اوورسیز پاکستانیزامیگریشن نیوزخبریں

نیویارک سٹی کی فیڈرل گورنمنٹ کی امریکی شہروں میں فوجی تعیناتی پالیسی کی مخالفت

City of New York Takes New Action Opposing Federal Government’s Military Deployment in American Cities

نیو یارک سٹی نے ملک بھر کے 74 شہروں اور کاؤنٹیز کے اتحاد کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے خلاف اوریگون کے کیس کی حمایت کی ہے

نیو یارک (اردو نیوز) نیو یارک سٹی نے ملک بھر کے 74 شہروں اور کاؤنٹیز کے اتحاد کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے خلاف اوریگون کے کیس کی حمایت کی ہے۔ یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے ستمبر 2025 میں نیشنل گارڈ کے فوجیوں کو پورٹ لینڈ، اوریگون میں مظاہروں کے دوران تعینات کیا۔وفاقی عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہ تعیناتی غیر قانونی ہے، کیونکہ اس کے لیے کوئی واضح وجہ یا قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ اب نیو یارک اور دیگر شہروں نے عدالتِ اپیل میں بریف جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو مقامی شہروں میں نیشنل گارڈ بھیجنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، جب تک کہ کوئی حقیقی ہنگامی صورتحال نہ ہو۔

نیو یارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز نے کہا کہ:ہمارے شہر میں جرائم کی شرح پہلے ہی کم ہو رہی ہے اور عوامی حفاظت بہتر ہو رہی ہے۔ ہمیں وفاقی حکومت کی طرف سے اپنی حدود میں نیشنل گارڈ تعینات کرنے کی ضرورت نہیں۔کارپوریشن کے وکیل موریل گوڈ ٹروفنٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ شہروں کو فوجی تربیتی میدان کی طرح استعمال کر رہے ہیں، جو مقامی امن و امان اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اتحاد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نیشنل گارڈ کی تعیناتی سے مقامی معیشت متاثر ہوتی ہے، کاروبار گاہک کھو دیتے ہیں اور ٹیکس دہندگان کو بھاری بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر صرف لاس اینجلس میں اس پر 134 ملین ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ اوریگون میں کم از کم 10 ملین ڈالر لگے۔یہ بریف امریکی اپیل کورٹ (نائنتھ سرکٹ) میں جمع کرایا گیا ہے اور اس میں درخواست کی گئی ہے کہ نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا جائے، تاکہ وفاقی حکومت مقامی حکومتوں کی خودمختاری میں مداخلت نہ کرے۔

City of New York Takes New Action Opposing Federal Government’s Military Deployment in American Cities

Related Articles

Back to top button