پاکستانامیگریشن نیوز

امریکہ کی آبادی ڈیڑھ سال میں 30لاکھ کم ہو گئی

امریکہ کی آبادی میں کمی کی وجہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیاں ،29لاکھ سے زائد امیگرنٹس امریکہ سے ڈیپورٹ یا خود ملک چھوڑ گئے

امریکہ کی آبادی میں کمی کی وجہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیاں ،29لاکھ سے زائد امیگرنٹس امریکہ سے ڈیپورٹ یا خود ملک چھوڑ گئے

نیویارک(محسن ظہیر سے ) دنیا کے بیشتر ممالک میں آبادی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم امریکہ میں حالیہ ڈیڑھ سال کے دوران غیر ملکی نژاد آبادی میں تقریباً 30 لاکھ کی غیر معمولی کمی کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔یہ کمی امریکی شہریوں کی اموات یا کسی قدرتی وجہ سے نہیں بلکہ امیگریشن کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی کے باعث بتائی جا رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں، غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں، ڈیپورٹیشن اور بعض افراد کے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کو اس کمی کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے والے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ ’ریپڈ ریسپانس‘نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری 2025 سے جولائی 2026 کے دوران امریکہ کی غیر ملکی نڑاد آبادی میں تقریباً 29 لاکھ کی کمی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں امریکہ میں آنے والے اور ملک سے جانے والے افراد کے درمیان توازن اس حد تک تبدیل ہوا کہ گزشتہ تقریباً ایک صدی میں پہلی مرتبہ خالص امیگریشن منفی ہونے کی صورتحال سامنے آئی ہے۔
وائٹ ہاو¿س کے پریس آفس نے بھی واشنگٹن ٹائمزکی ایک رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا:” صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ میں تارکین وطن کی آبادی میں تقریباً 30 لاکھ کی کمی ہوئی۔“
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے حامی ایک قدامت پسند امریکی تجزیہ کار نے موجودہ صورتحال کو 1930 کی دہائی کے بعد امیگریشن میں پہلی بڑی کمی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 58 لاکھ سے کم ہو کر ایک کروڑ 35 لاکھ رہ گئی ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق قانونی امیگریشن میں بھی تقریباً 6 لاکھ کی کمی ہوئی، جبکہ پناہ گزینوں اور غیر ملکی طلبہ کی امریکہ آمد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ سے واپس جانے والوں میں صرف 44 فیصد ورکرز تھے، جبکہ غیر قانونی تارکین وطن کی مجموعی آبادی میں ورکرز کا تناسب تقریباً 60 فیصد بتایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں کام کرنے والے افراد کے بجائے ان کے خاندان امریکہ سے واپس گئے یا اپنے آبائی ممالک کو منتقل ہوئے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم افراد کے خلاف گرفتاریوں، حراست، ڈیپورٹیشن اور سرحدی نگرانی سمیت مختلف اقدامات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ قانونی امیگریشن کے بعض شعبوں میں بھی سختی دیکھی جا رہی ہے۔
ان پالیسیوں کے نتیجے میں امریکہ میں مقیم امیگرنٹ کمیونٹیز میں مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ان اقدامات کو ملکی سرحدوں کے تحفظ، غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے اور امیگریشن نظام کو منظم کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔اگر یہ آبادیاتی رجحان برقرار رہتا ہے تو ماہرین کے مطابق اس کے اثرات صرف امیگریشن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکہ کی مجموعی آبادی، لیبر مارکیٹ، معیشت، تعلیمی اداروں اور مختلف ریاستوں کی آبادیاتی ساخت پر بھی پڑ سکتے ہیں ۔

US Foreign-Born Population Drops Nearly 3 Million Amid Trump’s Tough Immigration Policies

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے