ٹرمپ انتظامیہ کا،امریکی شہریت،گرین کارڈ اور امیگریشن سٹیٹس کےلئے پبلک چارج کی نئی پالیسی لانے کا اعلان
یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس) نے امیگریشن سے متعلق ”پبلک چارج“کے اصول میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے
یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق پبلک چارج کی نئی پالیسی 20 جولائی کو سرکاری گزٹ میں شائع کی جائے گی، جبکہ اس پر باقاعدہ عمل درآمد 18 ستمبر 2026 سے شروع ہوگا
نیویارک( اردونیوز) یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس) نے امیگریشن سے متعلق ”پبلک چارج“کے اصول میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی شہریت ،گرین کارڈ، امیگریشن اسٹیٹس میں تبدیلی یا دیگر امیگریشن درخواستوں کا جائزہ لیتے وقت درخواست گزار کی سرکاری امدادی پروگراموں پر انحصار کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع پیمانے پر دیکھا جائے گا۔محکمہ کے مطابق نئی پالیسی 20 جولائی کو سرکاری گزٹ میں شائع کی جائے گی، جبکہ اس پر باقاعدہ عمل درآمد 18 ستمبر 2026 سے شروع ہوگا۔ اس نئی پالیسی کے ذریعے 2022 میں نافذ ہونے والا سابقہ ضابطہ ختم کر دیا جائے گا، جس میں پبلک چارج کے تعین کے لیے صرف نقد سرکاری امداد یا حکومت کے خرچ پر طویل مدتی ادارہ جاتی نگہداشت کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔
نئے قانون کے تحت امیگریشن حکام درخواست گزار کے ساتھ ساتھ بعض صورتوں میں اس کے اہلِ خانہ کی جانب سے مختلف صحت اور سماجی خدمات سے مسلسل استفادہ کرنے کے پہلو کا بھی جائزہ لے سکیں گے۔ تاہم محکمہ نے واضح کیا ہے کہ 18 ستمبر 2026 سے پہلے حاصل کیے گئے فوائد کو نئے قانون کے تحت شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس تاریخ سے پہلے کے معاملات پر 2022 کا موجودہ ضابطہ ہی لاگو رہے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جن افراد کو یہ خدشہ ہو کہ نئی پالیسی ان کے امیگریشن کیس پر اثر انداز ہو سکتی ہے، وہ کسی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے قانونی ماہرین سے مشورہ کریں۔ نیویارک سٹیٹ آفس آف نیوامریکنز نے بھی متاثرہ افراد کے لیے مفت اور خفیہ معلومات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ”800-566-7636“پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
دریں اثنا، نیویارک امیگریشن کولیشن کے صدر اور چیف ایگزیکٹو مراد اواد نے نئی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خاندان کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے خوراک اور علاج حاصل کرے یا اپنے امیگریشن مستقبل کو محفوظ بنائے۔انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کے باعث بہت سے خاندان، خواہ وہ قانونی طور پر سرکاری سہولیات کے مستحق ہی کیوں نہ ہوں، صرف اس خوف سے ضروری طبی، غذائی اور سماجی پروگراموں سے دستبردار ہو سکتے ہیں کہ کہیں اس سے ان کے کسی عزیز کی امیگریشن درخواست متاثر نہ ہو جائے۔ ان کے مطابق اگر خاندان علاج، خوراک یا بچوں کی فلاح و بہبود کے پروگراموں سے دور رہنے لگیں تو اس کے منفی اثرات پوری کمیونٹی پر مرتب ہوں گے۔مراد اواد نے امیگرنٹس کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی سرکاری پروگرام سے اپنا نام واپس لینے یا امیگریشن سے متعلق کوئی اہم فیصلہ کرنے سے پہلے مستند امیگریشن وکیل یا قانونی مشیر سے ضرور رہنمائی حاصل کریں۔
DHS Announces New Public Charge Rule, Expanding Immigration Reviews Starting September 2026
WASHINGTON— The Department of Homeland Security (DHS) has issued a final rule rescinding the 2022 Biden-era regulation regarding public charge determinations, further aligning immigration law with Congressional intent that aliens in the United States be self-reliant and not dependent on taxpayer-funded government benefits. Under the Immigration and Nationality Act (INA), an individual applying for a visa, admission, or adjustment of status is inadmissible to the United States if deemed likely at any time to become a public charge.
The now-rescinded Biden-era regulation restricted which public benefits DHS could consider, limiting officers’ ability to review all relevant factors as intended by Congress. With this final rule, USCIS officers are empowered to assess all pertinent facts on a case-by-case basis for each applicant.
“The Trump administration is upholding the rule of law and protecting American taxpayers from subsidizing aliens who may become dependent on public benefits. USCIS is committed to safeguarding the safety, security, and financial well-being of Americans,” said U.S. Citizenship and Immigration Services spokesperson Zach Kahler.
The rule will take effect on Sept. 18, 2026. USCIS will publish a revised Form I-485, Application to Register Permanent Residence or Adjust Status. Older versions of Form I-485 postmarked or submitted electronically on or after the effective date will not be accepted.
For Latest News visit Urdu News USA



