کالم و مضامینخبریں

ترمیم، وزیر اعظم، جماعت اسلامی، رضی عابدی

جماعت اسلامی لاہور میں طویل عرصے بعد اپنا اجتماع کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک ایسی مذہبی جماعت ہے جو پورے ملک میں اپنی مضبوط جڑیں رکھتی ہے

خصوصی مضمون ۔۔۔ محمد مہدی ( لاہور)

لیو ٹالسٹائی کا ”وار اینڈ پیس“ کے بعد سب سے بہترین ناول ”دی ڈیتھ آف ایوان ایلیچ“ کو قرار دیا جاتا ہے۔ برسوں پہلے جب اس ناول کا مطالعہ کیا تھا تو اس کی کہانی میں ایک ”اپنا پن“ محسوس ہوا تھا۔ ٹالسٹائی ایک جج کی زندگی کے آخری لمحات کو بیان کرتا ہے، ایک ایسے جج کی زندگی کے آخری لمحات کو جو معمولی ”جرائم“ پر بڑی بڑی سزائیں دینے میں معروف تھا۔ اس ناول کی کہانی درحقیقت ”ٹولا“ عدالت میں متعین ایک جج کی زندگی کے سفر کے مکمل ہونے سے قبل کے آخری ایام کی تلخیاں سامنے لاتی ہے۔ ایک ریلوے اسٹیشن پر ٹالسٹائی کو اس جج کے ستائے پابہ زنجیر مرد و زن مل گئے تھے تو ٹالسٹائی نے دوسروں کو اذیت دینے والے کے آخری دنوں کو ضبطِ تحریر میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس جج کے آخری دنوں کی ذہنی کیفیت اور کرب کو محسوس کرتے اور کراتے ہوئے ٹالسٹائی نے اس کے ذہن کو ایسے پڑھا کہ وہ سوچتا تھا کہ ”بندھی ہوئی تمام امیدوں کو توڑنا بہت آسان تھا۔ اس کے لیے صرف گزری یادوں کو دہرا لینا ہی کافی ہوتا ہے۔“ وہ سوچتا کہ اب سے تین مہینے پہلے وہ کیسا تھا اور اب کیا ہے؟ پستی کی طرف گرنے کے عمل میں بھی کس قدر استحکام ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جج پستی کی طرف گرتا ہی کیوں ہے؟ اس کا جواب سیدھا سا ہے کہ جج کی طاقت کسی بندوق کے زور پر نہیں بلکہ اس کے آئین و قانون پر سختی سے عمل پیرا ہونے میں مضمر ہوتی ہے۔
جب جج از خود ہی قانون کی بالادستی کی بجائے اپنے کہے کو حرفِ آخر اور قانون کا درجہ دے رہا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ درحقیقت اس پیڑ کو کاٹنے میں مشغول ہوتا ہے جس کی چھاو¿ں ہی اس کے لیے حقیقی طاقت ہوتی ہے۔ عدل کی ہتھوڑی کی بجائے درخت کاٹنے والے کلہاڑے کا روپ دھار جاتا ہے۔ جب افتخار چوہدری کے روپ میں ”ہم ہی آئین و قانون ہیں“ کا نظریہ ملک میں حاکم بن گیا تو اس وقت ہی صاحبانِ بصیرت کو صاف دکھائی دینے لگا تھا کہ موجودہ نظامِ عدل، عدل فراہم کرنے کی جگہ طاقت کے ایوان کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اب اس شکل میں اس کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہے گا۔ کیونکہ یہ صرف افتخار چوہدری تک محدود نہیں تھا بلکہ بعد میں تو ثاقب نثاریت نے ہر شرم کو بھی اتار پھینکا تھا۔
سول بیوروکریسی کی تذلیل سے لے کر سیاسی نظام کی چولیں تک ہلا دینا ”جسٹ فار فن“ کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ جولائی 2017ءمیں جو شرم ناک کردار اور رویہ خاکی ہلہ شیری پر سامنے آیا اس نے ملک کے پورے سیاسی نظام کو جگہ جگہ سے زخمی کر دیا جس کے زخموں سے ابھی تک خون رس رہا ہے اور نہ جانے کب تک رستا رہے گا۔ پھر اس کا تسلسل بھی چلتا رہا اور اس کا منطقی نتیجہ وہی ہونا تھا جو آج سامنے ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور تصور نے بھی جنم لیا کہ تاحیات استثنیٰ کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ کبھی ہم بھی کمال سے زوال کی طرف جائیں گے اور مقدمات ہمارے بھی منتظر ہوں گے، تو ابھی سے اپنے آپ کو آئینی قلعوں میں محفوظ کرلو۔ حالانکہ جو آئین اپنے آپ کو تین بار بے توقیر ہونے سے نہ بچا سکا، اس کی ایک شق کسی کو کیا تحفظ دے گی؟ اس وقت کے طاقتوروں نے جو کرنا ہوتا ہے وہ کر گزرتے ہیں، کوئی نہ کوئی ”بلیک لا ڈکشنری“ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔
جس طرح جج کی طاقت آئین و قانون میں مضمر ہوتی ہے، اسی طرح سیاست دان کی طاقت آئینی میدان کے ساتھ ساتھ کارکردگی کی کسوٹی پر بھی پرکھی جاتی ہے۔ اور اس وقت حکومت کے سامنے یہی میدان ہے۔ کارکردگی تب ہی معنوی ہوتی ہے جب اس کے ثمرات سے عام آدمی مستفید ہو رہا ہو۔ چند روز قبل کنگ چارلس کی برتھ ڈے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کی بحالی میں برطانوی سفیر جین میریٹ نے بہت کردار ادا کیا ہے۔ پی آئی اے کی بحالی ایک ایسا ہدف ہے جو برسوں سے قومی خزانے پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اسی تقریب میں برطانوی سفیر نے پاکستان اور برطانیہ کے مزید اچھے تعلقات پر بات کی۔ ایسے سفارت کاروں کی پاکستان سے متعلق مثبت سوچ کو مزید استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی افق پر ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جماعت اسلامی لاہور میں طویل عرصے بعد اپنا اجتماع کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک ایسی مذہبی جماعت ہے جو پورے ملک میں اپنی مضبوط جڑیں رکھتی ہے۔ ان کے پاس علم و فکر کی دنیا میں مولانا مودودی جیسے نابغہ کی پہچان موجود ہے جس سے مجھ جیسے بے شمار لوگ متاثر ہوئے۔
جماعت اسلامی ایک راو¿نڈ ٹیبل کانفرنس بھی منعقد کروا رہی ہے جو واقعی اسی جماعت کے بس کی بات ہے۔ جہاں جماعت اسلامی کے اثرات ہیں وہاں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کو اس صورتحال کو سیاسی چیلنج کے طور پر لینا چاہیے تاکہ صحت مند، نظریاتی اور کارکردگی پر مبنی مقابلہ سامنے آئے، گالم گلوچ سے پاک۔
نابغہ کا ذکر آیا تو زبان و ادب کے ایک نابغہ گزشتہ ہفتے ابدی حیات کی طرف منتقل ہو گئے—پروفیسر رضی عابدی، سابق سربراہ شعبہ انگریزی پنجاب یونیورسٹی۔ کرشن نگر لاہور میں رہائش رکھتے تھے۔ والد محترم مظفر اقبال نے مجھے ان کے پاس پڑھنے بھیجا تو اگلے دن میں اپنے دوست، آج کے معروف صحافی عبادالحق کے ساتھ حاضر ہوا۔ فیس کے متعلق پوچھا تو مسکرا کر فرمایا: ”تم دونوں کا روزانہ میرے پاس پڑھنے آنا ہی میری فیس ہے۔“جب بھی ملاقات ہوتی، فرماتے: ”تیرے جیسے کتاب و قلم کے آدمی کا سیاست میں کیا کام؟“
آنکھوں میں آنسو ہیں، ہاتھ لرز رہے ہیں۔ خدا استاد محترم کی قبر پر اپنی رحمتوں کی برسات فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

Back to top button