نیویارک ریاست میں آٹو انشورنس کے بڑھتے ہوئے نرخ محنت کش(ورکنگ کلاس) طبقے،امیگرنٹس کمیونٹیز، چھوٹے کاروباروں اور ڈلیوری ڈرائیورز کے لیے ایک سنگین معاشی مسئلہ بن چکے ہیں
سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹسرپورٹ کے مطابق، نیویارک میں مکمل کوریج آٹو انشورنس کی اوسط سالانہ لاگت چار ہزار ڈالرسے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ قومی اوسط تقریباً دو ہزار چار سو ڈالرہے
نیویارک (محسن ظہیر) سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس نے اپنی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نیویارک ریاست میں آٹو انشورنس کے بڑھتے ہوئے نرخ محنت کش(ورکنگ کلاس) طبقے،امیگرنٹس کمیونٹیز، چھوٹے کاروباروں اور ڈلیوری ڈرائیورز کے لیے ایک سنگین معاشی مسئلہ بن چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں مکمل کوریج آٹو انشورنس کی اوسط سالانہ لاگت چار ہزار ڈالرسے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ قومی اوسط تقریباً دو ہزار چار سو ڈالرہے۔ کم آمدنی والے اور تارکینِ وطن خاندانوں کے لیے صرف بنیادی انشورنس پالیسیوں کی لاگت بھی 1700 سے 2700 ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے، جو اکثر ایک ماہ کے کرایے سے بھی زیادہ ہے۔
سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس ( سی اے آر۔CAR)کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں نیویارک میں انشورنس ریٹس میں 13.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو ملک بھر میں چوتھا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ اس کے برعکس قومی اوسط اضافہ صرف سات کے قریب ہے۔
سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس کے ترجمان ہوزے بایونانے کہا:”کار انشورنس اب ایک ایسا ’ٹیکس‘ بن چکا ہے جو محنت کش خاندانوں کو اپنی کمیونٹیوں سے باہر دھکیل رہا ہے۔ جو لوگ دو یا تین ملازمتیں کرتے ہیں، جو ڈلیوری ڈرائیور ہیں، یا وہ والدین جو اپنے بچوں کو اسکول اور خود کو کام پر لے جانے کے لیے کار پر انحصار کرتے ہیں — ان کے لیے ہر ماہ 333 ڈالر انشورنس دینا گویا خوراک اور کرایہ کے درمیان انتخاب بن چکا ہے۔ جب تک ریاست عملی اقدام نہیں کرتی، ہمارے ہمسائے یا تو اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے یا بغیر انشورنس گاڑی چلانے کا خطرہ مول لیں گے۔“
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ **2025 کی پہلی ششماہی میں نیویارک کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں موٹر وہیکل انشورنس کی شرح 8 فیصد بڑھی ، جو عام افراطِ زر اور اجرتوں کے اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اضافے کی وجوہات میں **مرمت کے بڑھتے اخراجات، ٹیرف، اور ماحولیاتی نقصانات شامل ہیں، جب کہ نیویارک کا نظام پہلے ہی بدعنوانی اور فراڈ کے باعث بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوسط 333 ڈالر ماہانہ پریمیم وہی رقم ہے جو بہت سے محنت کش خاندان خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ جب اجرتوں میں اضافہ رک جائے اور کرایہ، بجلی و گروسری کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو کم آمدنی والے خاندانوں، خصوصاً لاطینی، جنوبی ایشیائی، افریقی اور کیریبین نڑاد کمیونٹیز کے لیے انشورنس برقرار رکھنا ناممکن بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی کہانیاں ہیں — وہی لوگ جو نیویارک کی معیشت کا انجن ہیں: چھوٹے کاروباری، کھانے پہنچانے والے ڈرائیور، معمر افراد کی دیکھ بھال کرنے والے ہوم ہیلتھ ایڈز، اور وہ خاندان جو بہتر مستقبل کے خواب لیے نیویارک آئے تھے، مگر اب بڑھتی لاگتوں نے ان کے لیے جینا دوبھر کر دیا ہے۔
سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس نے اپنی تفصیلی رپورٹ ( “Auto Insurance and the Affordability Crisis in New York,” )کے ساتھ حقائق نامہ اور تصاویر بھی جاری کی ہیں تاکہ میڈیا عوام میں اس بحران سے متعلق آگاہی بڑھا سکے۔
Soaring Auto Insurance Costs Push New York’s Working and Immigrant Families Into Financial Crisis



