بین الاقوامیکالم و مضامین

پاکستان کے آئندہ الیکشن میں کوئی فارم47جیسی انگلی نہیں اٹھنی چاہئیے

خصوصی مضمون ۔۔۔ محمد مہد ی ، لاہور

کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنان پھر سپورٹر اور پھر ووٹر ہوتے ہیں اور جماعت کو ان ہی اپنے لوگوں کو اپنے سے منسلک رکھنا ہوتا ہے مگر سوشل میڈیا کے چلن کی وجہ سے یہ نظام تتر بتر ہو رہا ہے

اگر ہم غور کرے تو وقت کی رفتار بہت برق رفتار ہوتی ہے۔ ابھی کل کی ہی بات محسوس ہوتی ہے کہ وہ جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے تین برس گزر گئے۔ بالکل اسی طرح اگلے تین برس بھی پر لگا کر بیت جائینگے اور اگلے عام انتخابات سامنے کھڑے ہونگے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے شاید اس ہی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے عام انتخابات بھی شاندار کارکردگی پر جیت لیں گے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی حالت کو دیکھتے ہوئے کسی افہام و تفہیم کے تحت اگلے عام انتخابات کا انعقاد ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہا ہے اور اس وجہ سے انتخابات میں کامیابی کو انتخاب ہارنے والی جماعت کبھی تسلیم نہیں کریں گی۔
اس صورت حال میں ضروری ہے کہ انتخابات اتنے واضح انداز میں جیتا جائے کہ چاہے مخالفین کچھ بھی پروپیگنڈہ کرتے رہے مگر غیر جانبدار نظر میں کامیابی پر کوئی انگلی نہ اٹھائی جا سکے۔ ایسا کیسے ممکن ہے ؟ یہ سوال اگلے سیاسی استحکام کے لئے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ سیاسی جماعت اپنی مو¿ثر موجودگی سے ہی اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ اس کی کامیابی ہر شک و شبہ سے بالا تر ہو۔ مسلم لیگ (ن) نے ماضی میں ہر صوبے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا اور اب بھی اس ہی کیفیت کو حاصل کرنا سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس حوالے سے توجہ کم ہے کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں اپنی موجودگی کے احساس کو پختہ کیا جائے ۔
ماضی میں مسلم لیگ (ن) کراچی تک سے نشستیں حاصل کرتی رہی۔ اور اس ہی سبب سے جب جنرل مشرف نے 1999 میں آئین کو پامال کیا تو جو لوگ آئین کی اس بے حرمتی پر متحرک نظر آئیں ،ان میں کراچی کے افراد سر فہرست نظر آئینگے۔ ممنون حسین ، مشاہد اللہ خان ، نہال ہاشمی ، خواجہ طارق نذیر ، سلیم ضیائ، منور رضا وغیرہ۔ یہ افراد مشرف کی آمریت کے زمانے میں ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کرتے رہے ، ان دنوں میں ، میں مسلم لیگ ن کے خارجہ امور کے شعبہ کا جس کو پہلی بار مسلم لیگ ن میں قائم کیا گیا تھا، کا مرکزی کوارڈینیٹر تھا اور پارٹی میں کوئی دوسرا سرے سے موجود نہیں تھا جو کہ اس شعبے میں کام کر رہا ہو۔ اسلام آباد کے بعد لاہور اور کراچی میں ہی سفارتی مشن موجود ہیں تو اس سبب سے میرا ان شہروں میں جانا ہوتا تھا اور مو¿خر الذکر افراد سے کراچی میں ضرور ملاقات ہوتی تھی۔ کیوں کہ یہ مسلم لیگ (ن) کا چہرہ تھے اور اگر مسلم لیگ ن یہ چاہتی ہے کہ اس کی کراچی میں موجودگی کا احساس قائم ہو سکے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان ہی لوگوں پر اعتبار کیا جائے جو کہ مشرف دور میں اپنا اعتبار قائم کر چکے ہیں۔
ورنہ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ ایک صاحب کہ جن کا کوئی تعلق مسلم لیگ ن سے نہیں تھا کو دیکھتے ہی ،دیکھتے ان لوگوں کی موجودگی میں گورنر سندھ تک کے منصب پر فائز کر دیا گیا مگر جیسے ہی ان کو یہ محسوس ہوا کہ اب مسلم لیگ ن میں ان کیلئے جگہ نہیں ہے تو وہ آج کل سب سے بڑے نقاد مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کے بنے ہوئے ہیں۔
اب دوبارہ سے گورنر سندھ کی تبدیلی کی خبریں گردش کر رہی ہے اور اگر یہ سچ ہے تو مسلم لیگ (ن) کے پاس اپنی پوزیشن کراچی اور سندھ میں بہتر کرنے کا ایک موقع دستیاب ہو رہا ہے۔ ماضی کے ان افراد میں سے بعض تو دنیا سے رخت سفر باندھ چکے ہیں مگر جو موجود ہیں اگر ان میں سے کسی کو اس منصب پر نصب کر دیا جائے تو وہاں کے کارکنان میں ایک حوصلے کی کیفیت پیدا ہوگی اور اس بات کی بھی ضمانت ہوگی کہ جب یہ اس منصب سے علیحدہ ہونگے تو قیادت کے خلاف اپنی زبان کے جوہر نہیں دکھائینگے جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے۔
اسی طرح سے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں بھی ان لوگوں کو از سر نو متحرک کرنے کی ضرورت ہے کہ جو ہر سردو گرم میں پارٹی کے ساتھ منسلک رہے حالاں کہ ان کے پاس دوسری طرف سے آفرز بھی موجود تھی۔ مسلم لیگ ن کی مخالف سیاسی جماعت کی ساری سیاست ہی سوشل میڈیا کے گرد گھومتی ہے مگر ایک حقیقی معنوں میں سیاسی جماعت ہونے کے سبب سے مسلم لیگ ن کا نا تو یہ طریقہ کار ماضی میں رہا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کامیاب رہیں گا۔
کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنان پھر سپورٹر اور پھر ووٹر ہوتے ہیں اور جماعت کو ان ہی اپنے لوگوں کو اپنے سے منسلک رکھنا ہوتا ہے مگر سوشل میڈیا کے چلن کی وجہ سے یہ نظام تتر بتر ہو رہا ہے اور اس کا نقصان مسلم لیگ (ن) کو پہنچ سکتا ہے مثال کے طور پر جب محترمہ مریم نواز صاحبہ نیب پیشی پر آئی تھی تو مسلم لیگ ن کے کارکنان جہانزیب اعوان ، ملک عمران ، حافظ عبد الرحیم وغیرہ تشدد کا سامنا کرتے رہے ،ان میں سے کچھ کے تو سر تک پھٹ گئے مگر سوشل میڈیا کی وجہ سے محسوس یہ ہوا کہ بس چند یوٹیوبرز نے ساری تکلیف برداشت کی جو کہ موقع پر موجود بھی نہیں تھے۔
اس میں کسی شک کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو زمین پر بہت حمایت حاصل ہے مگر یہ بہت ضروری ہے کہ اس حمایت کو متحرک کرنے کیلئے حقیقی کارکنان کو متحرک کیا جائے اور جس بھی قدم سے انکا حوصلہ بڑھایا جا سکتا ہے بڑھایا جائے تا کہ اگلے انتخابات میں کوئی فارم 47 جیسا لغو پروپیگنڈہ کرنے کے قبل بھی نہ ہو ۔

Related Articles

Back to top button