پاکستان

سیاسی پناہ کیسوں میں جعل سازی ،امیگریشن حکام کا بڑی گرفتاری کا اعلان

Colombian National Pleads Guilty to Orchestrating Scheme to Submit Fraudulent Asylum Applications

کولمبیا سے تعلق رکھنے والے کارلوس نے امیگریشن دستاویزات میں جھوٹے بیانات دینے میں معاونت اور فراڈ کی، ہر الزام کے تحت اسے 10 سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے

نیویارک ( اردونیوز) یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس ۔USCIS) کی معاونت سے ایک اہم تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 62 سالہ کارلوس اڈولفو ہیکرمن کاردیناس، جو کولمبیا کا شہری اور ڈورل، فلوریڈا میں مقیم ہے، نے درجنوں جھوٹی اور جعلی پناہ گزین درخواستیں جمع کرانے کی اسکیم چلائی۔وفاقی عدالت میں ہیکرمن نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ امریکی اٹارنی آفس برائے نادرن ڈسٹرکٹ آف کیلیفورنیا کے مطابق، اس پر چار سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں امیگریشن دستاویزات میں جھوٹے بیانات دینے میں معاونت اور فراڈ شامل ہیں۔ ہر الزام کے تحت اسے 10 سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
تحقیقات کے دوران ہیکرمن نے تسلیم کیا کہ اس نے کولمبیا اور بعد میں امریکہ میں ایک کاروبار قائم کیا تھا جہاں وہ کولمبین شہریوں سے ویزا اور پناہ گزین درخواستوں کے عمل میں رہنمائی کے نام پر رقم لیتا تھا۔ وہ اپنے کلائنٹس کو یہ بھی سکھاتا تھا کہ کس طرح انٹرویو میں جھوٹ بول کر یا درخواستوں میں غلط بیانات دے کر امریکی امیگریشن افسران کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔
ہیکرمن اکثر ویزا درخواست گزاروں کو مشورہ دیتا تھا کہ وہ کولمبیا میں اپنے کاروباری یا پیشہ ورانہ حیثیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں تاکہ افسران یہ سمجھیں کہ وہ امریکہ میں قیام کے بعد واپس کولمبیا چلے جائیں گے۔ اسی طرح، پناہ گزین درخواست گزاروں کے لیے وہ جھوٹی کہانیاں گھڑتا تھا اور ان میں سیاسی جبر و ظلم کی داستانیں شامل کرتا تھا تاکہ ان کی پناہ کی درخواستیں کامیاب ہو سکیں۔
چار الزامات ان درخواستوں سے متعلق ہیں جو نومبر 2019 سے مئی 2020 کے دوران جمع کرائی گئیں۔ ان تمام درخواستوں میں ایک ہی جھوٹی کہانی استعمال کی گئی جسے ہیکرمن نے محض معمولی تبدیلیوں کے ساتھ بار بار دہرایا۔
امریکی اٹارنی کریگ ایچ. میساکیان اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈپلومیٹک سکیورٹی سروس کے چیف جیف روسینیک نے اس مقدمے کی تفصیلات جاری کیں۔ ہیکرمن کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جبکہ اس کی سزا کا فیصلہ 5 نومبر کو وفاقی جج ونس چھابریا سنائیں گے۔

Related Articles

Back to top button