امریکی مڈٹرم الیکشن ، صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر ریفرنڈم ہوگا!!
تین نومبر کو ہونیوالے میںمڈٹرم الیکشن مہنگائی، امیگریشن، صحت اورصدر ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی کارکردگی،پالسیاں انتخابی مہم کے اہم موضوعات ہیں
امریکی مڈٹرم الیکشن ، صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر ریفرنڈم ہوگا!!
تین نومبر کو ہونیوالے میںمڈٹرم الیکشن مہنگائی، امیگریشن، صحت اورصدر ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی کارکردگی،پالسیاں انتخابی مہم کے اہم موضوعات ہیں؛ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل کرنے کی امید، سینیٹ میں مقابلہ سخت
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) امریکہ میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات ملک کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں اور 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات ہوں گے۔ تین امریکی علاقوں میں بھی گورنر کے انتخابات شیڈول ہیں۔ ان انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری حکومت کی کارکردگی، مہنگائی، پٹرول اور توانائی کی قیمتیں، امیگریشن پالیسی، صحت کی سہولتوں اور روزگار کے معاملات پر عوامی ردعمل کا امتحان ہوگا۔
امریکی سیاست کے مبصرین کے مطابق انتخابات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آیا ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے گی یا ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرکے وائٹ ہاو¿س کی پالیسیوں کے سامنے ایک مضبوط سیاسی رکاوٹ کھڑی کردیں گے۔
امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں اس وقت ریپبلکن پارٹی کو معمولی برتری حاصل ہے۔ 6 اکتوبر کو امریکی ایوان کے کلرک کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریپبلکنز کے پاس 218، ڈیموکریٹس کے پاس 214 اور ایک آزاد رکن کی نشست ہے، جبکہ دو نشستیں خالی ہیں۔ اس طرح ریپبلکن اکثریت بہت محدود ہے اور چند نشستوں پر نتائج بھی ایوان کا کنٹرول تبدیل کرسکتے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کے تمام 435 ووٹنگ اراکین کا انتخاب ہر دو سال بعد ہوتا ہے، اس لیے 2026 کے انتخابات میں ہر کانگریشنل ڈسٹڑکٹ میں مقابلہ ہوگا۔ ڈیموکریٹس کو ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے موجودہ نشستوں کی تقسیم اور خالی نشستوں کے نتائج کے مطابق کم از کم چار نشستوں کا خالص فائدہ درکار ہے۔
دوسری جانب سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو 53 کے مقابلے میں ڈیموکریٹس اور ان کے اتحادیوں کی 47 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے۔ اس بار سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخاب ہوگا، جن میں 33 معمول کی مدت والی نشستیں اور دو خصوصی انتخابات شامل ہیں۔ سینیٹرز کی مدت چھ سال ہوتی ہے اور ہر دو سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستیں انتخاب کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم دو نشستوں پر کامیابی لازم ہے۔ جارجیا، مشی گن، نیو ہیمپشائر، مین، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، الاسکا اور آئیووا سمیت متعدد ریاستوں میں مقابلے قومی سطح پر اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ ٹیکساس اور کنساس جیسے روایتی طور پر ریپبلکن ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس کی بہتر انتخابی پوزیشن نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔
نیشنل گورنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 2026 میں 36 ریاستوں اور تین امریکی علاقوں میں گورنروں کے انتخابات ہوں گے۔ ان میں شامل ریاستیں یہ ہیں:الاباما، الاسکا، ایریزونا، آرکنساس، کیلیفورنیا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، فلوریڈا، جارجیا، ہوائی، آئیڈاہو، الینوائے، آئیووا، کنساس، مین، میری لینڈ، میساچوسٹس، مشی گن، مینیسوٹا، نیبراسکا، نیواڈا، نیو میکسیکو، نیویارک، اوہائیو، اوکلاہوما، اوریگن، پنسلوانیا، رہوڈ آئی لینڈ، ساو¿تھ کیرولائنا، ساو¿تھ ڈکوٹا، ٹینیسی، ٹیکساس، ورمونٹ، وسکونسن اور وائیومنگ سمیت 36 ریاستیں۔
گورنروں کے انتخابات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ریاستی حکومتیں صحت، تعلیم، ٹیکس، عوامی تحفظ، رہائش اور امیگریشن سے متعلق متعدد پالیسیوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ بعض ریاستوں میں گورنر کی دوڑ کانگریس کے انتخابات سے الگ سیاسی رجحان بھی ظاہر کرسکتی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کی کوشش ہے کہ صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں، ٹیکس میں کمی، سرحدی تحفظ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کو انتخابی مہم کا مرکزی حصہ بنایا جائے۔ ریپبلکن امیدوار ووٹروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سرحدی کنٹرول اور سخت امیگریشن پالیسی قومی سلامتی اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
تاہم مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ریپبلکنز کو دفاعی پوزیشن بھی اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی اکتوبر کی رپورٹوں کے مطابق بعض اہم کانگریشنل حلقوں میں ریپبلکنز اپنی انتخابی حکمتِ عملی اور مالی وسائل کی تقسیم پر نظرثانی کررہے ہیں۔
ڈیموکریٹس نے اس کے برعکس مہنگائی، رہائش کے اخراجات، صحت کی سہولتوں، ملازمتوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی کارکردگی کو اپنی مہم کا مرکز بنایا ہے۔ ان کا مو¿قف ہے کہ عام امریکی خاندانوں کو روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے ریلیف دینے کی ضرورت ہے اور کانگریس میں ڈیموکریٹک اکثریت انتظامیہ کی پالیسیوں پر مو¿ثر نگرانی کرسکتی ہے۔
ڈیموکریٹس کی ایک بڑی کوشش نوجوانوں، سیاہ فام، ہسپانوی نڑاد اور آزاد ووٹروں کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کرنا بھی ہے۔ دوسری جانب ریپبلکنز اپنی روایتی حمایت کو برقرار رکھنے، مضافاتی علاقوں میں ووٹ حاصل کرنے اور ڈیموکریٹس کو بائیں بازو کی انتہا پسند سیاست سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کے امکانات بہتر دکھائی دیتے ہیں، تاہم سیاسی تقسیم، انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی، ریپبلکنز کی مالی برتری اور ووٹروں کی شرکت میں غیر یقینی صورتِ حال ان کی بڑی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
نیویارک میں گورنر کیتھی ہوکل اور ریپبلکن امیدوار بروس بلیک مین کے درمیان مقابلہ ریاستی انتخابات کی نمایاں ترین دوڑوں میں شامل ہے۔ ہوکل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ بلیک مین ناسا کاو¿نٹی کے ایگزیکٹو ہیں اور ریپبلکن پارٹی کی جانب سے گورنر کے امیدوار ہیں۔یہ مقابلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ نیویارک روایتی طور پر ڈیموکریٹس کے لیے مضبوط ریاست سمجھی جاتی ہے، لیکن لانگ آئی لینڈ اور بعض مضافاتی علاقوں میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت ریاست گیر نتائج پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
ہوکل کی انتخابی مہم میں ریاستی معیشت، صحت، تعلیم، رہائش کے اخراجات اور عوامی تحفظ کے معاملات اہم ہیں۔ وہ اپنی حکومت کی کارکردگی اور ریاست میں جاری پالیسیوں کا دفاع کررہی ہیں۔ بلیک مین مہنگائی، ٹیکس، جرائم، امیگریشن اور ریاستی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے تبدیلی کا پیغام دے رہے ہیں۔
دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلے میں نیویارک سٹی اور مضافاتی علاقوں کے ووٹرز کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔ نیویارک سٹی میں ڈیموکریٹس کو روایتی برتری حاصل ہے، جبکہ ناسا اور سفک کاو¿نٹیوں سمیت لانگ آئی لینڈ کے علاقوں میں ریپبلکنز کو زیادہ حمایت ملنے کی توقع رہتی ہے۔ تاہم انتخابی نتائج کا انحصار صرف جغرافیائی تقسیم پر نہیں بلکہ ووٹروں کی شرکت، آزاد ووٹروں کے رجحان اور امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم کی مو¿ثریت پر بھی ہوگا۔
نیویارک میں گورنر کی دوڑ کے حوالے سے حالیہ سروے مختلف نتائج پیش کررہے ہیں۔ ریئل کلیئر پولنگ کے 5 اکتوبر تک کے اوسط میں ہوکل کو تقریباً 53.3 فیصد اور بلیک مین کو 40.5 فیصد حمایت حاصل تھی۔ مارِسٹ کالج کے یکم سے 4 اکتوبر کے سروے میں ہوکل 53 فیصد اور بلیک مین 42 فیصد پر تھے۔تاہم 13 اکتوبر کو شائع ہونے والے نیویارک پوسٹ کے ایک پولفِنٹی سروے میں مقابلہ کافی قریب دکھائی دیا، جس میں ہوکل کو 47 فیصد اور بلیک مین کو 44 فیصد حمایت حاصل تھی، جبکہ تقریباً 6 فیصد ووٹرز غیر فیصلہ کن تھے۔
سروے کے نتائج میں اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اداروں کے نمونے، سروے کی تاریخ اور ووٹروں کے انتخاب کے طریقے نتائج کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک سروے کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ مجموعی طور پر ہوکل اب بھی متعدد سرویز میں آگے ہیں، لیکن بلیک مین کی مہم کے لیے مقابلے کو قریب لانا ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
نیویارک میں 2022 کے گورنر کے انتخابات میں کیتھی ہوکل اور ریپبلکن امیدوار لی زیلڈن کے درمیان سخت مقابلہ ہوا تھا۔ نیویارک اسٹیٹ بورڈ آف الیکشنز کے سرکاری نتائج کے مطابق اس انتخاب میں مجموعی طور پر تقریباً 59 لاکھ 62 ہزار بیلٹ ڈالے گئے تھے۔ ہوکل اور ان کے ساتھی امیدوار انتونیو ڈیلگاڈو نے تقریباً 31 لاکھ 40 ہزار ووٹ حاصل کیے، جبکہ زیلڈن اور ان کی ساتھی ایلیسن ایسپو سِیٹو کو تقریباً 27 لاکھ 63 ہزار ووٹ ملے۔
ہوکل نے تقریباً 53.1 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی، جبکہ زیلڈن کو تقریباً 46.7 فیصد ووٹ ملے۔ یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ نیویارک میں ڈیموکریٹک امیدوار کی برتری کے باوجود ریپبلکن امیدوار نے نمایاں حمایت حاصل کی تھی، خصوصاً ریاست کے مضافاتی علاقوں میں۔
البتہ ڈالے گئے بیلٹ کی تعداد اور اہل یا رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ووٹ ڈالنے والوں کی شرح دو مختلف اعداد ہیں۔ ووٹنگ کی درست شرح بتانے کے لیے رجسٹرڈ یا اہل ووٹروں کی متعلقہ تعداد کے ساتھ موازنہ ضروری ہے۔
مبصرین کے مطابق وسط مدتی انتخابات امریکی صدر کی مدتِ صدارت کے درمیان عوامی رائے کا ایک اہم امتحان ہوتے ہیں۔ صدر کا نام بیلٹ پر نہ ہونے کے باوجود ان کی پالیسیوں اور مقبولیت کا اثر امیدواروں کی کامیابی یا ناکامی پر پڑسکتا ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو وہ قانون سازی، بجٹ، انتظامیہ کی نگرانی اور مختلف معاملات کی تحقیقات میں زیادہ مو¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر وہ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرلیں تو صدارتی تقرریوں اور قانون سازی کے عمل پر ان کا اثر مزید بڑھ جائے گا۔
دوسری جانب ریپبلکنز کے لیے کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنا صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور اپنی حکومت کی پالیسیوں کے دفاع کے لیے اہم ہوگا۔
تاہم سیاسی تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ قومی سطح کے سروے ہر کانگریشنل حلقے یا ریاست کے نتائج کی درست پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ امیدواروں کی مقامی مقبولیت، انتخابی مہم کے وسائل، ووٹروں کی شرکت اور آخری ہفتوں میں سامنے آنے والے سیاسی واقعات نتائج تبدیل کرسکتے ہیں۔
نیویارک، نیوجرسی اور دیگر ریاستوں میں آباد پاکستانی اور جنوبی ایشیائی امریکی ووٹروں کے لیے بھی یہ انتخابات اہمیت رکھتے ہیں۔ امیگریشن، خاندانی ویزوں، صحت کی سہولتوں، کاروباری اخراجات، تعلیم، روزگار اور ٹیکس جیسے معاملات براہِ راست ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
نیویارک میں گورنر کے انتخاب کے ساتھ کانگریس کی نشستوں پر ہونے والے مقابلے بھی اہم ہوں گے، کیونکہ وفاقی حکومت کی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے علاوہ ریاستی حکومت کے فیصلے بھی تارکینِ وطن کی کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں۔3 نومبر کے انتخابات کے نتائج صرف سیاسی جماعتوں کی نشستوں کی تقسیم نہیں بدلیں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ امریکی ووٹر موجودہ حکومت کی کارکردگی سے کس حد تک مطمئن ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ پیش رفت، سینیٹ میں سخت مقابلہ اور نیویارک میں ہوکل اور بلیک مین کی دوڑ اس انتخاب کو قومی سیاست کا ایک اہم مرحلہ بنا رہی ہے۔


