خبریں

پاکستان کا شام میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم،شامی قیادت میں سیاسی عمل اور شام کی خودمختاری کے احترام پر زور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ اور برقرار رکھنے اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی بھرپور حمایت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے

اقوام متحدہ( محسن ظہیر سے ) پاکستان نے شام کی صورتحال میں رونما ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع، تقسیم اور انسانی بحران کے برسوں کے بعد اب شام کو استحکام، بحالی اور معمول کی جانب واپسی کے لیے ایک حقیقی موقع میسر آیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ اور برقرار رکھنے اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی بھرپور حمایت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
سفیر عثمان جدون نے شامی ریاست اور اس کے اداروں کے استحکام اور استحکامِ ریاست کے عمل کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی اور شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ایک ایسے جامع، شامی ملکیت اور شامی قیادت میں سیاسی عمل کی اہمیت پر بھی زور دیا جو سیاسی شرکت کو وسعت دے، قومی یکجہتی کو مضبوط کرے اور شامی عوام کی امنگوں کا عکاس ہو۔
شام کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں نئی تحریک اور دوطرفہ روابط میں تازہ رفتار کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سیاسی روابط کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے شام پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی، بالخصوص امریکہ کی جانب سے پابندیوں اور بعض نامزدگیوں کے خاتمے، کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے خطے اور عالمی سطح پر شام کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون اور سرمایہ کاری کو بھی امید افزا قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ان پیش رفتوں کا ثمر معاشی سرگرمیوں میں اضافے، تعمیرِ نو میں تیزی اور شامی عوام کی زندگیوں میں حقیقی اور نمایاں بہتری کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔
سفیر عثمان جدون نے واضح کیا کہ شام میں انسانی صورتحال تاحال تشویشناک ہے اور لاکھوں افراد بدستور انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحالی اور تعمیرِ نو پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی امداد کا سلسلہ بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے دہشت گردی سے شام میں ابھرتے ہوئے استحکام کو لاحق خطرات کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ داعش اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجو بدستور ایک سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مربوط اور مو¿ثر کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عبوری انصاف کا عمل منصفانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ قومی مفاہمت کے فروغ میں مدد مل سکے۔
شام کے خلاف اسرائیلی فوجی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے ابو الضہور ایئربیس پر اسرائیل کے حملے کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ انہوں نے 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کا مکمل احترام یقینی بنانے اور تمام مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس امر کا بھی اعادہ کیا کہ شامی گولان بدستور شام کا مقبوضہ علاقہ ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 338 اور 497 میں بھی اس کی توثیق کی گئی ہے۔
نائب مستقل مندوب نے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شامی عوام کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اتحاد، استحکام اور خوشحالی پر مبنی مستقبل کی جانب شامی عوام کی کوششوں میں اپنے برادر شامی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا

Pakistan Welcomes Positive Developments in Syria, Calls for Syrian-Led Political Process and Respect for Sovereignty

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے