ٹرمپ انتظامیہ کا سیاسی پناہ کیسوں کی بعض درخواستیں ،انٹرویو کے بغیر مسترد کرنے کا منصوبہ
امیگریشن افسران کو اختیار حاصل ہوگا کہ اگر انہیں معلوم ہو کہ کسی شخص نے امریکہ آمد کے ایک سال بعد پناہ کی درخواست دائر کی ہے تو وہ انٹرویو کیے بغیر ہی درخواست مسترد کر سکیں گے
سی بی ایس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی اہم دستاویزات کے مطابق ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کی مجوزہ پالیسی کا مقصد امریکی پناہ کے نظام تک رسائی کو مزید محدود کرنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مو¿قف ہے کہ موجودہ نظام میں دھوکہ دہی اور غلط استعمال کے واقعات پائے جاتے ہیں
نیویارک ( اردونیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے امریکہ میں امیگریشن کے قواعد و ضوابط کو سختی سے یقینی بنانے اور انہیں مزید سخت کرنے کا عمل جاری ہے ۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک نئے ضابطے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت امریکی امیگریشن حکام بعض سیاسی پناہ (اسائلم)کی درخواستوں کو درخواست گزار کا انٹرویو کیے بغیر ہی مسترد کر سکیں گے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی اہم دستاویزات کے مطابق ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کی مجوزہ پالیسی کا مقصد امریکی پناہ کے نظام تک رسائی کو مزید محدود کرنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مو¿قف ہے کہ موجودہ نظام میں دھوکہ دہی اور غلط استعمال کے واقعات پائے جاتے ہیں۔
مجوزہ ضابطے کے تحت یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروaسز کے افسران کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اگر انہیں معلوم ہو کہ کسی شخص نے امریکہ آمد کے ایک سال بعد پناہ کی درخواست دائر کی ہے تو وہ انٹرویو کیے بغیر ہی درخواست مسترد کر سکتے ہیں۔دستاویزات کے مطابق مسترد ہونے والے درخواست گزاروں کو بعد ازاں امیگریشن عدالت میں ڈیپورٹیشن کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں انہیں امریکہ میں رہنے کے حق کے لیے قانونی جنگ لڑنا ہوگی۔
امریکی امیگریشن قانون کے مطابق عام طور پر غیر ملکی شہریوں کو امریکہ میں داخلے کے ایک سال کے اندر پناہ کی درخواست دینا ہوتی ہے۔ تاہم اس قانون میں بعض استثنیٰ بھی موجود ہیں، جن میں سنگین طبی مسائل، ناکافی قانونی نمائندگی اور دیگر مخصوص حالات شامل ہیں۔ اسی طرح والدین یا سرپرست کے بغیر آنے والے نابالغ بچوں پر ایک سال کی یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
داخلی دستاویزات کے مطابق اگر USCIS افسران یہ نتیجہ اخذ کریں کہ درخواست گزار ان استثنیٰ کی شرائط پوری کرتا ہے تو اس کی درخواست پر کارروائی جاری رکھی جائے گی اور انٹرویو مقرر کیا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ضابطہ نافذ ہو جاتا ہے تو یہ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسزکی اس دیرینہ پالیسی میں بڑی تبدیلی ہوگی جس کے تحت تقریباً تمام پناہ کے درخواست گزاروں کا انٹرویو کیا جاتا تھا۔نئی پالیسی سے ایسے کیسز کو تیزی سے مسترد کرنے کی راہ ہموار ہوگی جن کے ریکارڈ سے ظاہر ہو کہ درخواست مقررہ ایک سالہ مدت کے اندر دائر نہیں کی گئی۔
US Immigration, Asylum Cases rules, Urdu News USA



