پاکستان

ایران، امریکہ کشیدگی، امتِ مسلمہ کے اتحاد کا سنہری موقع

اگر اسلامی دنیا کے اہم ممالک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ صرف ایک وقتی سفارتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اندرونی اختلافات کم کرنے کی بنیاد بھی بن سکتی ہے

علما، دانشوروں، سیاسی قیادت اور میڈیا کو بھی اس موقع پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اتحاد کا بیانیہ مضبوط کرنا چاہیے تاکہ عوام کے دلوں سے بداعتمادی ختم ہو

تحریر :میاں ذاکر حسین نسیم(نیویارک)

موجودہ عالمی منظرنامے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو صرف دو ممالک کا تنازع سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک غیر معمولی امتحان کے ساتھ ساتھ ایک سنہری موقع بھی ہے۔ کیونکہ تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب خطرات اپنے اندر بڑے امکانات بھی سموئے ہوتے ہیں اور آج کا وقت انہی نازک مگر فیصلہ کن لمحات میں شمار ہوتا ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ امتِ مسلمہ کو دہائیوں سے درپیش شیعہ سنی اختلافات اور تنازعات کو کم کرنے یا ختم کرنے کے لیے اس سے بہتر موقع شاید ہی دوبارہ میسر آئے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ان اختلافات کو مذہبی کے بجائے سیاسی رنگ دے کر اسلامی دنیا کو تقسیم رکھا گیا جس کے نتیجے میں امت کی اجتماعی طاقت کمزور ہوتی چلی گئی۔
حالانکہ قرآنِ مجید واضح طور پر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ مگر عملی طور پر اس قرآنی اصول کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ایسے حالات میں آج ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کا ایک صفحے پر دکھائی دینا محض ایک سفارتی اتفاق نہیں بلکہ ایک بڑی تاریخی پیش رفت کی علامت محسوس ہوتا ہے کیونکہ ایران ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے جبکہ سعودی عرب سنی دنیا کی اہم قیادت سمجھا جاتا ہے اور پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں شیعہ اور سنی دونوں بڑی تعداد میں آباد ہیں اور جس نے ماضی میں فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان برداشت کیا۔ مساجد، امام بارگاہوں اور بازاروں میں بہنے والا خون آج بھی ہمیں چیخ چیخ کر یہ بتا رہا ہے کہ فرقہ واریت کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان کرتی ہے، اسی لیے پاکستان اس وقت ایک منفرد اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں کھڑا ہے جہاں وہ نہ صرف خود اتحاد کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتا ہے بلکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط کرنے میں بھی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
موجودہ ایران امریکہ کشیدگی کے پس منظر میں اگر اسلامی دنیا کے اہم ممالک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ صرف ایک وقتی سفارتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اندرونی اختلافات کم کرنے کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا کو آج جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے وہ فرقہ وارانہ اختلافات سے کہیں زیادہ سنگین نوعیت کے ہیں جن میں فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات، معاشی دباو¿، عالمی طاقتوں کا سیاسی اثر و رسوخ اور داخلی عدم استحکام شامل ہیں۔ ایسے میں اگر مسلمان ممالک اپنے اختلافات کو کم کرتے ہوئے مشترکہ مفادات پر اکٹھے ہو جائیں تو نہ صرف خطے میں امن کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی مسلمانوں کا اجتماعی مو¿قف مضبوط ہو سکتا ہے۔ اور سب ممالک اپنے اتحاد سے ایک مضبوط قوت بن کر سامنے آ سکتے ہیں۔ پاکستان، ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی دراصل اسی ممکنہ اتحاد کی ایک جھلک ہے جو اگر مستقل بنیادوں پر مضبوط ہو جائے تو امت کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیرونی طاقتیں ہمیشہ سے اسلامی دنیا کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں اور جب مسلمان آپس میں تقسیم ہوتے ہیں تو ان کی سیاسی، معاشی اور دفاعی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو صرف ایک بحران کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک موقع کے طور پر سمجھنا زیادہ ضروری ہے تاکہ مذہبی اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے کم کیا جا سکے۔

علما، دانشوروں، سیاسی قیادت اور میڈیا کو بھی اس موقع پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اتحاد کا بیانیہ مضبوط کرنا چاہیے تاکہ عوام کے دلوں سے بداعتمادی ختم ہو اور انہیں یہ احساس ہو کہ شیعہ سنی اختلافات اسلام کی بنیاد نہیں بلکہ تاریخی تعبیرات کا حصہ ہیں جبکہ اسلام کی اصل روح اخوت، رواداری اور عدل پر قائم ہے۔ اگر آج پاکستان دانشمندی، تدبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بنے گا بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عملی مثال بھی قائم کرے گا کہ اختلافات کے باوجود اتحاد ممکن ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب اسلامی دنیا کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ ہمیشہ دوسروں کے تنازعات کا میدان بنی رہے گی یا اپنے اندرونی اختلافات ختم کر کے ایک مضبوط، متحد اور باوقار مستقبل کی طرف قدم بڑھائے گی۔

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button