امریکا،میکسیکو سرحد پر غیر قانونی داخلے 1970 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے
Illegal crossings at U.S.-Mexico border drop to lowest level since 1970, FY2025 sees 238,000 cases
مالی سال 2025 میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والوں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 38 ہزار رہی، جو 1970 کی دہائی کے اوائل کے بعد سب سے کم ریکارڈ ہے
واشنگٹن (اردو نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت سرحدی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکا،میکسیکو سرحد پر غیر قانونی داخلے گزشتہ 50 برسوں میں سب سے کم سطح پر آگئے ہیں۔ داخلی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والوں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 38 ہزار رہی، جو 1970 کی دہائی کے اوائل کے بعد سب سے کم ریکارڈ ہے۔سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات نے غیر قانونی امیگریشن میں غیر معمولی کمی لا کر ایک “تاریخی کامیابی” حاصل کی ہے۔ اس کے برعکس صدر جو بائیڈن کے دور میں مالی سال 2022 میں ریکارڈ 22 لاکھ سے زائد گرفتاریوں کے ساتھ امریکا-میکسیکو سرحد کو ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بائیڈن کے دورِ حکومت کے آخری تین مہینوں میں 60 فیصد سے زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ صدر ٹرمپ کے اقتدار کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بارڈر پیٹرول نے ہر ماہ اوسطاً 9 ہزار سے بھی کم گرفتاریاں کیں ، یہ وہی تعداد ہے جو بائیڈن دور میں بعض اوقات محض 24 گھنٹوں میں ریکارڈ ہوتی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واضح فرق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سخت اقدامات کے ذریعے غیر قانونی سرحدی داخلوں، منشیات کے کارٹلز اور سیکیورٹی خطرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں، ملک گیر انجنکشنز، امیگریشن پالیسیوں اور دیگر امور پر ٹرمپ کے حق میں فیصلے دئیے۔
Illegal crossings at U.S.-Mexico border drop to lowest level since 1970, FY2025 sees 238,000 cases



