پاکستانکالم و مضامین

عجائبات قاہرہ(مصنف :بشیر قمر)

تحریر : پروفیسر خالدہ ظہور

طلسم خواب ذلیخا و دامِ بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

محترم بشیر قمر اور تسنیم قمر عزیز حامد مدنی کے اس شعر پر پورا اترتے ہیں انہوں نے حضرت یوسف اور زلیخا کا ملک مصر بھی دیکھا اور فرعونوں کے تکبر اور غرور کو ڈبوے والا دریائے نیل بھی اور وہ حیرت انگیز اہرام بھی جن کو مصریوں نے اپنی بہترین انجینئرنگ کیساتھ اسطرح بنایا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی عقل دنگ رہ جاتی ہے یہ اہرام ستاروں اور کہکشاﺅں کی پوزیشن دیکھ کر بنائے گئے ہیں اور ان میں اب بھی کچھ گوشے اور کچھ کمرے یسے بھی ہیں جو اب تک انسانی آنکھ سے پوشیدہ ہیں۔ یہ بلاشبہ انسانی عقل و دانش کا بہترین نمونہ ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح ان شاہکار اہراموں کو دیکھنے آتے ہیں اور اس زمانے کے معماروں کی بصیرت اور تخلیق کی داد دیتے ہیں۔
داد تو ہم بشیر قمر اور ان کی رفیق حیات تسنیم کو بھی دین گے جو اس طلسم ہوش ربا کے اسیر ہوئے اور انہوں نے اس جگہ کا انتخاب کیا اور ماضی کے ا±ن جھروکوں میں جھانکا جس کی فضاﺅں میں تاریخ سانس لیتی ہے اور جس کی مٹی میں عظمتِ رفتہ کے نشان قدم قدم پر پائے جاتے ہیں اور جہاں انسان فانی ہونے کے باوجود اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گیا ہے ورنہ تو بقول میر انیس
انیس دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاﺅ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
اس کتاب عجائباتِ قاہرہ میں قاہرہ کے بارے میں اتنی تففیل اور معلومات ملتی ہیں کہ ہم بشیر قمر کی باریک بینی اور معلومات کے قائل ہو جاتے ہیں مثلاً قاہرہ کا مطلب ہے ”فتح کرنے والا یا غلبہ پانے ولا“اس کو النجم القلب بھی کہا گیا جسکا مطلب ہے آسمان پر چمکنے والا ستارہ اور بقول بشیر قمر ”قاہرہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ وقت کی ایک کتاب ہے جس کا ایک باب ایسا بھی ہے جو الفاظ سے زیادہ احساسات میں پڑھا جاتا ہے“
دنیا کے نقشے پر ہزاروں دارالحکومت ہیں مگر چند ایک ہی ایسے ہیں جو قوموں کی روح بن جاتے ہیں جیسا کہ قاہرہ ہے۔
بشیر قمر نے قاہرہ کی گلیوں، صحراﺅں اور پیرامڈزکے بارے میں اتنی مفصل اور جامع معلومات دی ہیں کہ یہ مستقبل میں مصر جانے والوں کیلئے ایک گائیڈ لائن بن سکتی ہے جو کہ یقیناً ایک بڑی خدمت ہے بقول فیض
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
بشیر قمرنیو یارک سے قاہرہ روانہ ہونے کے بیان میں لکھتے ہیں کہ ”ہم دونوں چپ چاپ اپنی اپنی نشست پر بیٹھے تھے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام رکھے تھے“ بشیر قمر نے جس محبت اور خلوص سے اپنی شریک حیات کا ہاتھ تھاما تھا اس کو ساری عمر نبھایا ہے۔ تسنیم سفر و حفر میں ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتی ہیں
تمہارے ساتھ گذاری ہے زندگی میں نے
تمہارے ساتھ سفر کا پتہ نہیں چلتا
اس پاکیزہ محبت کی تفسیر لکھنے کے لئے تو میرا بائی کا فل چاہیے۔ ہمارے ادیب و شاعر مھبت کی فرضی کہانیاں تو بہت بیان کرتے ہیں مگر گھریلو زندگی میں برتی جانے والی محبت کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ ساتھی مخلص اور پرخلوص ہو تو گھر جو کہ ہماری معاشرتی زندگی کی ایک اکائی ہے جنت بن جاتا ہے اور ایک صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ جس کے اثرات بہت دور رس ہوتے ہیں۔
یہ کتاب ”عجائبات قاہرہ“ یوں تو قاہرہ کی عمارات کے بارے میں ہے مگر اس میں بشیر قمر نے اپنے آپ کو بطور انشا پرداز منوا لیا ہے۔ شستہ اور رواں اسلوب کے علاوہ عبارت کی شاعرانہ خوبصورتی قاری کو بے حد متاثر کرتی ہے ایک جگہ رقم طراز ہیں
”صحرا کی راتوں میں عجیب سی خاموشی ہوتی ہے۔ اس خاموشی جس میں وقت کی سانسیں سنی جا سکتی ہیں۔ سقارہ کے اہرام کے سائے تلے، نیل کی مدھم لہریں چاندنی میں چمک رہی تھیں۔ ا?سمان صاف تھا اور ستارے کسی مقدس تحریر کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔“ (صفحہ 51)
قدرتی مناظر کی دل کشی کا انداز دیکھئے
”میں نے ہوٹل بار سلونا کی کھڑکی کا پردہ سرکایا تو قاہرہ کی ا±جلی صبح میں نہا گیا جو پرندوں کی چہکار اور رب جلیل کی تسبیح و تحلیل سے شروع ہوتی تھی وہ سہانی صبح جو ہوٹل کے کمرے کے باہر، ہوٹل کی بالکونیوں سے گذرتی ہوئی چیزوں پر خوشبو بکھیرتے ہوئے یا ہوٹل کی گھاس میں لگے پھولوں کی خوشبو میں رچ بس جاتی ہوئی محسوس ہوتی تھی اور دل میں ایک نیا جذبہ اور جلترنگ پیدا کرتی تھی“ (صفحہ 53)
ان سطور میں بشیر قمر اتنی مہارت اور خوبصورتی سے قاری کو اپنے تجربے میں شامل کرتے ہیں کہ پورا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
کنگ خوفو کے اہرام کو دیکھتے ہوئے لکھتے ہیں
”ہرطرف ریت بکھری ہوئی تھی سنہری، خاموش اور بے حد قدیم نرم ہوا جب اس سے ٹکرتی تو یوں لگتا جیسے وقت خود سانس لے رہا ہو۔۔۔۔ خوفو کے اہرام کاسایہ ہمارے قدموں تک نہیں بلکہ روح تک پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ صحرا کی ریت نے ہمارے قدموں کے نشانات سنبھالے اور وقت نے ہماری خاموش حیرت کو۔۔۔۔ صدیوں پرانے پتھروں کے درمیان ہم نے وقت کو چلتے نہیں دیکھا، رکتے دیکھا ہے۔ خوفوں کا اہرام اب ہمارے پیچھے رہ گیا ہے مگر ا±س کی چھاﺅں ہماری سوچوں کے ساتھ چلنے لگی۔(صفحہ 55، 59)
بشیر قمر کے نزدیک مصر کے اہراموں کی زیارت ایک روحانی اور جمالیاتی تجربہ ہے یہ صرف چند عمارات کی زیارت نہیں بلکہ فرعونوں کی اپنے خوابوں کو پتھروں میں قید کرنے کی کوشش کا نام ہے یہاں پر بشیر قمر ہمیں ایک صاحب حال صوفی معلوم ہوتے ہیں تحریر کا انداز روحانیت کے اسرار کھولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
” ہم خمیدہ اہرام کے سائے میں کھڑے تھے اور ہمیں اکیلا پن محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ چاروں طرف سے لوگ آر ہے تھے خاموش سوچ میں ڈوبے ہوئے جیسے وہ کسی اہرام کو نہیں بلکہ انسانی غرور کی پہلی غلطی کو دیکھنے ا?ئے ہوں۔۔۔۔ صحرا کی خاموش فضا میں ایک ایسا سکون تھا جیسے کسی درویش کے ہونٹوں پر جاری خاموش ذکر۔۔۔۔ نہ سنا جا سکے۔۔۔ نہ روکا جاسکے۔۔۔۔ یہ اہرام نہیں بلکہ ایک خاموش درسگاہ ہے جہاں خاک غرور کو آہستہ سے جھکنا سکھاتی ہے۔ (صفحہ 78)
افتخار عارف کا شعر ہے
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
عجائباتِ قاہرہ کے بارے میں لکھتے ہوئے بشیر قمر کی انشا پردازی کے جوہر کتاب میں ہر صفحے پر کھلتے نظر آتے ہیں چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کیلئے وہ ایک شاعر کی حیات اور لطافت و نزاکت رکھتے ہیں جس نے اس کتاب کو بہت اہم اور پرلطف بنا دیا ہے۔
محترم بشیر قمر ایک ادیب، صحافی اور مقرر ہونے کیساتھ ساتھ پاکستانی کمیونٹی کا سرمایہ ہیں ان کی اپنے ہم وطنوں کے لئے بے شمار سماجی خدمات ہیں جو وہ بغیر کسی ذاتی مفاد اور طمع و لالچ کے انجام دیتے رہے ہیں ایسے بے لوث اور مخلص افراد کی ہماری کمیونٹی کو بہت ضرورت ہے۔ ہم ان کی صحت اور درازی عمر کے لئے دعا گو ہیں اور اس کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button