پاکستانخبریں

پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا حل صرف برداشت، مکالمے اور آئین کی بالادستی میں ہے، سہیل وڑائچ

پاکستانی امریکن کمیونٹی کی سماجی شخصیات محمد نعیم ، ذیشان نعیم، ارسلا ن نعیم ، عبدالرحمان نعیم اور جیو ٹی وی اور روز نامہ جنگ کے بیورو چیف امریکہ عظیم میاں کا سہیل وڑائچ اور منیر احمد خان کے اعزاز میں استقبالیہ

پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا حل صرف برداشت، مکالمے اور آئین کی بالادستی میں ہے، سہیل وڑائچ
تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو نگران حکومت اور الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل پر اعتماد نہیں تو کیوں نہیں مل بیٹھ کر نیا فریم ورک تیار کرلیتے، بیٹھے بغیر تو مسلہ حل نہیں ہوگا ، سہیل وڑائچ نیویارک میں خطاب
پاکستانی امریکن کمیونٹی کی سماجی شخصیات محمد نعیم ، ذیشان نعیم، ارسلا ن نعیم ، عبدالرحمان نعیم اور جیو ٹی وی اور روز نامہ جنگ کے بیورو چیف امریکہ عظیم میاں کا سہیل وڑائچ اور منیر احمد خان کے اعزاز میں استقبالیہ
پاکستان میں سیاسی بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ عدم برداشت، سیاسی انتقام اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کے رویے کا نتیجہ ہے۔ جب ایک سیاسی جماعت پر مشکل وقت آتا ہے تو دوسری جماعت تالیاں بجاتی ہے، لیکن جب وہی حالات خود پر آتے ہیں تو احتجاج کیا جاتا ہے۔ جس دن پاکستانی سیاستدان اپنے مخالف کے ساتھ ناانصافی پر بھی آواز اٹھائیں گے، اسی دن ملک کی سیاست درست سمت میں چل پڑے گی، سہیل وڑائچ

نیویارک (اردو نیوز) پاکستان کے سینئر صحافی، روزنامہ جنگ کے سینئر ایڈیٹر اور جیو نیوز کے سینئر ایگزیکٹو پروڈیوسر سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا حل صرف برداشت، مکالمے اور آئین کی بالادستی میں ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو ڈیڈ لاک نہیں بلکہ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ۔ پاکستا ن میں بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں کے اقتدار اور اپوزیشن کے ادوار میں اصول الگ الگ ہوتے ہیں، جس دن قومی سیاسی قیادت قطع نظر اس امر کہ وہ حزب اختلاف میں ہیں یا حزاب اقتدار میں ، ایک ہی مشترکہ اصول پر کاربند ہو جائیں گے تو ان کے بہت سے مسائل از خود حل ہو جائیں گے ۔ان ملے جلے خیلات کا اظہار انہوں نے بروکلین، نیویار ک میں پاکستانی امریکن کمیونٹی نیویارک کی معروف سماجی و کاروباری شخصیات محمد نعیم ، ذیشان نعیم، ارسلا ن نعیم ، عبدالرحمان نعیم اور جیو ٹی وی اور روز نامہ جنگ کے بیورو چیف امریکہ عظیم ایم میاں کی جانب سے دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کے دوران کہی ۔ پنجاب ریسٹورنٹ بروکلین میں دئیے گئے استقبالیہ میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور ارکان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ سہیل وڑائچ جب تقریب میں پہنچے تو محمد نعیم اور عظیم میاں نے ساتھی میزبانان اور شرکاءکئے ساتھ مل کر ان کو خوش آمدید کہا۔تقریب کا تلاوت قرآن مجید اور نعت شریف سے ہوا۔ عظیم میاں نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سہیل وڑائچ اور ان کے ساتھ آئے سابق مشیر پنجاب و معروف قانون دان منیر احمد خان کو اپنی اور میزبانان کی جانب سے خوش آمدید کہا ۔انہوں نے کہا کہ سہیل وڑائچ کے ساتھ ان کا جنگ اور جیو ٹی وی کی وجہ سے ایک ساتھی ہونے کا تعلق ہے لیکن ایک صحافی کے طور پر وہ سہیل وڑائچ کی صحافتی خدمات کے معترف رہے ہیں ۔
سہیل وڑائچ کا استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہنا تھ اکہ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران انہیں پاکستان کی تین بڑی سیاسی شخصیات، سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان کے قریب رہ کر انہیں سمجھنے اور ان کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف پر کتابیں بھی تحریر کیں جبکہ عمران خان سے ان کی شناسائی کرکٹ کے زمانے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ عدم برداشت، سیاسی انتقام اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کے رویے کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول جب ایک سیاسی جماعت پر مشکل وقت آتا ہے تو دوسری جماعت تالیاں بجاتی ہے، لیکن جب وہی حالات خود پر آتے ہیں تو احتجاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن پاکستانی سیاستدان اپنے مخالف کے ساتھ ناانصافی پر بھی آواز اٹھائیں گے، اسی دن ملک کی سیاست درست سمت میں چل پڑے گی۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کا 1973 کا آئین تمام سیاسی اور مذہبی قوتوں کے درمیان متفقہ دستاویز ہے اور اس کی بنیادی روح پر سب کا اتفاق موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا میں پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کسی حد تک آزادی اظہار، سیاسی سرگرمیوں اور اداروں کی آزادی موجود ہے، تاہم دنیا بھر میں جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ موجودہ بحران کا حل سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات اور آئینی راستہ اختیار کرنے میں ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی تینوں کو مختلف انتخابات پر اعتراضات رہے ہیں، اس لیے تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر شفاف انتخابی نظام اور غیر متنازع الیکشن کمیشن کے لیے نیا فریم ورک تیار کرنا چاہیے۔
سینئر صحافی نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری بھی ایک بڑا سیاسی مسئلہ ہے اور ملک میں سیاسی ماحول کو معمول پر لانے کے لیے اس معاملے کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ مختلف مواقع پر عمران خان اور نواز شریف دونوں سے ملاقاتیں کر کے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی بھی سیاستدان کو جیل بھیجنے کے حق میں نہیں اور جیسے ماضی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی گرفتاریوں کو غلط سمجھتے تھے، اسی طرح آج بھی سیاسی رہنماو¿ں کی قید کو مناسب نہیں سمجھتے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام صرف برداشت، مذاکرات اور جمہوری عمل کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔
منیر احمد خان نے محمد نعیم اور عظیم میاں سمیت میزبانان کا شکرئیہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ سیاسی قیادت ، عوام اور تمام ادارے وقت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں ۔محمد نعیم کا کہنا تھا کہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ جب بھی سہیل وڑائچ نیویارک آتے ہیں، وہ ان کے استقبالیہ میں شریک ہو کر عزت افزائی فرماتے ہیں ۔ عظیم میاں نے تمام مہمانوں کا شکرئیہ ادا کیا ۔

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button