امریکہ میں ڈاکٹرز کی کمی بڑھنے کا خدشہ، امیگریشن پالیسیوں سے غیر ملکی ڈاکٹرز کی آمد متاثر ہونے کا امکان
ڈاکٹروں کے لیے امریکہ آنا، یہاں تربیت حاصل کرنا اور ملازمت جاری رکھنا مشکل ہونے سے ملک میں پہلے سے موجود طبی عملے کی کمی مزید سنگین ہو سکتی ہے
امریکہ میں ڈاکٹرز کی کمی بڑھنے کا خدشہ، امیگریشن پالیسیوں سے غیر ملکی ڈاکٹرز کی آمد متاثر ہونے کا امکان
ڈاکٹروں کے لیے امریکہ آنا، یہاں تربیت حاصل کرنا اور ملازمت جاری رکھنا مشکل ہونے سے ملک میں پہلے سے موجود طبی عملے کی کمی مزید سنگین ہو سکتی ہے،
میڈیکل شعبے سے متعلق تحقیقی مطالعات کے مطابق بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر امریکی ڈاکٹروں کے مقابلے میں قدرے زیادہ امکان کے ساتھ ایسے علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہیں جہاں بنیادی طبی سہولتوں کی کمی ہے
نیویارک ( اردونیوز) امریکہ میں ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی قلت کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ طبی شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی میڈیکل اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے امریکہ آنا، یہاں تربیت حاصل کرنا اور ملازمت جاری رکھنا مشکل ہونے سے ملک میں پہلے سے موجود طبی عملے کی کمی مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں میں تقریباً ہر چار میں سے ایک نے بیرون ملک میڈیکل تعلیم حاصل کی ہے۔ بعض شعبوں میں ان کا تناسب اس سے بھی زیادہ ہے۔ اندرونی امراض کے ماہرین میں تقریباً 41 فیصد، ہارمونز اور ذیابیطس کے امراض کے ماہرین میں 46 فیصد، جبکہ بزرگوں کی صحت سے متعلق خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں میں یہ شرح 52 فیصد بتائی گئی ہے۔
امریکی ادارہ برائے صحت کے افرادی وسائل (HRSA) کے مطابق ملک میں تقریباً 10 کروڑ 20 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں بنیادی طبی خدمات فراہم کرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد ضرورت سے کم ہے۔ ادارے کے تخمینے کے مطابق 2038 تک امریکہ کو کل وقتی ڈاکٹروں کی تقریباً ایک لاکھ 41 ہزار 160 کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
میڈیکل شعبے سے متعلق تحقیقی مطالعات کے مطابق بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر امریکی ڈاکٹروں کے مقابلے میں قدرے زیادہ امکان کے ساتھ ایسے علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہیں جہاں بنیادی طبی سہولتوں کی کمی ہے۔ اسی طرح ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر امریکہ آنے والے ڈاکٹر نسبتاً زیادہ امکان کے ساتھ غریب اور کم آمدنی والی آبادیوں میں کام کرتے ہیں۔
ایچ ون بی ویزا امریکی اداروں کو مخصوص مہارت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی متعدد اسپتال اور طبی ادارے اس پروگرام کے ذریعے بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
تاہم، اگست 2026 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ویزا پالیسیوں میں تبدیلیوں، غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر بھاری فیس اور سفری پابندیوں کے باعث طبی اداروں کے لیے بیرون ملک سے ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنا مزید مشکل ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے بعض ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور آن لائن موجودگی کی جانچ بھی وسیع کی ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کا جائزہ لینا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایچ ون بی ویزا کے تحت غیر ملکی ملازمین کی بھرتی پر بعض صورتوں میں 100,000 ڈالر تک کی فیس کا معاملہ سامنے آیا، جبکہ اس سے پہلے متعلقہ درخواستوں کی فیس عموماً 2,000 سے 5,000 ڈالر کے درمیان بتائی جاتی تھی۔ تاہم، اس اضافے کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا اور قانونی کارروائی کے باعث اس کے نفاذ کی صورت حال پیچیدہ رہی ہے۔ انتظامیہ نے بعد ازاں بعض ایچ ون بی درخواست گزاروں کے لیے 103,265 ڈالر کی اضافی فیس کی تجویز بھی پیش کی۔
امریکی اسپتالوں کی نمائندہ تنظیم، امریکن ہاسپٹل ایسوسی ایشن، کے ایک سروے کے مطابق ایچ ون بی پروگرام استعمال کرنے والے 64 فیصد اسپتالوں نے مجوزہ بھاری فیس کے خدشے کے باعث غیر ملکی عملے کی بھرتی روکنے، مو¿خر کرنے یا محدود کرنے کی اطلاع دی۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانونی فیصلوں کے باوجود غیر یقینی صورت حال اسپتالوں کی منصوبہ بندی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ماہرین کی تشویش
ہارورڈ میڈیکل اسکول سے وابستہ صحت پالیسی کے محقق اور میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کے ڈاکٹر ترون رامیش کے مطابق امریکہ ایک طرف بیرون ملک تربیت یافتہ ڈاکٹروں پر انحصار کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف امیگریشن پالیسیوں کے ذریعے ان ڈاکٹروں کے لیے ملک میں داخلہ، تربیت اور قیام مشکل بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی ضرورت اور امیگریشن پالیسیوں کے درمیان یہ تضاد طبی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کی بھرتی سے متعلق قانونی امور کے ماہر اینڈریو وِزنر کے مطابق، ویزا قوانین میں مسلسل تبدیلیوں، عدالتی فیصلوں اور غیر یقینی صورت حال کے باعث بعض غیر ملکی ڈاکٹر امریکہ آنے یا یہاں تربیت حاصل کرنے کے منصوبے پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن آف امریکن میڈیکل کالجز کے پالیسی تجزیہ کار بریڈلی کننگھم نے بھی اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں کے لیے نئی قانونی پیچیدگیوں اور بھاری اخراجات کا سامنا کرنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق، بیرون ملک سے امریکہ آنے والے ڈاکٹروں اور ان کے خاندانوں کے لیے تربیت مکمل کرنے اور مستقبل کے بارے میں یقین دہانی نہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
ریاستوں کی جانب سے متبادل راستے
دوسری جانب، امریکہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی متعدد ریاستیں غیر ملکی میڈیکل تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کو لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ 2026 کے وسط تک تقریباً دو درجن ریاستوں نے ایسے قوانین منظور کیے تھے جن کا مقصد بیرون ملک سے میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے امریکی لائسنس حاصل کرنے کے راستے آسان بنانا ہے۔
ریاست جارجیا کے ری پبلکن سینیٹر اور ڈاکٹر بین واٹسن کا کہنا ہے کہ امریکی میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ان کے مطابق، اس اقدام کا ایک اہم مقصد دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانا ہے، جبکہ معیار اور اہلیت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف مراحل میں شرائط رکھی گئی ہیں۔
امریکہ میں 1994 سے نافذ کونراڈ 30 وِیور پروگرام بھی ایسے علاقوں میں ڈاکٹروں کی خدمات بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جہاں طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت امریکہ میں جے ون (J-1) ویزا پر تربیت حاصل کرنے والے بعض غیر ملکی ڈاکٹروں کو اپنے آبائی ملک واپس جا کر دو سال گزارنے کی معمول کی شرط سے استثنا مل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مقررہ مدت تک ضرورت مند علاقے میں خدمات انجام دیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مو¿قف ہے کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کے بعض اداروں نے غلط استعمال کیا اور اس کے ذریعے امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکی ملازمین بھرتی کیے گئے۔ تاہم، کیلیفورنیا سمیت 20 ڈیموکریٹک ریاستوں نے فیس میں اضافے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی، جس کے بعد عدالتوں میں اس معاملے پر کارروائی جاری رہی۔
طبی ماہرین کے مطابق، اگر بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کی بھرتی میں رکاوٹیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات صرف اسپتالوں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ دیہی علاقوں، کم آمدنی والی آبادیوں اور ایسے مریضوں پر بھی پڑ سکتے ہیں جنہیں پہلے ہی بنیادی طبی خدمات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ڈاکٹروں کی قلت دور کرنے کے لیے میڈیکل تعلیم اور تربیت کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایسے امیگریشن راستوں کی ضرورت بھی برقرار رہے گی جو اہل غیر ملکی ڈاکٹروں کو امریکی طبی نظام میں خدمات انجام دینے کے قابل بنا سکیں۔



