امیگریشن نیوزبین الاقوامی

ڈیجیٹل دور میں شہری شعور کی بیداری: AAIRE کی ورکشاپ میں ایشین امریکن کمیونٹیز کو بااختیار بنانے پر زور

نیویارک کے تاریخی میئرل الیکشن نے ثابت کر دیا ہے کہ کمیونٹی کی اجتماعی آواز، ایک ووٹ اور مضبوط اتحاد بھی نظام میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے،فرح موزاوالا

نصف سے زیادہ افراد ووٹنگ کے عمل کو سمجھنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں جبکہ 80 فیصد ووٹرز ایسے امیدواروں کو ترجیح دیتے ہیں جو مختلف زبانوں میں انتخابی معلومات فراہم کریں، کلاڈیا چانگ
شرکاءکو آن لائن غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت، انتخابی مہمات کا تنقیدی جائزہ لینے، ووٹنگ کے وسائل سے آگاہی،کمیونٹی ایڈووکیسی کے عملی طریقوں سے بھی روشناس کرایا گیا
تقریب سے علی رشید، کونسل وومین لنڈا لی کے چیف آف سٹاف، اے پی پیک کے سہیل رانا، کئیر نیویارک کی نورہ سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا اور کمیونٹی قائدین کو اہم معلومات اور آگاہی فراہم کی

نیویارک (محسن ظہیر سے )ایشین امریکن انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ انگیجمنٹ (اے اے آئی آر ای ۔AAIRE) کے زیر اہتمام ”ڈیجیٹل دور میں شہری شمولیت اور قیادت کو فروغ دینا“(Building Civic Power in the Digital Age)ے عنوان سے ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں کمیونٹی رہنماو¿ں، سماجی کارکنوں، نوجوانوں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد ایشیائی امریکی اور دیگر تارکین وطن برادریوں کو ڈیجیٹل خواندگی، شہری شعور، انتخابی عمل اور غلط معلومات (مس انفارمیشن) سے نمٹنے کے حوالے سے آگاہ کرنا تھا۔
ورکشاپ کے آغاز میں”اے اے آئی آر ای “(AAIRE)کی بانی فرح موزاوالا نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ لوکل باڈیز الیکشن، خصوصاً نیویارک کے تاریخی میئرل الیکشن نے ثابت کر دیا ہے کہ کمیونٹی کی اجتماعی آواز، ایک ووٹ اور مضبوط اتحاد بھی نظام میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باشعور شہری ہی جمہوری عمل کو مضبوط بناتے ہیں۔
پروگرام ڈائریکٹر کلاڈیا چانگ نے ورکشاپ کے نصاب اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایشین امریکن اور پیسفک آئی لینڈر (AAPI) برادری کو اس وقت تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں تیزی سے بدلتا ہوا ڈیجیٹل سیاسی ماحول، زبان کی رکاوٹیں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات شامل ہیں۔ انہوں نے ”اے اے آئی آر ای “کی لانگ آئی لینڈ میں کی گئی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نصف سے زیادہ افراد ووٹنگ کے عمل کو سمجھنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں جبکہ 80 فیصد ووٹرز ایسے امیدواروں کو ترجیح دیتے ہیں جو مختلف زبانوں میں انتخابی معلومات فراہم کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض سیاسی مہمات میں غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ اور تصویروں میں ردوبدل جیسے حربے بھی استعمال کیے گئے، جن کا مقابلہ صرف ڈیجیٹل شعور اور حقائق کی جانچ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ شرکاءکو امیدواروں کے جائزے کے عملی طریقے سکھائے گئے جبکہ غیرجانبدار ایشین امریکن فیڈریشن بیلٹ بلڈر( Asian American Federation (AAF) Ballot Builder)کا عملی تعارف بھی کرایا گیا تاکہ ووٹرز اپنے مقامی بیلٹ کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکن پاکستانی ایڈووکیسی گروپ (APAG)کے بانی و صدر علی راشد نے کہا کہ ”ڈیجیٹل خواندگی اب صرف ٹیکنالوجی سیکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ہم سب کی ایک بنیادی شہری ذمہ داری بن چکی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ درست معلومات تک رسائی اور ذمہ دارانہ آن لائن رویہ جمہوری معاشرے کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔
نیو یارک سٹی کونسل ممبر لنڈا لی کے چیف آف اسٹاف کیون پاورز نے کوئنز کے علاقے فریش میڈوزمیں AAIRE کے نئے دفتر کے افتتاح پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل تک موثر انداز میں پہنچنے کے لیے پوڈکاسٹ، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔
امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی (APPAC)کے سہیل رانانے شرکاءپر زور دیا کہ امریکہ میں ہر فرد کو اپنی آواز بلند کرنے اور جمہوری عمل میں حصہ لینے کا بھرپور موقع حاصل ہے، اس لیے تارکین وطن کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ اور بہتر نمائندگی کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR-NY) کی نمائندہ نورہ نے ووٹر ٹرن آؤٹ کے حوالے سے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نیویارک سٹی میں تقریباً 10 لاکھ مسلمانوں میں سے صرف ساڑھے تین لاکھ ووٹر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ حالیہ میئرل پرائمری انتخابات میں ان میں سے صرف 23.6 فیصد نے ووٹ کاسٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی تعطیلات، مساجد کی تعمیر اور دیگر کمیونٹی مسائل کے موثر حل کے لیے مسلمانوں کی لوکل بورڈز، کمیونٹی بورڈز اور بلدیاتی سیاست میں فعال شرکت ناگزیر ہے۔
ورکشاپ میں شرکاءکو آن لائن غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی)سے تیار کردہ مواد کی شناخت، انتخابی مہمات کا تنقیدی جائزہ لینے، ووٹنگ کے وسائل سے آگاہی اور کمیونٹی ایڈووکیسی کے عملی طریقوں سے بھی روشناس کرایا گیا۔
اس کامیاب ورکشاپ کے انعقاد میں ایشین امریکن فیڈریشن، اے پی اے وائس ، امریکن مسلم نیٹ ورک، مسلمز فار پروگریس۔ حبیب امریکن بنک ، دی سونی سینٹر، ساؤتھ ایشین کلچر الائنس (SACA) اور سی پی اے محمد مختارسمیت متعدد اداروں نے تعاون کیا۔ تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تعلیم، ڈیجیٹل شعور اور بین المذاہب و بین النسلی اشتراک کے ذریعے تارکین وطن برادریوں کو امریکی جمہوری نظام میں ایک مضبوط، بااعتماد اور موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔

The Asian American Institute for Research and Engagement (AAIRE) successfully organized its “Building Civic Power in the Digital Age” workshop at its regional office, bringing together community members, advocates, and civic leaders for an informative session on digital literacy and civic participation.

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button