پاکستان

نیویارک شہر کے 600 چوراہوں پر ریڈ لائٹ کیمرے نصب، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر نظر رکھی جائے گی

کیمرہ نصب ہونے والے مقامات پر سرخ بتی عبور کرنے کے واقعات میں 80 فیصد سے زائد کمی، خطرناک حادثات اور زخمیوں کی تعداد کم کرنے میں بھی مدد ملی

نیویارک شہر کے 600 چوراہوں پر ریڈ لائٹ کیمرے نصب، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر نظر رکھی جائے گی
کیمرہ نصب ہونے والے مقامات پر سرخ بتی عبور کرنے کے واقعات میں 80 فیصد سے زائد کمی، خطرناک حادثات اور زخمیوں کی تعداد کم کرنے میں بھی مدد ملی

نیویارک (اردو نیوز) نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی اورٹرانسپورٹ کمشنر مائیک فلین نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک سٹی کے پانچوں بورو میں 600 چوراہوں پر ریڈ لائٹ کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح شہر کی انتظامیہ نے ریاستی قانون کے تحت مقررہ زیادہ سے زیادہ حد تک ریڈ لائٹ کیمروں کے نظام کو وسعت دینے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
میئر ظہران ممدانی کے مطابق ریڈ لائٹ کیمرے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی روکنے، ڈرائیوروں کے رویے میں بہتری لانے اور خطرناک حادثات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے میں موثر ثابت ہو رہے ہیں۔ نیویارک سٹی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران چوراہوں پر ہونے والے مہلک حادثات میں سے 22 فیصد میں ریڈ لائٹ عبور کرنے کا عمل شامل تھا۔
محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے مطابق جن مقامات پر یہ کیمرے نصب کیے گئے، وہاں سرخ ریڈ لائٹ کرنے کے واقعات میں 80 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح کیمروں کی تنصیب کے بعد پیچھے سے ٹکرانے کے حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں تقریباً 60 فیصد جبکہ اطراف سے گاڑی ٹکرانے کے واقعات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔

شہر کی انتظامیہ کے مطابق 2025 میں ریڈ لائٹ عبور کرنے پر کیمرے کے ذریعے خلاف ورزی ریکارڈ ہونے والی 95 فیصد گاڑیوں کو ایک یا دو سے زیادہ خلاف ورزیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جبکہ 0.7 فیصد سے بھی کم گاڑیوں کے خلاف پانچ یا اس سے زیادہ خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ریڈ لائٹ کیمروں کے ذریعے جاری کیے جانے والے تقریباً 39 فیصد خلاف ورزی کے نوٹس ان گاڑیوں کو بھیجے جاتے ہیں جو نیویارک سٹی سے باہر رجسٹرڈ ہیں۔
میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ محض اندازوں پر نہیں بلکہ ایسے ثابت شدہ اقدامات پر منحصر ہے جو حادثات کو روک سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ریڈ لائٹ کیمرے خطرناک ڈرائیونگ کرنے والوں کو جواب دہ بناتے ہیں اور حادثہ پیش آنے سے پہلے ہی اس کے امکانات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام 600 چوراہوں پر کیمروں کی تنصیب مکمل ہونے سے پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں، گاڑی چلانے والوں اور بسوں میں سفر کرنے والے افراد کے لیے سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
نیویارک سٹی ٹرانسپورٹ کمشنر مائیک فلین نے کہا کہ ریڈ لائٹ کیمرے جانیں بچانے اور ڈرائیوروں کے رویے میں تبدیلی لانے کا مو¿ثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض کے بعد شہر کی سڑکوں پر سرخ بتی عبور کرنے کے خطرناک رجحان میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی روک تھام کے لیے کیمروں کے نظام کو وسعت دینا ضروری تھا۔
محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے مطابق کیمروں کی تنصیب کے لیے ایسے چوراہوں کو ترجیح دی جاتی ہے جہاں ماضی میں سرخ بتی عبور کرنے کے باعث گاڑیوں کی اطراف سے ٹکرانے کے حادثات اور زخمی ہونے کے واقعات زیادہ پیش آئے ہوں۔
شہر کی انتظامیہ ریڈ لائٹ کیمروں کے ساتھ سڑکوں کے ڈیزائن میں بہتری اور دیگر حفاظتی اقدامات کو بھی اپنے وڑن زیرو پروگرام کا حصہ قرار دیتی ہے، جس کا مقصد ٹریفک حادثات میں اموات اور سنگین زخمی ہونے کے واقعات کو کم کرنا ہے۔
ریاستی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان سمیت مختلف منتخب نمائندوں اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں نے بھی کیمروں کی تعداد 600 تک پہنچنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے پیدل چلنے والوں، بچوں، بزرگوں، سائیکل سواروں اور گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔
ٹرانسپورٹیشن آلٹرنیٹوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بین فرناس نے کہا کہ نیویارک شہر میں ٹریفک سگنل والے 10 ہزار سے زیادہ چوراہے ایسے ہیں جہاں مزید کیمروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2027 کے ریاستی قانون ساز اجلاس میں اس پروگرام کی دوبارہ منظوری اور مزید توسیع کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
شہر کی انتظامیہ کے مطابق 600 چوراہوں پر کیمروں کی تنصیب ریاستی قانون کے تحت فی الحال اجازت یافتہ زیادہ سے زیادہ تعداد تک پہنچنے کی نمائندگی کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیمروں کی تنصیب، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور سڑکوں کی بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے نیویارک کو شہریوں کے لیے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

Think Before You Run a Red Light! NYC Installs Cameras at 600 Intersections Across All Five Boroughs

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے