پاکستانبین الاقوامی

علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن نیویارک کے زیر اہتمام سر سید ڈے اور عالمی مشاعرہ

علی گڑھ یونیورسٹی سے محبت ہمارے رشتے کی مضبوطی کی بنیاد ہے ، علی گڑھ اور سر سید احمد خان مشعل راہ ہے

علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن نیویارک کے زیر اہتمام سر سید ڈے اور عالمی مشاعرہ
جب ہم اپنے مشترکہ سفر پر نظر ڈالتے ہیں تو دل اس لافانی سفر پر شکر سے بھر جاتا ہے اور علی گڑھ یونیورسٹی سے محبت ہمارے رشتے کی مضبوطی کی بنیاد ہے ، علی گڑھ اور سر سید احمد خان مشعل راہ ہے
علی گڑھ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون پرنسپلنے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ علی گڑھ یونیورسٹی میںنئی نسل کے سٹوڈنٹس آرہے ہیں اور کیپمس آگے بڑھ رہا ہے ، یونیورسٹی کا اپنے سٹوڈنٹس پر فخر ہے
ڈاکٹر عبداللہ علی گڑھ کی روح سے سرشار ہیں ، اردو ان کے دل میں بستی ہے ، اور مشاعرہ ان کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، سر سید ڈے ڈنر و عالمی مشاعرے میں ڈاکٹر عبداللہ کی شخصیت کو خراج تحسین
صدر مرزا عرفان بیگ کی صدارت میں منعقدہ سالانہ تقریب میں معروف علیگیرئین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی بطور مہمان خصوصی شرکت، حمیرا رحمان کی صدارت میں عالمی مشاعرہ ۔ بھوپالی، عمار اقبال، خوشبیر سنگھ شاد، عنبرین حسیب عنبراور حانا خان نے خصوصی شرکت کی ، علی گڑھ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کا ویڈیو خطاب، اہم شخصیات کو ایوارڈز پیش کئے گئے، شاہین عثمانی نے نظامت کی

نیویارک (محسن ظہیر سے) علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن نیویارک (AAANY) کے زیر اہتمام حسب روایت اس سال بھی نیویارک میں سالانہ سر سید احمد ڈے ڈنر اور عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ صدر مرزا عرفان بیگ کی صدارت میں منعقدہ سالانہ تقریب میں معروف علیگیرئین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر کے طور پر شرکت کی جبکہ حمیرا رحمان کی صدارت میں منعقدہ عالمی مشاعرہ میں معروف عالمی شعراءمنظر بھوپالی، عمار اقبال، خوشبیر سنگھ شاد، عنبرین حسیب عنبراور حانا خان نے خصوصی شرکت کی ۔
تقریب کے انعقاد میں علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن نیویار ک کے صدر مرزا عرفان بیگ، نائب صدر شاہ شعیب فیضان، جنرل سیکرٹری احمد زبیر، جوائنٹ سیکرٹری شیراز مجتبیٰ، ٹریژرر بشریٰ کریم اور جوائنٹ ٹریژرر کامران احمدسمیت ساتھیوں نے کردار ادا کیا۔ سالانہ تقریب میں تنظیم کے ارکان کے علاوہ کمیونٹی کی اہم شخصیات اور ارکان نے شرکت کی ۔ تقریب کا آغاز فیصل کریم نے آیات قرآنی کی تلاوت کے ساتھ کیا۔حسب روایت علی گڑھ کا ترانہ بھی سب نے مل کر پڑھا۔ شاہین عثمان نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تما مہمانان خصوصی ، شعراءکرام اور شرکاءکو خوش آمدید کہا اور سر سید احمدخان اور علی گڑھ یونیورسٹی کی خدمات پر روشنی ڈالی ۔
علی گڑھ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون پرنسپلنے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ علی گڑھ یونیورسٹی میںنئی نسل کے سٹوڈنٹس آرہے ہیں اور کیپمس آگے بڑھ رہا ہے ، یونیورسٹی کا اپنے سٹوڈنٹس پر فخر ہے
صدر مرزا عرفان بیگ نے صدارتی خطاب کیا اور کہا کہ گذشتہ برس ہمیں کہا گیا کہ انگریزی کی بجائے اردو میں بات کیا کریں ۔انہوں نے شرکاءکا خیر مقدم کیا۔ مرزا عرفان بیگ کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم اپنے مشترکہ سفر پر نظر ڈالتے ہیں تو دل اس لافانی سفر پر شکر سے بھر جاتا ہے اور علی گڑھ یونیورسٹی سے محبت ہمارے رشتے کی مضبوطی کی بنیاد ہے ، علی گڑھ اور سر سید احمد خان مشعل راہ ہے ۔
جنرل سیکرٹری احمد زبیر نے کہا کہ اور سب کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے علی گڑھ المنائی ایسویسی نیویارک کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی اور آئندہ لائحہ عمل بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود ایک پتھر تھا کہ جسے یونیورسٹی نے تراشا۔ انہوں نے المنائی کے سینئر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ہم دس ہزار میل دور ہیں لیکن علی گڑھ ہمارے دلوں میں بستا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں سر سید کے مشن کو آگے سے آگے بڑھانا ہے۔
تقریب میں سر سید احمد خان اور علی گڑھ یونیورسٹی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں سر سید احمد خان کے افکار ، نظریات ، علی گڑھ تحریک اور یونیورسٹی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی گئیں ۔ تزئین بیگ نے مہمان خصوصی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا تعارف کروایا اور انہیں خطاب کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبداللہ علی گڑھ کی روح سے سرشار ہیں ، اردو ان کے دل میں بستی ہے ، اور مشاعرہ ان کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خان ایک عظیم شخصیت گذری ہیں ،سر سید احمد خان نے یو پی میں مسلم سماج کے لئے اپنی زندگی وقف کی اور علی گڑھ تحریک چلائی ، ان کا مقصد یہ تھا کہ قوم کو آگے اور اعلیٰ معیار پر لے جایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک علی گڑھ تحریک اردو ادب کی پہلی تحریک تھی ، کیونکہ سر سید نے اردو نثر کو اس قابل بنایا کہ ہم اس میں روز مرہ کی زندگی کے کام کرسکتے تھے ، کیونکہ اس سے پہلے نثر اتنی کارآمد نہیں تھی۔ انہوں نے سائنٹیفک سوسائٹی کے تحت انگریزی علم کو اردو میں ترجمہ کرکے قوم تک پہنچایا ، سر سید احمد نے ادب کی گرانقدر خدمت کی۔ تاریخ میں انہوں نے دلی کی تمام بلڈنگز پر تحقیق کرکے کتاب لکھی ۔ڈاکٹر عبداللہ نے مزید کہا کہ سر سید احمد خان نے قرآن کی تفسیر اور آئین اکبری کا ترجمہ بھی لکھا۔ سر سید احمد خان اور غالب کے قریبی تعلق تھے۔
خزانچی بشری کریم نے علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن نیویارک کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ہم صرف سر سید کی وراثت کو ہی نہیں منا رہے بلکہ ان اقدار کا بھی پرچار کررہے ہیں کہ جو ہمیں متحد کرتی ہیں
تقریب میں اہم شخصیات کو ایوارڈز پیش کئے گئے۔ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا جبکہ دیگر اہم شخصیات کو بھی ایوارڈز پیش کئے گئے ۔ ریاض علوی نے کوثر نسیم عثمانی کو قابل ستائش خدمات کا ایوارڈ پیش کیا۔
مرزا عرفان بیگ نے قدوس محمد کا تعارف کروایا اور ان کی آرٹ کے شعبے میں خدمات اور تصنیف ”مصنف کا آتش خانہ “ کے بارے شرکاءکو بتایا ۔ بیان کیں۔قدوس محمد نے اپنی کتابیں مرزا عرفان بیگ اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو بھی پیش کیں۔ تقریب میں علی گڑھ میگزین کو بھی ریلیز کیا گیا۔
تقریب کے دوسرے مرحلے میں حمیرا رحمان کی صدارت میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوا جس میں عالمی شعرا ءکرام منظر بھوپالی، عمار اقبال، خوشبیر سنگھ شاد، عنبرین حسیب عنبراور حانا خان نے اپنے مشہور زمانہ اور تازہ کلام پیش کرکے تقریب میں سماں باندھ دیا اور خوب داد وصول کی ۔مشاعرے کی نظامت حسب روایت ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کی ۔آخر میں نہال آغا کی جانب سے تمام شرکاءاور مہمانان خصوصی اور شرکاءکا شکرئیہ ادا کیا گیا۔

By Mohsin Zaheer

NEW YORK: The Aligarh Alumni Association New York (AAANY) hosted its annual Sir Syed Ahmad Day Dinner & Grand International Mushaira, bringing together distinguished guests, community leaders, Aligarh alumni and renowned poets to celebrate the legacy of Sir Syed Ahmad Khan and the educational and literary traditions of Aligarh Muslim University (AMU). The event was held under the presidency of AAANY President Mirza Irfan Baig, with renowned Aligarh alumnus Dr. Abdullah Abdullah attending as the chief guest and keynote speaker. The Grand International Mushaira was presided over by Humaira Rehman and featured acclaimed poets Manzar Bhopali, Amar Iqbal, Khushbir Singh Shaad, Ambreen Haseeb Ambar and Hana Khan.

The program began with the recitation of verses from the Holy Quran by Faisal Karim, followed by a collective rendition of the Aligarh anthem. Shaheen Usmani served as the master of ceremonies, welcoming the guests and highlighting the contributions of Sir Syed Ahmad Khan and Aligarh Muslim University. In her video address, AMU Vice Chancellor Professor Naima Khatoon spoke about the university’s continued progress and the arrival of a new generation of students. She expressed pride in the students and the institution’s development. In his presidential address, Mirza Irfan Baig welcomed the participants and emphasized that the shared love for Aligarh Muslim University remains the foundation of the alumni community’s enduring relationship. He described Sir Syed Ahmad Khan and Aligarh as guiding lights and stressed the importance of preserving their legacy.

AAANY General Secretary Ahmad Zubair presented the association’s performance report and outlined its future plans. Reflecting on his personal journey, he said that Aligarh had helped shape him into the person he had become. He paid tribute to senior alumni and emphasized that, despite being thousands of miles away, Aligarh continues to live in their hearts. He also called for continued efforts to advance Sir Syed’s mission of education and social progress. A documentary highlighting Sir Syed Ahmad Khan’s life, ideas, the Aligarh Movement and the history of Aligarh Muslim University was screened during the event. Introducing the keynote speaker, Tazeen Baig described Dr. Abdullah Abdullah as a passionate admirer of Aligarh’s intellectual and cultural traditions, with a deep affection for Urdu and poetry. In his address, Dr. Abdullah paid tribute to Sir Syed Ahmad Khan, describing him as a visionary who dedicated his life to the advancement of the Muslim community through education, intellectual development and social reform. He highlighted Sir Syed’s role in establishing the Aligarh Movement and promoting modern education. He also emphasized Sir Syed’s contributions to Urdu literature, noting that his efforts helped develop Urdu prose into a more practical medium for communicating knowledge and discussing everyday life. Dr. Abdullah discussed the Scientific Society’s efforts to translate English-language works into Urdu, making modern knowledge accessible to a wider audience. He also referred to Sir Syed’s historical research, religious scholarship, writings on Delhi’s historic buildings, work related to Aaen-e-Akbari and association with the celebrated poet Mirza Ghalib.

The annual ceremony recognized prominent individuals for their achievements and contributions. Dr. Abdullah Abdullah received the Lifetime Achievement Award, while Kausar Naseem Usmani was honored for her commendable services. Her award was presented by Riaz Alvi. AAANY Treasurer Bushra Karim presented the association’s report, emphasizing that the annual gathering celebrates not only Sir Syed’s legacy but also the values that unite the Aligarh community. The Aligarh Magazine was also released during the event. Mirza Irfan Baig introduced Qudus Muhammad, highlighting his contributions to the arts and discussing his book, Musannif Ka Aatish Khana.

The second segment featured the Mushaira, presided over by Humaira Rehman & conducted by Dr. Abdullah. Renowned poets Manzar Bhopali, Amar Iqbal, Khushbir Singh Shaad, Ambreen Haseeb Ambar and Hana Khan presented selections from their celebrated and latest poetry, earning enthusiastic applause and appreciation from the audience. The Mushaira added a vibrant literary dimension to the celebration, highlighting the enduring appeal of Urdu poetry and its role in connecting communities across generations and borders. The event was organized with the efforts of AAANY President Mirza Irfan Baig, VP Shah Shoaib Faizan, General Secretary Ahmad Zubair, Joint Secy. Shiraz Mujtaba, Treasurer Bushra Karim, Joint Treasurer Kamran Ahmed & others.

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے