مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی انجینئرنگ اور نوآبادیاتی بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ قابل مذمت ہے
بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات، جن میں زمینوں پر قبضہ، آبادیاتی تبدیلیاں، نئے ڈومیسائل قوانین اور انتخابی حلقہ بندیوں میں رد و بدل شامل ہیں، عاصم افتخار
نیویارک میں بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ کاروائیوں ، سیاہ قوانین کے نفاذ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے یوم سیاہ کی تقریب
نیو یارک(اردو نیوز)نیویارک میں بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ کاروائیوں ، سیاہ قوانین کے نفاذ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے یوم سیاہ کی تقریب منعقد ہوئی جس میں بھارتی مظالم اور سلامتی کونسل سمیت عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی اور کشمیر کے محکوم عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ یہ تقریب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا موضوع تھا: ”غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی انجینئرنگ اور نوآبادیاتی بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ“
یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرنے والے مقررین نے کشمیری عوام کو ان کی بے مثال قربانیوں، ثابت قدمی اور بھارتی قابض افواج کے خلاف جرات مندانہ مزاحمت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرے اور انہیں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی اجازت دے۔ مقررین نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ا±س وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جاتا۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول کشمیری کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب سے سعود سلطان، محقق اورکے مصنف، اعجاز اے صابر، قانونی مشیر، مقرر اورکے بانی رکن؛ سردار سوار خان،راجہ مختار خان،محمد تاج خان سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔
پاکستان کے قونصل جنرل، عامر احمد اتوزئی نے تقریب کا خیرمقدمی خطاب کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کلیدی خطاب میں کشمیری عوام کے منصفانہ اور جائز مقصد کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازعے کو اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر انسانی حقوق، امن و سلامتی، قانونی حیثیت، اور بین الاقوامی قانون کے وسیع تر تناظر میں مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں اس بات پر مکمل قومی اتفاقِ رائے موجود ہے کہ کشمیری عوام کو ا±ن کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت ، جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے ، دلایا جائے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس امر پر زور دیا کہ اگست 2019 سے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات، جن میں زمینوں پر قبضہ، آبادیاتی تبدیلیاں، نئے ڈومیسائل قوانین اور انتخابی حلقہ بندیوں میں رد و بدل شامل ہیں، دراصل ایک نوآبادیاتی منصوبے کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال میں مماثلت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قبضے کے قانونی نتائج سے متعلق بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی حالیہ مشاورتی رائے جموں و کشمیر کے مسئلے پر بھی لاگو کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کی جابرانہ پالیسیوں کے کشمیریوں کی روزمرہ زندگی، ان کے حقوق اور شناخت پر اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے۔
سفیر عاصم افتخار نے نوجوانوں کو جدید ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کشمیریوں کی جرات و مزاحمت کی کہانی دنیا تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مصنف سعود سلطان کی جرات، دیانت اور سچائی کے عزم کی تعریف کی جو ان کی کتاب سے واضح ہے۔
پاکستان کی مستقل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر تاریخ، احساسات اور مقدر کے رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں — ان کے دل انصاف اور آزادی کے لیے ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: “بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دلوں اور دماغوں کی جنگ ہار دی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر میں کی گئی تقریر نے ایک بار پھر پاکستان کے اصولی مو¿قف اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اس کی پائیدار حمایت کو دوہرایا۔
اپنے خیرمقدمی کلمات میں نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل، عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آج بھی قربانی، عزم اور استقامت کی ایک لازوال داستان رقم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ بندوقیں انہیں جھکا سکی ہیں اور نہ ہی ظلم ان کی آواز کو دبا سکا ہے۔انہوں نے کہا، “آج بھی ہر کشمیری دل سے ایک ہی نعرہ بلند ہوتا ہے: ہم کیا چاہتے ہیں؟ بھارتی ظلم و جبر سے آزادی!”
قونصل جنرل نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے ایک اور ظلم کیا، جس کا مقصد کشمیر کی شناخت مٹانا، آبادیاتی ساخت بدلنا اور زمینوں پر قبضہ کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی اقدام کو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انصاف کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔”
مسٹر سعود سلطان، جو کیمبرج سے وابستہ اسکالر اورمصنف ہیں، نے کشمیر کے مسئلے کو نوآبادیاتی تسلط اور تاریخی حقائق کو مٹانے کے تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز کو منظم انداز میں علمی اور تاریخی بیانیے سے خارج کیا گیا ہے، اور جموں قتلِ عام جس میں دو لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوئے — اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کس طرح سچ کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد مذہبی نوعیت سے ماورا ہے یہ خودارادیت اور وقار کے حصول کی تحریک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو نوآبادیاتی جبر، آبادیاتی چالبازیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں سمجھنا چاہیے، اور حقیقی کشمیری بیانیے کے ساتھ فکری و اخلاقی وابستگی کو بحال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
اعجاز اے صابر، جو بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو قانونی فورمز پر اجاگر کرنے والے پہلے کشمیری وکیل ہیں، نے بھارت کے غیر قانونی قبضے پر ایک جامع قانونی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے چوتھے جنیوا کنونشن، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی عہد برائے شہری و سیاسی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی آبادیاتی انجینئرنگ، آبادی کی جبری منتقلی اور جابرانہ حکمرانی بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزیاں ہیں اور واضح طور پر نوآبادیاتی قبضے کے مظاہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اٹھارہ قراردادیں کشمیر کی متنازع حیثیت اور کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی توثیق کرتی ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کو مذہبی عینک سے دیکھنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی ضمیر اور انصاف کے نظام کے لیے ایک اخلاقی و قانونی چیلنج ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اصولی اور پائیدار مو¿قف کو سراہا، جو کشمیری عوام کے ساتھ اس کے اٹل عزم اور انصاف پر یقین کا مظہر ہے۔
بزرگ کشمیری رہنما سردار سوار خان نے 1947 میں جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کی غیر اخلاقی اور غیر قانونی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ، جو برصغیر کی تقسیم کی بنیاد تھا، جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے تھا، کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے۔ انہوں نے بھارتی رہنماو¿ں جواہر لعل نہرو اور سردار پٹیل کی سازشوں اور خفیہ عزائم کو بے نقاب کیا اور بتایا کہ مسلم کانفرنس، جو کشمیری عوام کی نمائندہ جماعت تھی، نے 19 جولائی 1947 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ IIOJK ایک متنازع علاقہ ہے، اس لیے بھارت کی جانب سے 38 قوانین کا نفاذ، جن میں اگست 2019 کے اقدامات بھی شامل ہیں، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کی مسلسل حمایت پر حکومتِ پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یو ایس اے کے ترجمان، راجہ مختار خان نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات سے گریز کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کے حل میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں 80 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی ہے۔
انہوں نے کشمیری کمیونٹی کی جانب سے حکومتِ پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کے حقوق کے دفاع میں پانچ جنگیں لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فعال سفارتکاری اور مو¿ثر وکالت کی بدولت آج بھی کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر زندہ ہے۔
کشمیری کارکن تاج خان نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کی جابرانہ پالیسیوں کے باعث بھارت کا چہرہ دنیا بھر میں بے نقاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں نوآبادیاتی بستیوں کے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے دلوں میں پاکستان کے عوام کے لیے بے پناہ محبت اور احترام موجود ہے اور وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر بھارتی قبضے سے آزاد ہوگا۔
تقریب کے آغاز میں پاکستان کے اقوام متحدہ میں نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون، اور وزیر آصف خان نے کشمیر بلیک ڈے کے موقع پر صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔اس
موقع پر مسٹر سعود سلطان نے اپنی کتاب سفیر عاصم افتخار احمد اور قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کو پیش کی۔



