پاکستانخبریں

پاکستان میں عالمی سرمائیہ کاری کےلئے سازگار ماحول بنا دیا ہے ، اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ میں خطاب

نائب وزیر اعظم و وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے جنرل مباحثےسے خطاب

نیویارک ( محسن ظہیر سے ) پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سال 2030 تک صرف پانچ سال باقی ہیں، اور اس وقت صرف 35 فیصد پائیدار ترقی کے اہداف درست سمت میں ہیں۔ عالمی وبا، خوراک، ایندھن اور مالیاتی بحرانوں کے مشترکہ اثرات، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ترقی کے مشکل سے حاصل کردہ ثمرات کو پلٹ دیا ہے اور عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے جنرل مباحثے سے خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ان چیلنجوں کے باوجود، پاکستان 2030 کے ایجنڈے کے حصول کے لیے پوری طرح پ±رعزم ہے۔ ہماری قومی ترقیاتی حکمت عملیاں، جیسے کہ ا±ڑان پاکستان، پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری سماجی تحفظ کی اسکیمیں، جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بینظیر نشوونما (بچوں کی نشوونما کے پروگرام) شامل ہیں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے، ہم نے ڈیجیٹل یوتھ حب کا آغاز کیا ہے اور دانش اسکولوں اور نئی جامعات کے کیمپسز کے ذریعے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسعت دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو بڑھا رہے ہیں، جس میں 2030 تک 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ریچارج پاکستان اور لیونگ انڈس جیسے اقدامات کے ذریعے ہماری مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ہمارا نیا قومی سطح پر مقرر کردہ موسمیاتی وعدہ آخری مراحل میں ہے۔
ہم نے مالیاتی استحکام کے لیے کلیدی معاشی اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مزید سازگار بنایا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ترجیحی شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اگرچہ قومی سطح کی کوششیں اہم ہیں، لیکن یہ تنہا کافی نہیں ہو سکتیں۔ جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے درست طور پر نشاندہی کی ہے، پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ترقی پذیر ممالک کو رعایتی اور گرانٹ پر مبنی وسائل تک وسیع رسائی، بامعنی قرضوں میں ریلیف، اور موسمیاتی فنانس میں اضافہ درکار ہے تاکہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔
وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہکمپرومیسو ڈی سیویل، جو چوتھی عالمی کانفرنس برائے مالیاتی ترقی میں منظور کیا گیا، ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ اس پر عمل درآمد میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
جیسے ہی ہم اقوامِ متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں، سیکرٹری جنرل کا ”یو این 80“ اقدام ہمیں ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اقوامِ متحدہ کے تین ستونوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے بروقت حصول کے لیے اپنی اجتماعی وابستگی کو ازسرنو اجاگر کریں۔

Related Articles

Back to top button