنگ کنڈیشنز میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 یا اس کے بعد شروع ہونے والی تمام بین الاقوامی سیریز پر ہوگا۔ پہلے سے جاری سیریز پر سابقہ قوانین ہی لاگو رہیں گے۔
نئے قوانین میں خاص طور پر وقت ضائع کرنے والے بلے بازوں کے خلاف کارروائی، خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں گیند کے سائز اور وزن کے معیار کو مزید واضح کرنا، فیلڈنگ سے متعلق بعض قوانین میں وضاحت اور ٹیسٹ کرکٹ میں پنک بال کے استعمال کا آزمائشی نظام شامل ہے۔
مردوں کی کرکٹ میں اگر کوئی بلے باز مقررہ وقت کے اندر اگلی گیند کھیلنے کے لیے تیار نہ ہو تو پہلی خلاف ورزی پر وارننگ دی جائے گی، دوسری خلاف ورزی پر آخری وارننگ دی جائے گی، جبکہ تیسری اور اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ ٹیم کو 5 پنالٹی رنز دیے جائیں گے۔ مسلسل خلاف ورزیوں کی صورت میں آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
خواتین اور جونیئر کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندوں کے سائز اور وزن کے حوالے سے نئے اور زیادہ واضح معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ اب مردوں، خواتین اور جونیئر کرکٹ کے لیے گیند کے سائز اور وزن کی تین الگ الگ مخصوص حدود ہوں گی۔
آئی سی سی نے اوور تھرو سے متعلق قانون میں بھی وضاحت کی ہے۔ گیند کو وکٹوں کی جانب اس مقصد سے پھینکنے یا موڑنے کی کوشش کہ رنز روکے جائیں یا رن آو¿ٹ کیا جائے، اوور تھرو تصور ہوگی۔ تاہم صرف گیند کو روکنے یا کسی دوسرے فیلڈر تک پہنچانے کی کوشش میں ہونے والی مس فیلڈ کو اوور تھرو نہیں کہا جائے گا۔
اب امپائر کو یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ اختیار حاصل ہوگا کہ گیند کب مکمل طور پر ’سیٹل‘ ہو چکی ہے۔ خاص طور پر میچ کی آخری گیند کے موقع پر یہ تبدیلی اہم ہو سکتی ہے۔ گیند کے مکمل طور پر سیٹل ہونے کے لیے اس کا لازمی طور پر باو¿لر یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہونا ضروری نہیں ہوگا۔اسی طرح رن آو¿ٹ یا اسٹمپنگ کے لیے فیلڈر کے ہاتھ میں گیند کا ہونا اسی وقت تصور کیا جائے گا جب فیلڈر کو گیند پر مکمل کنٹرول حاصل ہو۔ صرف ہاتھ سے گیند کو چھونا جبکہ اسی دوران گیند وکٹیں گرا دے، گیند پر مکمل کنٹرول تصور نہیں ہوگا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضائع ہونے والے وقت کو کم کرنے کے لیے دن کے وقت پنک بال استعمال کرنے کی اجازت آزمائشی بنیاد پر دی گئی ہے۔ اس کے لیے دونوں ٹیموں کا باہمی اتفاق ضروری ہوگا۔پنک بال کے استعمال کا فیصلہ ٹیسٹ میچ شروع ہونے سے پہلے کرنا ہوگا اور ایک بار فیصلہ ہو جانے کے بعد پورے میچ میں اسی گیند کا استعمال ہوگا۔ میچ شروع ہونے کے بعد سرخ گیند سے پنک بال یا پنک بال سے سرخ گیند پر تبدیل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئے قانون کے تحت اگر دن کے آخری اوور میں وکٹ گر جائے اور اوور ابھی مکمل نہ ہوا ہو تو صرف وکٹ گرنے کی وجہ سے کھیل لازمی طور پر ختم نہیں ہوگا۔ اگر موسم اور کھیل کے حالات مناسب ہوں تو باقی گیندیں بھی کرائی جائیں گی۔ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اب اننگز کے درمیان وقفہ مقررہ طور پر 15 منٹ ہوگا، تاہم وقت ضائع ہونے کی صورت میں اسے کم کرکے کم از کم 10 منٹ کیا جا سکے گا۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ڈرنکس بریک کے دوران ہیڈ کوچ یا ان کی جانب سے نامزد شخص کو میدان میں داخل ہونے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ لیگ سائیڈ وائیڈ سے متعلق آزمائشی قانون کو مستقل طور پر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے پلیئنگ کنڈیشنز کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین سوراو گنگولی نے کہا کہ نئے قوانین میں گیندوں کے معیار، فیلڈنگ کے بعض پہلوو¿ں اور کھیل کی رفتار بہتر بنانے سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلیاں جدید کرکٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں جبکہ کھیل کی سالمیت اور قوانین میں مستقل مزاجی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔



